Thursday , September 20 2018
Home / Top Stories / مسلم ووٹوں کا ارتکاز مغربی بنگال میں ممتابنرجی کی کامیابی کا سبب

مسلم ووٹوں کا ارتکاز مغربی بنگال میں ممتابنرجی کی کامیابی کا سبب

کولکتہ 20 مئی (سیاست ڈاٹ کام ) بی جے پی نے دو نشستیں حاصل کرتے ہوئے مغربی بنگال میں داخلہ تو لے لیا ہے لیکن ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتابنرجی نے مغربی بنگال میں مودی لہر کا راستہ روک دیا۔ انہیں مسلم ووٹوں میں 28 فیصد ووٹ کا حصہ حاصل کرنے سے فائدہ پہنچا اور ترنمول کانگریس نے ریاست میں شاندار انتخابی کامیابی حاصل کی ۔ 42 نشستوں میں سے 34 ن

کولکتہ 20 مئی (سیاست ڈاٹ کام ) بی جے پی نے دو نشستیں حاصل کرتے ہوئے مغربی بنگال میں داخلہ تو لے لیا ہے لیکن ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتابنرجی نے مغربی بنگال میں مودی لہر کا راستہ روک دیا۔ انہیں مسلم ووٹوں میں 28 فیصد ووٹ کا حصہ حاصل کرنے سے فائدہ پہنچا اور ترنمول کانگریس نے ریاست میں شاندار انتخابی کامیابی حاصل کی ۔ 42 نشستوں میں سے 34 نشستیں حاصل کیں۔ ووٹوں میں اس کا حصہ.4 39 فیصد تھا ۔ کانگریس کو ووٹوں میں 9 فیصد حصہ کے ساتھ 4 نشستیں حاصل ہوئیں جبکہ آزادی کے بعد اپنے اولین بدتر ین مظاہرہ میں بائیں بازوکی پارٹیوں نے ووٹوں میں 23 فیصد حصہ کے ساتھ صرف دو نشستیں حاصل کیں۔ بی جے پی کا مغربی بنگال میں کوئی مقام نہیں تھا لیکن اس نے 17.06 فیصد ووٹ حاصل کرتے ہوئے دو نشستیں حاصل کیں۔ لوک سبھا انتخابات 2009 میں ووٹوں میں پارٹی کا حصہ 12 فیصد تھا ۔

28 فیصد مسلم ووٹوں نے ممتابنرجی کی مدد کی ۔ مودی کے ساتھ انتخابی مہم کے دوران ان کی زبانی تکرار اور مودی کی تائید یا مخالفت میں ووٹ دینے کے اعلان کی وجہ سے انہیں فائدہ پہنچا۔ جنوبی بنگال اور شمالی بنگال کے کچھ حصوں میں مسلمانوں نے بحیثیت مجموعی ترنمول کانگریس کی تائید کی۔ ممتا کے مخالفین اس بار بی جے پی کے ساتھ تھے ۔ سیاسی تجزیہ نگار ادین بنڈوپدھیائے کے بموجب ووٹوں کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم ووٹوں کے ارتکاز سے ترنمول کانگریس کو زبردست انتخابی کامیابی حاصل ہوئی۔کانگریس نے چار اور بائیں بازو نے دو نشستیں حاصل کی۔ مخالف حکومت جذبات کی وجہ سے کانگریس کو بھی فائدہ پہنچا ۔ 70 کی دہائی سے مسلمان بائیں بازو کی اور اس سے پہلے کانگریس کی تائید کیا کرتے تھے تاہم اس بات ترنمول کانگریس نے تمام مسلم ووٹ حاصل کرلئے ۔ مغربی بنگال حکومت نے ریاست کے 30 ہزار ائمہ کو الاونسس جاری کرتے ہوئے مسلمانوں کے دل جیت لئے تھے ۔ مسلم طلباء کو وظائف اور مسلم نوجوانوں کو روزگار کے مواقع کی فراہمی ایک اور اہم وجہ تھی۔ 42 لوک سبھا نشستوں میں سے 20 نشستوں پر اقلیتی ووٹ فیصلہ کن تھے ۔ صف آرائی کی سیاست سے بائیں بازو کو سب سے زیادہ نقصان ہوا جس نے ممتا۔ مودی زبانی تکرار کے بعد بھی سیاسی صورتحال کا درست اندازا نہیں لگایا تھا حالانکہ 2011 کے اسمبلی انتخابات میں بائیں بازو کو شکست ہوئی تھی۔ بائیں بازو کے ووٹوں کے فیصد میں 12 فیصد کمی آئی اور ان میں اکثریت مسلم ووٹوں کی تھی ۔

TOPPOPULARRECENT