Sunday , July 22 2018
Home / Top Stories / مسلم نونہالوں کو تعلیم کی طرف توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت

مسلم نونہالوں کو تعلیم کی طرف توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت

عابد علی خاں آئی ہاسپٹل میں اقلیتی اقامتی اسکولس میں داخلہ پر شعوربیداری پروگرام، جناب ظہیرالدین علی خان و دیگر کا خطاب
حیدرآباد۔14اپریل(سیاست نیوز) سب سے بڑا جہاد علم کاحاصل کرنا ہے اور حصول علم لاپرواہ قومیں تاریخ کے اوراق میںگم ہوجاتی ہیں۔ حکومت کی جانب سے تعلیم حاصل کرنے کے ضمن میں ملنے والی مرعات کو غنیمت جان کر مسلمانوں کو علم حاصل کرنے کی جستجو کرنا چاہئے۔ حالات نہایت خراب ہیں ‘ قدیم شہر حیدرآباد میں ناخواندگی کے تناسب میںاضافہ ہوتا جارہا ہے غریب اور معاشی طور پر کمزور مسلمانوں کے بچے تعلیم سے محروم ہورہے ہیں اور معاشرے میںبگاڑ کی سب سے بڑ ی وجہہ بھی تعلیم سے محرومی ہے۔ تلنگانہ اقلیتی رہائشی تعلیمی ادارہ جاتی سوسائٹی میںمفت تعلیم کا موقع مل رہا ہے اور مسلمانو ںکو چاہئے کہ حکومت تلنگانہ کی اس پیشکش سے استفادہ اٹھاتے ہوئے اپنے بچوں کو ٹی ایم آر ای ائی ایس کے اسکولس میںداخلہ دلائیںجو ان کے بہتر مستقبل کی ضمانت ہیں۔آج یہاں عابد علی خان آئی اسپتال کی عمارت میں ادارے سیاست اور فیض عام ٹرسٹ کے زیر اہتمام ٹی ایم آر ای آئی ایس اسکولس میں داخلوں سے متعلق منعقدہ شعور بیداری پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے جنا ب ظہیر الدین علی خان نے ان خیالات کا اظہار کیا۔پروفیسر شوکت علی مرزا‘ ڈاکٹر مخدوم ‘ ڈاکٹر سمیع اللہ خان‘ جناب بشیر الدین فاروقی ریٹائر ڈ محکمہ تعلیم نے بھی خطاب کیا۔تلنگانہ اقلیتی رہائشی تعلیمی ادارجاتی سوسائٹی کے انچارج ڈپٹی سکریٹری محمداعجاز احمد نے ٹی ایم آر ای ائی ایس کے تحت چلائے جانے والے تعلیمی اداروں میں فراہم کی جانے والی سہولتوں اور طلبہ کے تعلیمی معیار پر مشتمل ایک ڈاکیومنٹری فلم پیش کی ۔ جناب رضوان حیدر نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی ۔جناب ظہیرالدین علی خان نے اپنے سلسلے خطاب کو کو جاری رکھتے ہومسلمانوں کے اندر پائے جانے والی ناخواندگی پر تاسف کا اظہار کیااور کہاکہ تعلیم کی طرف مسلم نونہالوں کی توجہہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہو ںنے کہاکہ پرانے شہر میں بڑھتے ناخواندگی کے تناسب کو ختم کرنے کے لئے ایک بہترین حکومت تلنگانہ کی جانب سے ٹی ایم آر ای ائی ایس کی شکل میںہمیںملا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اس موقع سے استفادہ اٹھاتے ہوئے ہمیں علم حاصل کرنا ہوگا ۔ جناب شوکت علی مرزا نے ٹی ایم آر ای ائی ایس کے اسکولس میں پرانے شہر کے نونہالوں کی کم حصہ داری پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہاکہ اس ضمن میں ایک صحیح فکر کی ضرورت ہے ۔ انہو ںنے مزیدکہاکہ حصول علم کے لئے جس طرح کا موقع حکومت تلنگانہ بالخصوص چیف منسٹر کے چندرشیکھر رائو نے مسلم اقلیت کو دیا ہے اس سے استفادہ اٹھانا ضروری ہے۔ ڈاکٹر مخدوم محی الدین نے کہاکہ کارپوریٹ طرز پر ٹی ایم آر ای ائی ایس کے اسکولس قائم کئے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ فی طالب علم ایک لاکھ روپئے کا خرچ سوسائٹی کررہی ہے تاکہ اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والے طلبہ تعلیم سے ہمکنار ہوسکیں ۔ انچارج ڈپٹی سکریٹری محمداعجاز احمد نے کہاکہ ٹی ایم آر ای ائی ایس204اسکولس ہیںاور سب سے زیادہ اسکولس پرانے شہر میں ہیں جس کی تعداد چالیس کے قریب ہے۔ انہوںنے کہاکہ حکومت بالخصوص چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو کی خصوصی دلچسپی کے ساتھٹی ایم آر ای ائی ایس کے اسکولس قائم کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہر قسم کی سہولتیں طلبہ وطالبات کو ہمارے اسکولس میںفراہم کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ قیام وطعام کے علاوہ یونیفارم‘ روزہ مرہ استعمال ہونے والی چیز۔یںبشمول ٹوتھ برش ‘ ٹوتھ پیسٹ کے علاوہ صابن ‘ کہوپرے کاتیل‘ شامپو اور دیگر تمام ضروری چیزیں بچوں کو ہر ماہ فراہم کئے جاتے ہیں۔انہوں نے مزیدکہاکہ ٹی ایم آر ای ائی ایس کے تحت دو انٹرمیڈیٹ کالجس بھی ہیں ۔ پچاس کے قریب طلبہ نے ادارے سیاست اور فیض عام ٹرسٹ کے جانب سے نصب کردہ رجسٹریشن کاونٹر پر اپنے نام درج کرایا۔

TOPPOPULARRECENT