Thursday , November 23 2017
Home / Top Stories / مسلم پرنسپل پر اے بی وی پی ، آر ایس ایس کارکنوں کا حملہ، توہین آمیز سلوک

مسلم پرنسپل پر اے بی وی پی ، آر ایس ایس کارکنوں کا حملہ، توہین آمیز سلوک

…… : نظام آباد کے نندی پیٹ منڈل میں جوتے پہن کر پرچم کشائی کرنے کا تنازعہl جوتے تو بس بہانہ ہے، مسلمان نشانہ ہے : ……

جوتے پہن کر پرچم کشائی کرنے پر اعتراض اور جھگڑا، کالر پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے کالج سے باہر لایا گیا، جئے شری رام کا نعرہ لگانے پر دباؤ، ویڈیو وائرل

آر ایس ایس کے لوگوں کی مسلم دشمنی کا بدترین ثبوت
جوتے اُتار کر پرچم کشائی کرنے کا کوئی رول نہیں: پرنسپل
پولیس اور دیگر عہدیدار خاموش تماشائی بنے رہے

شرپسندوں کیخلاف مقدمہ درج ، سخت کارروائی کا تیقن
واقعہ پر کُل جماعتی قائدین اور طلباء کا احتجاج
ضلع کلکٹر اور کمشنر پولیس کو یادداشت

حیدرآباد۔ /16اگسٹ، ( سیاست نیوز) آر ایس ایس، اے بی وی پی ، بی جے پی کی اسٹوڈنٹس ونگ کے کارکنوں نے تلنگانہ کے ضلع نظام آباد میں ایک موضع کے سرکاری جونیر کالج کے مسلم پرنسپل کو پرچم کشائی کے دوران جوتے نہ اُتارنے پر نشانہ بنایا اور ان پر حملہ کرتے ہوئے جھگڑا کیا۔ اس افسوسناک و صدمہ خیز واقعہ میں آر ایس ایس اور اے بی وی پی ورکرس نے مسلم پرنسپل محمد یقین الدین کے خلاف مبینہ طور پر نعرے لگائے۔ ان ہندوتوا کارکنوں نے مسلم پرنسپل کو جوتے اُتارکر پرچم کشائی کے لئے زور دیا لیکن انہوں نے جوتے اُتارنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ جوتے اُتار کر ترنگا لہرانے کا ایسا کوئی قاعدہ و اصول نہیں ہے، جس کے بعد ہندوتوا کارکنوں نے پرنسپل کے ساتھ بدسلوکی شروع کی۔ زبردستی کالج سے گھسیٹ کر لے گئے اور سڑک پر احتجاج کرتے ہوئے نعرہ بازی کی ۔ یہ واقعہ ضلع نظام آباد کے نندی پیٹ منڈل کے آئیلا پور گورنمنٹ جونیئر کالج میں پیش آیا۔ تفصیلات کے بموجب 71ویں یوم آزادی کے موقع پر ہر سرکاری دفتر پر پرچم کشائی انجام دی گئی۔ اسی طرح گورنمنٹ جونیئر کالج آئیلا پور میں پرچم کشائی انجام دی گئی۔ پرنسپل محمد یقین الدین پرچم کشائی کے موقع پر جوتے پہنے ہوئے تھے اور اس تقریب میں دیہات کے سرپنچ سدرشن، کوآپریٹیو کے چیرمین لکشمی نارائنا اور ٹی آرایس کے قائدین بھی موجود تھے۔ اے بی وی پی ، بی جے پی ، بجرنگ دل کے کارکنوں نے پرچم کشائی انجام دینے والے پرنسپل یقین الدین کے ساتھ جھگڑنا شروع کیا اور جوتے پہن کر پرچم کشائی انجام دینے پر اعتراض کیا جس کے بعد بڑے پیمانے پر بھگوا تنظیموں کے کارکن جمع ہوگئے اور انہیں زبردستی ڈھکیل کر کالج سے باہر لایا اور سڑک پر بیٹھ کر احتجاج کرنا شروع کیا اور بھارت ماتا کی جئے ، پرنسپل ڈائون ڈائون کرتے ہوئے نعرہ بازی شروع کی ۔ یہاں پر موجود سرپنچ ، کوآپریٹیو سوسائٹی کے چیرمین مداخلت کرتے ہوئے مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کی لیکن بھگوا تنظیموں کے کارکن من مانی کرتے ہوئے پرنسپل کے ساتھ نازیبا حرکت کرنا شروع کیا ۔ تقریباًآدھے گھنٹے تک پرنسپل کے خلاف نعرہ بازی کرتے ہوئے پرنسپل کو معطل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر اسے وائیرل کردیا ۔ واضح رہے کہ پرچم کشائی کے موقع پر جوتے اتارنا کسی بھی قانون میں درج نہیں ہے جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی لال قلعہ پر ، بی جے پی صدر امیت شاہ بی جے پی پارٹی آفس پر اور آرایس ایس کے چیف آرایس ایس آفس میں جوتے پہن کر پرچم کو لہرایاہے

لیکن یہاں کے سارے تصاویر سوشل میڈیا پر وائیرل ہوتے ہی ماحول گرم ہوگیا اور سوشل میڈیا پر دن بھر بحث چلتی رہی۔ اس واقعہ کے بعد شہر نظام آباد سے وابستہ کل جماعتی قائدین جماعت اسلامی ، کانگریسی اقلیتی سیل ، سی پی آئی ، سی پی ایم ، مجلس بچائو تحریک ، جمعیت العلما ء اور دیگر جماعتوں سے وابستہ کارکنوں نے الگ الگ انداز میں احتجاج کرتے ہوئے کمشنر اور ضلع کلکٹر کو یادداشت پیش کی ۔ نوجوانوں کی ایک بڑی ریالی نہروپارک سے نکل کر کلکٹریٹ پہنچی اور ضلع کلکٹر کو یادداشت پیش کرتے ہوئے احتجاج کیا تو پولیس نے صدر ضلع مجلس بچائو تحریک عبدالقادر ساجد، ثناء اللہ ، اظہر الدین کو تحویل میں لیکر Iٹائون پولیس اسٹیشن منتقل کیا اور Iٹائون میں بٹھا کر رکھا جس پر مجلس بچائو تحریک کے صدر ساجد نے پولیس عہدیداروں سے بات چیت کی۔پولیس کمشنر نے اس خصوص میں سنجیدہ اقدامات کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ۔ بھگوا تنظیموں سے وابستہ کارکن مسلمان پرنسپل کی پرچم کشائی کو برداشت نہ کرتے ہوئے ان کے ساتھ ناشائستہ سلوک پر مختلف جماعتوں کی جانب سے مخالفت کرتے ہوئے آج پریس کلب میں پریس کانفرنس سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بھگوا تنظیموں سے وابستہ کارکنوں کی زیادتیوں میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ جوتے پہن کر پرچم کشائی کرنا پرچم کی ہتک نہیں ہے قومی پرچم کا ہر فرد احترام کرتا ہے جبکہ ہر مقام پر جوتے پہن کر پرچم کشائی کی گئی لیکن نندی پیٹ کے آئیلا پور میں مسلمان پرنسپل کی جانب سے جوتا پہن کر پرچم لہرایاکیا گیا تو بھگوا تنظیموں کو برداشت نہ کرتے ہوئے پرنسپل کے خلاف ناشاستہ حرکت کر ڈالی لہذا اس واقعہ کی مکمل تحقیقات کرتے ہوئے اس میں ملوث تمام افراد کو گرفتار کرنے کا بھی مطالبہ کیا ۔ پرنسپل یقین الدین بھی ان کے ساتھ کئے گئے حرکت پر نندی پیٹ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کروایا جس پر نندی پیٹ پولیس نے اس میں ملوث افراد پر مقدمہ درج کیا گیا۔پرنسپل نے الزا م عائد کیا کہ اے بی وی پی طلبہ نے انہیں کالر پکڑ کر گھسیٹا ، گالی گلوج اور جئے شری رام کا نعرہ لگانے کیلئے دباؤ ڈالا جس پر انہوں نے پولیس میں شکایت درج کروائی۔ نظام آباد پولیس نے بتایا جاتا ہے کہ خاطیوں کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 290 ( عوامی مقامات پر گڑبڑ پیدا کرنے کیلئے سزا ) 332 ( سرکاری ملازم کو اس کے فرائض کی انجام دہی سے روکنا ) 153A ( مذہب ، نسل ، جائے پیدائش، رہائش ، لسانی بنیادوں پر مختلف گروپس کے درمیان نفرت پیدا کرنا ) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے مجلس بچاؤ تحریک کے لیڈر امجد اللہ خان خالد نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو مکتوب روانہ کیا اور کہا کہ مسٹر محمد یقین الدین نظام آباد کے ایک باعزت اور محترم شخص ہیں۔ اس واقعہ کے دوران پولیس اور کالج کا عملہ خاموش تماشائی بنا تھا۔ اے بی وی پی کارکنوں نے مسلم دشمنی کے نعرے لگائے۔ یقین الدین گورنمنٹ جونیئر کالج کے پرنسپل اسوسی ایشن کے ریاستی قائد کے علاوہ آئیٹا ٹیچر تنظیموں سے وابستہ ہے اور حال ہی میں ان کا تبادلہ کاماریڈی جونیئر کالج سے ہوا تھا اور کاماریڈی جونیئر کالج میں یقین الدین تلگو میڈیم ، اُردو میڈیم متحد جونیئر کالج کے پرنسپل تھے اور یہ طلباء میں کافی مقبول تھے ۔ ہندو طلباء نے ان کے تبادلہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں کعبتہ اللہ کا تحفہ پیش کیا تھا اور یہ طلباء میں مقبول تھے لیکن آئیلا پور میں ان کے ساتھ بھگوا تنظیموں کی جانب سے کی گئی حرکت پر تمام افراد ناراضگی کا اظہار کررہے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT