Wednesday , November 14 2018
Home / Top Stories / مسلم پرسنل لا بورڈ کو بدنام کرنے کی کوشش

مسلم پرسنل لا بورڈ کو بدنام کرنے کی کوشش

ہمیں شرعی عدالت نہیں دیا جاسکتا تو مسلمانوں کیلئے الگ دیش دیا جائے
سوشل میڈیا پر گمراہ کن پوسٹ

نئی دہلی ۔ 11 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے ملک بھر میں شرعی عدالتوں کے قیام کی تجویز پر غور کئے جانے سے متعلق بیان کے زائد از ایک دن بعد شرپسند عناصر نے سوشیل میڈیا کا بیجا استعمال کرتے ہوئے مسلم پرسنل لا بورڈ کے ذمہ داروں کی تصویر کے ساتھ گمراہ کن الفاظ کا استعمال کیا ہے اور اس تصویر کے پوسٹ کئے جانے پر زائد از 7000 شیرس اور تقریباً 800 کمنڈس بھی آئے ہیں۔ شرپسندوں نے 3 مسلم شخصیتوں کی تصویر کو دکھاتے ہوئے جن میں ایک کے ہاتھ میں مائیکرو فون ہے۔ اس تصویر پر ایک کیپشن لکھا ہیکہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ہندوستان کی ایک اور تقسیم کا مطالبہ کرتا ہے۔ تصویر میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ارکان جیسے مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اور مولانا عمرین محفوظ رحمانی کو بتایا گیا ہے اور اس کے ساتھ یہ پیام جوڑ دیا گیا ہیکہ ’’ہمیں شرعی عدالت نہیں دیا جاسکتا تو مسلمانوں کیلئے الگ دیش دیا جائے‘‘ لیکن جب انڈیا ٹوڈے کی وائرل ٹسٹ ٹیم نے اس فیس بک پوسٹ کی تحقیقات کی تو شرپسندوں کی کارستانی بے نقاب ہوگئی۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے ملک بھر میں شرعی قوانین کی وکالت کی ہے۔ اس طرح کا کوئی سنسنی خیز مطالبہ نہیں کیا۔ یہ تو صرف مسلمانوں اور مسلم پرسنل لا بورڈ کو بدنام کرنے کی سازش تھی۔ رائٹ ونگ فیس بک کے استعمال کنندگان نے شرپسندانہ حرکت کی ہے۔ واضح رہیکہ اتوار کے دن بورڈ کے سکریٹری ظفریاب جیلانی نے کہاتھا کہ بورڈ کے 15 جولائی کو منعقدہ اجلاس میں دارالقضاء یا شرعی عدالتوں کے قیام پر غور کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT