Monday , April 23 2018
Home / مضامین / مسلم پرسنل لا بورڈ… چیلنجس اور ذمہ داریاں اجارہ داری کا خاتمہ اور مخلص قائدین کی ضرورت

مسلم پرسنل لا بورڈ… چیلنجس اور ذمہ داریاں اجارہ داری کا خاتمہ اور مخلص قائدین کی ضرورت

محمد نصیرالدین
اہلیان حیدرآباد کی یہ خوش قسمتی ہے کہ پھر ایک مرتبہ وہ مسلم پرسنل لا بورڈ کے اہم اجلاس کی میزبانی کر رہے ہیں، ملک بھر سے علماء ، دانشور اور مختلف سماجی سیاسی اور مذہبی اداروں اور انجمنوں کے نمائندے اس اجلاس میں شریک ہورہے ہیں۔ یہ اجلاس ایک ایسے نازک وقت میں منعقد ہورہا ہے جبکہ حکمراں جماعت مذہبی رواداری کی ملکی تاریخ کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے دیدہ دلیری کے ساتھ مسلم پرسنل لا کو ختم کرنے کے درپہ ہے، اتنا ہی نہیں بلکہ ملک کے صدر جمہوریہ نے پارلیمنٹ کے مشترکہ ایوان سے خطاب کرتے ہوئے حق و انصاف کا خون کردیا اور حکمراں جماعت کی پالیسیوں کی تعریف و توصیف کی !! ملک کی تار یخ کا یہ سیاہ باب ہے کہ صدر مملکت نے ملک کی دوسری بڑی اکثریت کے عقیدہ کے خلاف رائے زنی کی ہو۔ یہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں ہے بلکہ حکمراں جماعت کی فاشسٹ ذہنیت اور طویل منصوبہ بندی کا حصہ ہے ۔ یو پی کے نام نہاد مقامی لیڈر کی جانب سے مسلسل زہر افشانی، کچھ نام نہاد مسلم خواتین کی طرف سے طلاق ثلاثہ بل کی تائید ، کیرالا میں ایک خاتون کی جانب سے نماز باجماعت کی امامت ، یو پی میں لاؤڈ اسپیکر پر اذاں دینے پر پابندی یہ وہ واقعات ہیں جو کہ امت مسلمہ کیلئے تشویشناک ہیں اور اس بات کا اشارہ کر رہے ہیں کہ حکمراں جماعت مسلم ملت اور دین و شریعت کی مخالفت میں جارحانہ تیور اپناچکی ہے ، حکمرانی کے زعم اور پارلیمنٹ میں اکثریت کے بھرم سے سرشار وہ اس بات کیلئے کوشاں ہے کہ جلداز جلد مسلم پرسنل لا کو تبدیل کردیا جائے اور یونیفارم سیول کوڈ کے نفاذ کی راہ ہموار کی جائے ۔ یہ وہ حالات ہیں جن کے بیچ حیدرآبادمیں مسلم پرسنل لا بورڈ کا اجلاس منعقد ہورہا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ اجلاس ’’مسلم پرسنل لا‘‘ پر جو سیاہ بادل چھاگئے اُن کو ہٹانے میں کامیاب ہوگا؟ تاریخ اسلام اس بات پر شاہد ہے کہ سخت سے سخت حالات اور مخالفتوں کے طوفانوں میں ایمان اور عقیدہ کی طاقت اور خلوص و للہیت کے ہتھیار نے دشمنوں کو پسپا کردیا اور ان کی چالوں کو ناکام بنادیا اور مسلمانوں کو ہمیشہ کامیابی اور سربلندی سے ہمکنار کیا ، لیکن بدقسمتی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملت اسلامیہ آج اس طاقت کی حامل ہے اور نہ ہی وہ ہتھیار سے لیس ہے ۔ عالم اسلام کے ایک عظیم رہنما مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے ایک اہم حقیقت کو اس طرح بیان کیا ہے ۔ یہ شریعت بزدلوں اور نامردوں کیلئے نہیں اتری ہے ، نفس کے بندوں اور دنیا کے غلاموں کیلئے نہیں اتری ہے ، ہوا کے رخ پر ا ڑنے والے خس و خاشاک اور پانی کے بہاؤ پر بہنے والے حشرات الارض اور ہر رنگ میں رنگ جانے والے بے رنگوں کیلئے نہیں اتری ہے۔ یہ شریعت ان بہادر شیروں کیلئے اتری ہے جو ہوا کا رخ بدل دینے کا عزم رکھتے ہوں، جو دریا کی روانی سے لڑنے اور اس کے بہاؤ کو پھیر دینے کی ہمت رکھتے ہوں جو صبغۃ اللہ کو دنیا کے ہر رنگ سے زیادہ محبوب رکھتے ہوںاور اسی رنگ میں دنیا کو رنگ دینے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔
سابق حکمرانوں کے مقابلہ میں موجودہ حکمرانوں کی اسلام دشمنی کیا کوئی ڈھکی چھپی حقیقت ہے ؟ مسلم دشمنی کے تحت برسہا برس سے مسلم پرسنل لا میں تبدیلی کا مطالبہ کیا کوئی نئی بات ہے ؟ یکساں سیول کوڈ کی باتیں کیا بورڈ کے لئے اجنبی ہیں؟ مخصوص قومی نظریہ کی علمبردار جماعت کا مخالف مسلم رویہ اور اقدامات کیا پہلی مرتبہ سامنے آئے ہیں؟
پھر کیا وجہ ہے کہ بورڈ سے وابستہ نامور علماء ، دانشور اور قائدین مسلم پرسنل لا کی اہمیت اور افادیت سے مخالف عناصر کو، سیاسی پارٹیوں کو، عدلیہ کو ، ملک کے دانشور اور اہل علم کو و نیز پالیسی ساز اداروں اور میڈیا کو واقف اور مطمئن نہیں کراسکے ٗ جب بھی کوئی مسئلہ کھڑا ہوتا ہے تو مسلم پرسنل لا کے ذمہ دار بیانات دیتے ہیں، جلسے کرتے ہیں اور پھر خاموشی اختیار کرلیتے ہیں۔ کم و بیش 25 کروڑ کی ملت کے رہنما، رہبر اور قائدین کا ایمان و عقیدہ سے متعلق مسائل سے نمٹنے کا یہ طریقہ کار صحیح ہوسکتا ہے ؟ مسلم پرسنل لا بورڈ کے رہنماؤں کو خود بورڈ کی کارکردگی اورارکان بورڈ کی سرگرمیوں کا شفافیت کے ساتھ جائزہ لینے کی ضرورت ہے اور اس بات کا بھی محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے کہ بورڈ سیوابستہ افراد کس حد تک بورڈ کی سرگرمیوں اور مقاصد کیلئے سرگرم عمل ہیں اور کتنے افراد ایسے ہیں جو بورڈ سے اپنی وابستگی کو ذاتی یا خود کے ادارہ یا انجمن اور جماعت کے مفادات کی تکمیل کا ذریعہ بنائے ہوئے ہیں۔ ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ مخصوص افراد کی بورڈ پر اجارہ داری کو ختم کیا جائے اور بورڈ کو ان حرکیاتی افراد کے حوالہ کیا جائے جو بورڈ کے امور و معاملات سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ انجام دے سکیں جنہیں ذاتی منفعت ، جماعتی مفاد اورحکومتی مراعات و امداد سے واسطہ نہ ہو ، جن کو شہرت ، ناموری اور مختلف درباروں میں حا ضری سے نفرت ہو، جو دین و ملت کے مفاد کو اپنے ذتی جماعتی اور دیگر مفادات پر ترجیح دیتے ہوں جن کیلئے ا للہ اور اس کے رسولؐ کی رضا اور خوشنودی دنیا و مافیھا سے بہتر ہو۔

دین و شریعت کے خلاف ہورہی چوطرفہ سازشوں اور معاندانہ کوششوں کو محض اجلاس یا جلسوں کے انعقاد سے نا کام نہیں بنایا جاسکتا بلکہ اس کیلئے وسیع تر حکمت عملی اور مؤثر کوششیں ضروری ہیں۔ اس سلسلہ میں بورڈ کے ذمہ داروں کو درج ذیل تجاویز کے سلسلہ میں فوری اقدامات کرنا چاہئے ۔
(1 بورڈ سب سے پہلے ملت کی وسیع تر نمائندگی کو یقینی بنائے جس کیلئے ضروری ہے کہ بورڈ میں بلا تعصب اور ذہنی تحفظ او مرعوبیت کے ملت کے ہر طبقہ اور گروہ ، نامور بیوروکریٹس و صحافی اور مختلف سماجی و ملی شخصیات کو شامل کیا جانا چاہئے ۔
(2 طلاق ثلاثہ ، حقوق نسوان ، یونیفارم سیول کوڈ جیسے امور پر معترقین کے علاوہ برادران و طن کی سماجی و سیاسی با اثر شخصیات اور میڈیا کے ذمہ داروں سے خصوصی ملاقاتوں کا اہتمام کیا جانا چاہئے ۔ ملکی اور ریاستی سطح پر مختلف کمیٹیاں اس سلسلہ میں تشکیل دی جانی چاہئے ۔
(3 ملکی اور ریاستی سطح پر تمام قومی و علاقائی زبانوں میں بورڈ اشاعتی ادارے قائم کرے جس میں مسلم پرسنل لا سے متعلق ابھرنے والے تمام اعتراضات کی وضاحت کیلئے دلنشین انداز میں کتابچے شائع کر کے تقسیم کئے جائیں۔
(4 ملکی و ریاستی سطح پر اسلام پسند وکلاء کی ایک ٹیم تشکیل دی جائے جو عدالتوں میں شریعت کی صحیح نمائندگی کرسکے اور اسلام کا صحیح نقطہ نظر پیش کرسکے۔

(5 مسلم پرسنل لا اور شرعی امور و معاملات کو پرنٹ والکٹرانک میڈیا تک مؤثر انداز میں پہنچانے کیلئے ملکی و ریاستی سطح پر باصلاحیت افراد کے گروپ تشکیل دیئے جائیں۔
(6 مسلم پرسنل لا اور شریعت مطہرہ کی اہمیت اور افادیت سے ملت اسلامیہ کو واقف کروانے اور جذبۂ عمل پیدا کرنے کی غرض سے ملک کی تمام زبانوں میں خطبات جمعہ شائع کئے جائیں اور جمعہ کے دن اس کے ذریعہ عام مسلمانوں کے اندر صحیح علم و شعور بیدار کیا جائے ۔
(7 نئی نسل کواسلام کے نظام رحمت اور احکام شریعہ کی اہمیت و افادیت سے واقف کروانے کی غرض سے منظم انداز میں ہفتہ واری پروگرام کا محلہ واری انعقاد عمل میں لایا جائے جس میں خاص کر انگریزی میڈیم طلباء و طالبات یا دینی تعلیم سے محروم نوجوانوں کو جمع کر کے سلسلہ وار انداز میں شریعت مطہرہ کی اہمیت واضح کی جائے ۔
(8 ملکی و ریاستی سطح پر مذکورہ امور کی مؤثر عمل آوری کیلئے نگرانکار کمیٹیاں تشکیل دی جائیں۔
قوموں اور ملتوں کی تاریخ میں بعض لمحے نہ صرف آزمائشی ہوتے ہیں بلکہ فیصلہ کن اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔ شائد ملت اسلامیہ ہند پرآج سے زیادہ نازک اور سخت وقت کبھی نہیں آیا ایسے میں مسلم پرسنل لا بورڈ کا حیدرآباد اجلاس کے دور رس فیصلے کرتا ہے سب کو اس کا انتظار ہے ۔ تاہم مسلم پرسنل لا کی بقاء اور حفاظت کیلئے ملت کے ہر فرد کو بیدار ہونے کی ضرورت ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ملت کا ہر باشعور و باصلاحیت فرد اپنے اپنے طور پر حسب موقع اور استعداد اپنے وقت اور صلاحیت کو لگائیں اور مسلمانوں میں شعور بیداری کا کام کریں تو دوسری طرف معترقین کے سامنے اسلام کے پیغام رحمت کو پیش کریں۔ مادی مسابقت نے فی زمانہ امت کو دینی تعلیمات سے دور کر دیا ہے، اگر نئی نسل کو شریعت سے ہم آہنگ نہیں کیا گیا تو وہ دن دور نہیں جب ملت میں کئی ایک رضوی و نقوی پیدا ہوں گے اور ’’اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے ‘‘ کے مثل ملت اسلامیہ کی زندگیوں سے شریعت بے دخل ہوجائے گی۔ عالم اسلام کے معروف دانشور جناب اسعد گیلانی نے دین و شریعت کی اہمیت افادیت اور حفاظت کے سلسلہ میں بڑی معرکتہ الآراء باتیں ارشاد فرمائی ہیں۔

اللہ کے دین کی اقامت اور اسلامی نظام کے نفاذ کے بغیر اور اس راہ میں جان و مال کی قربانی کے علاوہ اگر کوئی مومن جنت کیلئے کوئی اور آسان راہ سمجھتا ہے تو وہ قربانی کے علاوہ راہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ نہیں ہے۔ وہ صحابہؓ کرام کی راہ نہیں ہے بلکہ وہ دھوکہ و فریب کی راہ ہے۔ مومن کی راہ تو وہی ہوسکتی ہے جس میں نظام طاغوت کی جگہ خدا کی حاکمیت کا نظام قائم ہو۔ نہ صرف مسجد میں خدا کی عبادت ہو بلکہ گھر میں بازار میں تھانے میں عدالت میں ہر جگہ صرف خدا کا قانون جاری و ساری ہو اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ حسنہ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ اسلامی معاشرہ میں جگمگا رہا ہو۔ جس معاشرہ میں غنڈے اور بدمعاش ، راشی اور بد دیانت قسم کے لوگ چودھری اور لیڈر بنے ہوئے ہوں ، جس معاشرہ میں ضمیر فروش جج کرسیٔ عدالت پر بیٹھے ہوں، جس معاشرہ میں دین فروش مولوی اور دنیا پرست سیاست داں مسلط ہوں، جس معاشرہ میں سیاست کو خدمت کے بجائے مکر و فریب اور عوام کو الو اور بے وقوف بنانے کا ذ ریعہ سمجھایا جارہا ہو، جس معاشرہ میں خدا پرستانہ کردار کے بجائے مادہ پرستانہ کردار اپنایا جائے ۔ وہ ملت اسلامیہ کا روشن مستقبل نہیں بن سکتا اور اہل ایمان اگر ایسے معاشرہ کو اپنا روشن مستقبل سمجھ رہے ہوں اور اسی کو جنت کا ذریعہ سمجھ رہے ہوں تو پھر وہ فی الواقع شیطانی دھوکہ میں آچکے ہیں۔ کاش ملت اسلامیہ اس شیطانی دھوکہ سے باہر آتی ؎
قوت فکر و عمل پہلے فنا ہوتی ہے
پھر کسی قوم کی شوکت پر زوال آتا ہے

TOPPOPULARRECENT