مسلم کارکن کا روزہ تڑوانے کا تنازعہ ، حکومت کا آج جواب

نئی دہلی 24 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) حکومت نے آج کہاکہ وہ شیوسینا ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے روزہ دار مسلم کارکن کو زبردستی کھلانے کے مسئلہ پر کل جواب دے گی کیونکہ کل تک اُسے مکمل حقائق کی توثیق حاصل ہوجائے گی۔ کانگریس، سماج وادی پارٹی اور بائیں بازو کی پارٹیوں کے ارکان نے یہ مسئلہ راجیہ سبھا میں آج کا اجلاس شروع ہوتے ہی اُٹھاتے ہوئے ک

نئی دہلی 24 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) حکومت نے آج کہاکہ وہ شیوسینا ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے روزہ دار مسلم کارکن کو زبردستی کھلانے کے مسئلہ پر کل جواب دے گی کیونکہ کل تک اُسے مکمل حقائق کی توثیق حاصل ہوجائے گی۔ کانگریس، سماج وادی پارٹی اور بائیں بازو کی پارٹیوں کے ارکان نے یہ مسئلہ راجیہ سبھا میں آج کا اجلاس شروع ہوتے ہی اُٹھاتے ہوئے کہاکہ یہ تنازعہ پیدا ہوئے 24 گھنٹے ہوچکے ہیں۔ قبل ازیں اِسے اُٹھایا گیا تھا۔ لیکن حکومت ہنوز اِس کا جواب دینے سے قاصر ہے۔ مرکزی وزیر پارلیمانی اُمور ایم وینکیا نائیڈو نے کہا تھا کہ یہ واقعہ رکن پارلیمنٹ سے تعلق رکھتا ہے جو ایک ایسی عمارت میں ہوا ہے جو ریاستی حکومت کے زیرانتظام ہے۔ اُنھوں نے کہا تھا کہ یہ ایک انتہائی حساس معاملہ ہے۔ ساتھ ہی ساتھ سنگین معاملہ بھی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ صدرنشین نے کل وزیر مملکت برائے پارلیمانی اُمور کو ہدایت دی تھی کہ حقائق کے بارے میں یقینی معلومات حاصل کی جائیں۔

اُنھوں نے کہاکہ ہم حقائق کی توثیق کررہے ہیں۔ ہمیں مکمل تفصیلات حاصل ہونے کے بعد ہی ہم کوئی جواب دے سکیں گے۔ اپوزیشن ارکان نے شوروغل مچاتے ہوئے کہاکہ حکومت اِس معاملہ پر خاموش ہونے پر مجبور ہوگئی ہے۔ سی پی آئی (ایم) کے سیتارام یچوری نے کہاکہ حکومت 24 گھنٹے گزرنے کے بعد بھی جواب دینے سے قاصر ہے۔ حالانکہ اِس نے تیقن دیا تھا کہ ایوان پارلیمنٹ میں اِس مسئلہ پر بیان دیا جائے گا۔ کانگریس کے ستیہ ورت چترویدی نے کہاکہ حکومت بہری اور گونگی ہوچکی ہے۔ وینکیا نائیڈو نے کہاکہ چونکہ یہ معاملہ ارکان پارلیمنٹ سے تعلق رکھتا ہے اور ریاستی حکومت کے زیرانتظام ایک ادارہ کا ہے اِس لئے مکمل تفصیلات کی تصدیق ضروری ہے۔ کل تک ہم اِس مسئلہ پر بیان دے سکیں گے۔ ایوان کے اجلاس کا آغاز ہوتے ہی اپوزیشن ارکان اُٹھ کر کھڑے ہوگئے اور مسئلہ اُٹھانے لگے۔ صدرنشین حامد انصاری نے کہاکہ آج کی ترجیحات بجٹ پر مباحث ہیں۔

ہم اِسے مکمل نہیں کرسکے (خلل اندازی کی وجہ سے) ہمارے پاس صرف سات گھنٹے باقی ہیں۔ لیکن ہمیں وقفہ سوالات بھی منعقد کرنا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ صبح کے اجلاس میں اِس مسئلہ پر تبادلہ خیال ہوچکا ہے اور فیصلہ کیا گیا تھا کہ عام بجٹ پر 12 بجے سے بحث شروع کردی جائے گی۔ کانگریس کے آنند شرما نے کہاکہ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے اور حکومت کو بیان دینا چاہئے۔ یچوری نے کہاکہ آخر حکومت حقائق کی تصدیق کب کرے گی۔ وینکیا نائیڈو کے اِس بیان کے بعد کہ حکومت اِس مسئلہ پر کل بیان دے گی، چترویدی نے تبصرہ کیاکہ حکومت اِس مسئلہ پر بیان دے سکتی ہے لیکن کل 6 بجے شام سے پہلے ایسا کیا جانا چاہئے۔ شیوسینا کے 11 ارکان پارلیمنٹ جو واضح طور پر مہاراشٹرین غذا سربراہ نہ کرنے پر برہم ہوگئے تھے، مبینہ طور پر ایک مسلم ملازم کو جو روزہ دار تھا، چپاتی کھانے پر مجبور کررہے تھے۔ یہ واقعہ گزشتہ ہفتہ نیو مہاراشٹرا سدن نئی دہلی میں پیش آیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT