Tuesday , September 25 2018
Home / Top Stories / مسلم پرسنل لاء بورڈ سے مولانا سلمان ندوی کی علحدگی قبول لیکن بابری مسجد پر غلط موقف ناقابل قبول

مسلم پرسنل لاء بورڈ سے مولانا سلمان ندوی کی علحدگی قبول لیکن بابری مسجد پر غلط موقف ناقابل قبول

مسجد پر بورڈ کا اٹل موقف شعائر دین پر مبنی‘ مسجد کی اراضی کی فروخت یا تحفہ ناممکن ‘ طلاق ثلاثہ پر اپوزیشن سے بات چیت ‘ تحفظ شریعت اور اصلاح معاشرہ کو ترجیح ‘سہ روزہ اجلاس کے اختتام پر حیدرآباد اعلامیہ جاری

حیدرآباد۔11فروری (سیاست نیوز) کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ نے مولانا سید سلمان ندوی کے بورڈ کے اخراج کے معاملہ میں انتہائی لچک دار موقف اختیار کرتے ہوئے اجلاس کے دوران اس بات کا اعلان کیا کہ مولانا سلمان ندوی کے بیانات اور بورڈ سے علحدگی کی اطلاعات پر بورڈ نے اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ ان کے اس فیصلہ کو قبول کرتا ہے اور آج سے وہ بورڈ کے رکن باقی نہیں ہیں۔ بورڈکے اجلاس کے آخری دن منعقد ہونے والے اختتامی سیشن کے دوران جناب ظفر یاب جیلانی نے اس فیصلہ سے سیشن میں موجود ارکان کو واقف کروایا ۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ نے سہ روزہ اجلاس کے پہلے دن 9 فبروری کو منعقدہ عاملہ کے اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا تھا کہ ان کے خلاف تادیبی کاروائی کی جائے اور اس سلسلہ میں 4 رکنی کمیٹی کی تشکیل عمل میں لائی گئی تھی جو کہ مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی صدر کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ کی نگرانی میں مولانا سید ارشد مدنی ‘ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اور مولانا سیدولی رحمانی پر مشتمل تھی لیکن آج اتوار کو منعقدہ اختتامی سیشن کے دوران اس کمیٹی کی رپورٹ کا کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا بلکہ یہ کہنے پر اکتفاء کیا گیا کہ کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ نے مولانا سلمان ندوی کے بورڈ سے علحدگی کے فیصلہ کو قبول کرتے ہوئے ان کی رکنیت منسوخ کردی ہے۔پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے بیرسٹر اسد الدین اویسی ‘مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ‘مولانا محمد رحیم الدین انصاری‘ مولانا عمرین‘ جناب کمال فاروقی‘ جناب ظفر یاب جیلانی ‘ مولانا ڈاکٹر یاسین نعمانی اور محترمہ ڈاکٹر اسماء زہرہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران بھی یہ بات کہی کہ مولانا سید سلمان ندوی کی بورڈ سے علحدگی کے فیصلہ کو قبول کیا گیا ہے۔پرسنل لاء بورڈ کی پریس کانفرنس کے دوران مولانا سلمان ندوی کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پرسنل لاء بورڈ اپنی سابقہ قراردادوں پر من و عن قائم ہے اور اپنے اس موقف کا اعادہ کرتا ہے۔ مولانا عمرین نے بتایا کہ سہ روزہ اجلاس کے دوران 400 سے زائد ارکان نے اجلاس میں شرکت کی اور اس اجلاس میں جو ’’ اعلامیہ حیدرآباد‘‘ جاری کیا گیا ہے اس کے مطابق کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ بابری مسجد مسئلہ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا کیونکہ مسجد شعائر دین کا حصہ ہے اور مسجد کی اراضی نہ فروخت کی جا سکتی ہے اور نہ ہی اس اراضی کو کسی کو بطور تحفہ دیا جا سکتا ہے اسی لئے بورڈ نے بابری مسجد کی دوبارہ اسی مقام پر تعمیر تک اپنی جدوجہد کو جاری رکھنے کے علاوہ عدالت میں مؤثر پیروی اور مکمل تیاری کے ساتھ پیروی کو یقینی بنائے گا۔ جناب ظفر یاب جیلانی نے بتایا کہ مولانا سلمان نے بورڈ پر راست الزامات عائد کئے ہیں اور ان کے انٹرویو ز کا مشاہدہ کرنے کے بعد ہی یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ سلمان ندوی کے بیانات کے سبب کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ کے کئی ارکان نے شدید غم کو غصہ کا اظہار کیا اور بورڈ کے موقف سے وہ مسلسل اختلاف کر رہے ہیں

 

اسی لئے ان کے فیصلہ کو قبول کرتے ہوئے ان کی رکنیت کو منسوخ کیا گیا اور اب وہ پرسنل لاء بورڈ کے رکن باقی نہیں رہے۔مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے بورڈ کو یرغمال بنائے جانے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ میں ذمہ دار مدبر علماء اکرام موجود ہیں کوئی عوام نہیں کہ جنہیں یرغمال بنایاجاسکے۔ پریس کانفرنس کے دوران ذمہ داران نے بتایاکہ گذشتہ 3یوم سے جاری اس اجلاس کے آخری سیشن میں ’’ حیدرآباد اعلامیہ‘‘ کو منظور کیا گیا اور اس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ بابری مسجد مقدمہ کی پیروی کو مؤثر بنایا جائے اور بورڈ کو اس بات کی قوی امید ہے کہ عدالت کا فیصلہ بورڈ کے حق میں آئے گا۔ طلاق ثلاثہ بل جو کہ راجیہ سبھا میں پھنسا ہوا ہے اس کے متعلق کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ نے فیصلہ کیا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے ذمہ داران سے ملاقات کے سلسلہ کو مزید تیز کیا جائے تاکہ انہیں مسلمانوں کے موقف سے واقف کروایا جاسکے۔ ذمہ داران نے بتایا کہ بورڈ طلاق ثلاثہ بل کو مسلمانوں کے ساتھ ساتھ آئین کے بھی خلاف تصور کرتا ہے اور اگر طلاق ثلاثہ بل موجودہ شکل میں منظور ہو جاتا ہے تو ایسی صورت میں کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے اسے رکونے کی کوشش کی جائے گی ۔ اعلامیہ حیدرآباد میں بورڈ کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مسلم پرسنل لاء بورڈ کے تحت خدمات انجام دینے والی مختلف کمیٹیوں کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہارکیا گیا۔ بتایاجاتاہے کہ موجودہ حالات میں مسلم پرسنل لاء بورڈ طلاق ثلاثہ‘ بابری مسجد اور اصلاح معاشرہ و تحفظ شریعت پر توجہ مبذو ل کئے ہوئے ہے۔ حیدرآباد اعلامیہ میں اس بات کو بھی منظور ی دی گئی کہ مسلمانوں میں دین بیداری اور انہیں شریعت سے واقف کروانے کے اقدامات کو یقینی بنایا جائے ۔ آثار قدیمہ کے تحت مساجد کی رپورٹ کے سلسلہ میں اعلامیہ میں اس بات کا تذکرہ کیا گیاکہ موجودہ حکومت سے آثار قدیمہ کے سلسلہ میں تیار کردہ اس رپورٹ پر جو کہ مجموعی اعتبار سے مکمل ہو چکی ہے اس رپورٹ اور سفارشا ت پر عمل آوری کی موجودہ حکومت سے توقع نہیں کی جاسکتی اور اسی لئے مسلم پرسنل لاء بورڈ اس رپورٹ کے ذریعہ محکمہ آثار قدیمہ کے تحت مساجد کو از سرنو آباد کے سلسلہ میں جو قانونی کاروائی ممکن ہو سکے گی بورڈ کی جانب سے کی جائے گی۔ اس کے علاوہ اصلاح معاشرہ اور تفہیم شریعت کمیٹیاں ضلع و شہری سطح پر بھی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔پریس کانفرنس کے دوران سہ روزہ اجلاس کی تمام تفصیلات سے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو واقف کروایا اور کہا کہ کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ کسی کے دباؤ یا سازش کا شکار ہوئے بناء متحدہ ہے اور جو بھی حالات پیدا ہوں گے انہیں وہ حل کرنے آگیا ہیؤبورڈ کے ذمہ داروں نے اس موقع پر ملت اسلامیہ کو اتحاد پیداکرنے کی تلقین کی اور کہا کہ اقوام کے مسائل کے حل کے لئے ملت اسلامیہ کے درمیان اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ان ذمہ داروں نے امت مسلمہ سے اپیل کی کہ وہ موجودہ حالات بالخصوص عالمی اور ملکی حالات کے پس منظر میں اس بات کی کوشش کریں کہ ہر قیمت پر ملت کے اتحاد کو باقی رکھیں اور اختلافی مسائل میں اعتدال کا راستہ اختیار کریں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT