Thursday , November 23 2017
Home / ہندوستان / مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کی سازشوں کیخلاف علماء کا انتباہ

مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کی سازشوں کیخلاف علماء کا انتباہ

مودی حکومت کی ناکامیوں کی پردہ پوشی کیلئے یکساں سیول کوڈ پر بحث ، ممبئی میں مجلس مشاورت کااجلاس
ممبئی ۔ 17 اکتوبر ۔ (سیاست ڈاٹ کام ) کل ہند مجلس مشاورت کے بیانر تلے مسلمانوں کے مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے علماء نے تین طلاق اور یکساں سیول کوڈ کے بارے میں لاء کمیشن کی مشاورت کے خلاف آج اپنے سخت احتجاج کا اظہار کیا ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے حال ہی میں لاء کمیشن کی مشاورت کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے نریندر مودی حکومت کی مذمت کی تھی اور یہ الزام عائد کیا تھا کہ وہ یکساں سیول کوڈ کا مسئلہ اُٹھاتے ہوئے اپنی ناکامیوں کی پردہ پوشی کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ ممبئی میں آج منعقد اجلاس کی صدارت دارالعلوم محمدیہ کے صدر مولانا سید محمد خالد اشرف نے کی جس میں کل ہند علماء کونسل کے صدر مولانا ظہیرالدین خاں ، مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد اور جنرل سکریٹری مجتبیٰ فاروقی ، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی عاملہ کمیٹی کے رکن مولانا سید اطہر علی ، آل انڈیا جمعیت اسلامی کے نائب صدر مولانا نصرت ، درگاہ حاجی علی کے امام محمد اسلام ، شیعہ عالم مولانا اصغر امام ، مولانا اصغر حیدری اور دوسروں نے شرکت کی۔ بعد ازاں جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں علماء نے کہاکہ ’’مسلم پرسنل لاء میں کوئی بھی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی ۔ اصلاح معاشرہ یا صنفی مساوات کے نام پر یکساں سیول کوڈ نافذ کرنے کی کوئی بھی کوشش فائدہ کے بجائے نقصان دہ ثابت ہوگی ۔ مولانا سید محمد خالد اشرف نے کہا کہ ’’حکومت کو مسلم پرسنل لاء کو ختم کرنے کی سازشوں کی بجائے مسلمانوں کے اس موقف کا احترام کرنا چاہئے ۔ حکومت ، مسلمانوں کو اپنے عائیلی مسائل کے معاملات میں دیگر طبقات کی تقلید کیلئے مجبور نہیں کرسکتی کیونکہ ایسا کرنا ان ( مسلمانوں ) کے دستوری حقوق میں مداخلت کے مترادف ہوگا‘‘ ۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’تین طلاق کی مخالفت اور کثرت ازدواج پر امتناع کا مطالبہ کرنے والے مسلمانوں کی تعداد بالکل معمولی ہے اور وہ ہندوستانی مسلم برادری کی نمائندگی نہیں کرتے ‘‘ ۔ مولانا ظہیرالدین خاں نے کہاکہ تین طلاق پر امتناع کی کوشش ملک میں یکساں سیول کوڈ نافذ کرنے کی سازش ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم ( لاء کمیشن کے ) سوالنامہ کا بائیکاٹ کریں گے کیونکہ یہ گمراہ کن اور دھوکہ پر مبنی ہے ۔ یکساں سیول کوڈ نفاق و تقسیم پر مبنی ہے جو ملک میں سماجی بے چینی کا سبب بن سکتا ہے ‘‘ ۔ علماء اسوسی ایشن کے صدر سید اطہر علی نے کہا کہ حکومت کو کسی بھی شہری کے مذہب اور اعتقاد میں مداخلت نہیں کرنا چاہئے ۔ انھوں نے کہاکہ مسلمان طلاق ، کثرت ازدواج اور دیگر عائیلی قوانین کو اپنے مذہب کا اٹوٹ حصہ تصور کرتے ہیں چنانچہ ان معاملات میں شرعی قوانین کی مکمل پابندی کرتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT