Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلم نوجوان نسل کو آوارہ گردی سے بچانا وقت کا تقاضہ

مسلم نوجوان نسل کو آوارہ گردی سے بچانا وقت کا تقاضہ

شہر میں معمولی معمولی باتوں پر جھگڑے ، چاقوزنی، قتل کے واقعات قوم کیلئے لمحہ فکر
محمد مبشر الدین خرم
حیدرآباد۔/9مارچ۔ نوجوان قوم کا اثاثہ ہوتے ہیں اور جس قوم کے نوجوانوں میں بگاڑ پیدا ہوجائے وہ قوم تباہی کے راستہ پر چل پڑتی ہے۔ نوجوانوں کی اخلاقی تربیت صرف والدین، علماء یا اساتذہ کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ خود نوجوانوں میں بھی اس بات کا احساس پیدا ہونا ضروری ہے کہ وہ کس راہ پر گامزن ہیں، اور اس کے کیا نتائج برآمد ہوں گے۔ علماء، والدین، سرپرست اور اساتذہ کے ساتھ حکومت پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نوجوان نسل کی بربادی کو روکنے اور ان کے اخلاق و کردار کو بہتر بنانے کیلئے انہیں مواقع فراہم کرے۔ شہر حیدرآباد میں حالیہ دنوں میں جو واقعات پیش آئے ہیں انہیں دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نوجوان نسل بالخصوص مسلم نوجوان جنگل کے آوارہ درختوں کی طرح پروان چڑھ رہے ہیں جنہیں اس بات کا احساس ہی نہیں ہے کہ وہ کس ڈگر پر اور کس سمت رواں ہیں۔ ملک بھر میں مذہبی تنظیمیں و قیادت کی جانب سے  شام و عراق میں بڑھ رہی دہشت گردی سے نوجوانوںکو متاثر ہونے سے بچانے کی مہم چلائی جارہی ہے لیکن شہر و ریاست میں مذہبی و سیاسی قیادت نوجوانوں کی بے راہ روی سے خود کو انجان بنائے رکھے ہوئے ہے جبکہ نوجوانوں میں پھیل رہی بے راہ روی نہ صرف والدین، خاندان، محلہ یا سماج کے لئے تباہ کن ہے بلکہ اخلاق و کردار میں آرہی گراوٹ اس دہشت گردی سے زیادہ خطرناک ہے جس کے تدارک کیلئے سمینار، جلسے و اجلاس منعقد کئے جارہے ہیں۔

 

دوسری جنگ عظیم کے بعد فرانس کے صدر نے شکست پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ ہمارے نوجوان کردار سے عاری ہوچکے ہیں اس لئے ہمیں جنگ سے دوچار ہونا پڑا ‘‘۔ اخلاق و کردار ہی ہیں جو انسانی نسل کا سب سے  قیمتی اثاثہ ہیں، جب کوئی قوم اخلاق سے محروم ہوجاتی ہے تو کوئی طاقت اسے ترقی سے ہمکنار نہیں کرسکتی۔ گزشتہ دنوں سکندرآباد میں پیش آئے قتل کے واقعہ میں گرفتار شدہ نوجوانوں کو دیکھنے کے بعد کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ کم عمر نوجوان قاتل ہوسکتے ہیں، لیکن جب اخلاقی گراوٹ کا کوئی شکار ہوجائے تو عمر کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ اسی طرح گزشتہ یوم پرانے شہر میں ڈی ایس سی کے طلبہ کو پولیس نے گرفتار کیا جو گاڑیوں کے سرقہ میں ملوث پائے گئے اور وہ ان گاڑیوں کو فروخت کرتے ہوئے پُرتعیش زندگی گزاررہے تھے لیکن کیا ان کے والدین یا سرپرستوں کو ان لڑکوں کی فکر نہیں تھی یا پھر وہ ان کی حرکتوں سے ناآشنا تھے۔ سال گزشتہ ’’ اسٹریٹ فائٹر ‘‘ میں ایک نوجوان کی موت کے بعد پولیس نے چبوترہ مشن شروع کرتے ہوئے نوجوانوں میں سدھار لانے کی کوشش کی لیکن یہ کوشش بھی شاید رائیگاں ثابت ہوچکی ہے چونکہ جن علاقوں میں سب سے زیادہ چبوترہ مشن چلایا گیا ان علاقوں کے نوجوان ہی مذکورہ قتل و سرقہ کے واقعات میں ملوث پائے گئے۔ اولاد کی تربیت کے سنہرے اُصول جو سکھائے گئے ہیں ان پر عمل نہ کرنے کے سبب نوجوان نسل میں بگاڑ پیدا ہورہا ہے اور اس کی بڑی ذمہ داری مذہبی، سیاسی قیادت پر بھی عائد ہوتی ہے کیونکہ ان برائیوں کو دیکھتے ہوئے انہیں نظرانداز کیا جانا، قوم کی تباہی پر خاموشی اختیار کرنے کے مترادف ہے۔ داعش کی دہشت گردی قوم کو بدنام کررہی ہے لیکن ہمارے نوجوانوں کی سرگرمیاں قوم کو شرمسار کرنے کے علاوہ معاشرتی زندگیوں کو تباہ کرنے کا موجب بن سکتی ہیں۔ حکومت کو فوری طور پر اخلاقی  بگاڑ کو روکنے کیلئے نصاب میں اخلاقیات سے متعلق کتب شامل کرنے کے علاوہ دیگر سخت گیر اقدامات کرنے چاہیئے۔ اگر حکومت اس طرح کے واقعات کو نظرانداز کرتے ہوئے صرف فلاحی منصوبوں کے اعلان تک محدود رہتی ہے تو اس کے مہلک نتائج برآمد ہونے کا اندیشہ ہے۔نوجوانوں میں پیدا ہورہے بگاڑ کو روکنے کے لئے انہیں صرف تعلیم نہیں بلکہ ان کی تربیت پر توجہ دینی چاہیئے، ساتھ ہی ساتھ اس بات پر بھی توجہ دینی چاہیئے۔
میوزیکل شو ’نغموں کی ایک شام ‘
حیدرآباد ۔ 9 ۔ مارچ : ( راست ) : حیدرآباد آرٹس اینڈ کلچرل اسوسی ایشن کے زیر اہتمام ایک میوزیکل پروگرام نغموں کی ایک شام 12 مارچ کو شام 6-30 بجے بھارتیہ ودیا بھون پر پیش کیا جائے گا جس میں انٹرنیشنل شہرت یافتہ گلوکار امجد خاں محمد رفیع مرحوم کے گیتوں کے علاوہ مشہور صوفی گیت پیش کریں گے ۔۔

TOPPOPULARRECENT