Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / مسلم پرسنل لا ء بورڈ کے موقف کی تائید کرنے صدر مجلس علماء دکن کا اعلان

مسلم پرسنل لا ء بورڈ کے موقف کی تائید کرنے صدر مجلس علماء دکن کا اعلان

مسلمان شریعت کے تابع ہیں کسی ملک کے نہیں، طلاق ثلاثہ پر حکومت کا اقدام سیکولر کردار کے خلاف،کل جماعتی مشاورتی اجلاس میں قرارداد کی منظوری
حیدرآباد۔16اکٹوبر(سیاست نیوز) حکومت مذہب اسلام کے تئیں مسلمانوں کی حساسیت کو نظر انداز کرتے ہوئے غیر ضروری اقدامات کا سلسلہ جاری رکھتی ہے تو ایسی صورت میں یہ بات ملک کے سیکولر کردار کے خلاف تصور کی جائے گی۔ اس صورتحال سے اقلیتوں کے اطمینان و امن و سکون کی فضاء کو نقصان پہنچے گا اور ملک کی ترقی میں رکاوٹ پیدا ہوگی ان حالات کے لئے راست حکومت ہند ذمہ دار ہوگی۔صدر مجلس علماء دکن نے اس مسئلہ پر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے موقف کی تائید کا اعلان کرتے ہوئے قرار داد منظور کی اور کہا کہ حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں طلاق ثلاثہ اور تعدد ازواج کے سلسلہ میں داخل کردہ حلف نامہ ملک میں یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی سمت پہلا قدم ہے۔ صدر مجلس علماء دکن کے زیر اہتمام کل جماعتی مشاورتی اجلاس کا انعقاد درگاہ حضرت سید شاہ خاموشؒ نامپلی میں منعقد ہوا اس اجلاس نے واضح کردیا کہ لاء کمیشن آف انڈیا کو اس معاملہ میں کوئی اہمیت و وقعت حاصل نہیں ہے۔ اجلاس میں امیر جامعہ نظامیہ مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین حسینی صابری‘ مولانا مفتی عظیم الدین صدر مفتی جامعہ نظامیہ‘ مفکر اسلام مولانا مفتی خلیل احمد شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ‘ مولانا خواجہ شریف شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ‘ مولانا سید محمد صدیق حسینی قادری عارف سجادہ نشین درگاہ حضرت خواجہ محبوب اللہؒ  ‘  مولانا سید شاہ قبول بادشاہ قادری شطاری‘جسٹس شاہ محمد قادری‘ مولانا سید ابراہیم حسینی قادری سجاد پاشاہ (قادری چمن) ‘مولانا حافظ پیر شبیر احمد صدر جمیعۃ علماء ہند‘ مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ ‘ مولانا رحیم الدین انصاری‘ مولانا صفی احمد مدنی‘ مولانا سید ظہیر الدین صوفی‘ مولانا سید اولیاء حسینی مرتضی پاشاہ قادری‘ مولانا سید علی حسینی قادری‘ مولانا سید محمد احمدالحسینی سعید قادری‘ مولانا سید نثار حسین حیدر آقا‘مولانا سید مسعود حسین مجتہدی‘مولانا سید محمد پاشاہ قادری زریں کلاہ‘ مولانا سید ابراہیم قادری فاروق پاشاہ زریں کلاہ‘ جناب سید احمد پاشاہ قادری زریں کلاہ‘مولانا سید آل مصطفی قادری‘ جناب منیر الدین مختار‘ مولانا صوفی عبدالقادر ثانی‘ جناب علی الدین قادری‘ مولانا حافظ انوار احمد‘ جناب مقیت قریشی ایڈوکیٹ کے علاوہ دیگر موجود تھے۔ اجلاس کے اختتام پر منظورہ قرارداد میں اس بات کی وضاحت کر دی گئی کہ مسلمان اس ملک میں شرعی قوانین میں کسی قسم کی مداخلت برداشت نہیں کر سکتے بلکہ وہ اس ملک میں اپنے پورے مذہبی تشخص کے ساتھ زندگی گذاریں گے۔ اجلاس نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومت ملک کے دستوری ڈھانچہ میں کسی قسم کی تبدیلی کے منصوبے سے دستبرداری اختیار کرتے ہوئے ان تمام مذاہب کو آزادی کے ساتھ اپنے مذہبی معاملات کی انجام دہی کا حق برقرار رکھے جو مذاہب کے ماننے والے اس ملک میں رہتے ہیں۔ کل جماعتی مشاورتی اجلاس سے خطاب کے دوران مفتی محمد عظیم الدین نے بتایا کہ شریعت کے اصولوں میں ترمیم کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور ان اصولوں کی تدوین فطرت انسانی کے عین مطابق ہے انہوں نے اس سلسلہ میں ترکہ و نفقہ اور بیٹے کے زندگی میں فوت ہوجانے کی صورت میں پوترے کو ترکہ میں حصہ نہ دیئے جانے کے اصول اور نفقہ کے دادا اور چچا پر لزوم کی مثالیں پیش کیں۔ مولانا نے نبی اکرمﷺکی حدیث مبارکہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’جب کسی معاملہ کو غیر اہل کے سپرد کرتے ہیں تو قیامت کا انتظار کرو‘ ۔ مولانا مفتی خلیل احمد نے اس موقع پر اپنے خطاب کے دوران دو ٹوک انداز میں کہا کہ مذہب یا شریعت پر مباحث کا کسی کو حق حاصل نہیں ہے اور جو مثالیں دی جا رہی ہیں کہ 22مسلم ممالک میں طلاق ثلاثہ پر پابندی عائد کی جا چکی ہے تو اس سے ہندستانی مسلمانوں کو کوئی مطلب نہیں ہے کیونکہ وہ کسی ملک کی اتباع نہیں کرتے بلکہ وہ شریعت کے تابع ہیں۔ مولانا مفتی خلیل احمد نے کہا کہ اسلامی قوانین دو حصوں پر مشتمل ہیں جن میں عبادات اور معاملات شامل ہیں عبادات کا تعلق شخصی ہے جبکہ معاملات فریقین و معاشرتی ہوتے ہیں۔ انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ جو پروپگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ بعض معاملات میں شریعت پر عمل کیا جا رہا ہے اور بعض معاملات میں اسے نظر انداز کیا جا رہا ہے وہ بلکلیہ غلط پروپگنڈہ ہے۔ مولانا مفتی خلیل احمد نے بتایا کہ اسلامی قوانین میں موجود تعزیرات کے معاملہ کا تعلق اسلامی مملکت سے ہے۔ امیر جامعہ مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین نے اس موقع پر اپنے خطاب کے دوران کہا کہ مسلمان مخصوص موضوعات پر شریعت میں مداخلت تصور کرتے ہوئے اٹھتے ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے سابق میں قوانین وقف میں مداخلت کی جا چکی ہے۔انہوں نے ہر وقت چوکنا رہنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شریعت میں مداخلت کی کوشش دراصل عالمی یہودی سازش کا نتیجہ ہے۔ مولانا سید علی اکبر نظام الدین نے بتایا کہ اس مسئلہ کے ساتھ ساتھ اصلاح معاشرہ پر توجہ دی جانی چاہئے تاکہ معاشرے کو برائیوں سے پاک بنایا جا سکے۔انہوں نے قاضی ایکٹ 1880میں قاعدہ نہ بنائے جانے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایکٹ صرف دو دفعات پر مشتمل ہے ۔1971-72میں مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے شہر حیدرآباد کا دورہ کرتے ہوئے ریاست میں موجود نظام قضات کا مشاہدہ کیا تھا۔ انہوں نے مسلم گھرانوں میں دینی تعلیم کو عام کرنے کے لئے بانی ٔ جامعہ نظامیہ کی کتاب اہل خدمات شریعہ کو عام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔جسٹس شاہ محمد قادری اور جناب مقیت قریشی ایڈوکیٹ نے اس مسئلہ پر قانونی پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے شریعت سے واقف وکلاء کے ذریعہ مؤثر پیروی کو نا گزیر قرار دیا۔اجلاس نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومت بنیادی مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کرے اور تعلیمی ترقی و پسماندگی کے خاتمہ کی منصوبہ بندی پر توجہ دے۔مہنگائی پر قابو پانے اور بیروزگاری کے خاتمہ کیلئے لائحہ عمل مرتب کرے ۔حکومت کی جانب سے شریعت اسلامی میں مداخلت کا طریقہ ٔ کار نامناسب ‘ نا عاقبت اندیشانہ اور قوم کو نقصان پہنچانے والا ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT