Sunday , September 23 2018
Home / اداریہ / مشتعل ہجوم کی کارروائی

مشتعل ہجوم کی کارروائی

امن و اماں کی راہ میں قدغن لگے نہ کیوں جب نت نئے فساد کے ماہر ہیں ہر طرف مشتعل ہجوم کی کارروائی

امن و اماں کی راہ میں قدغن لگے نہ کیوں
جب نت نئے فساد کے ماہر ہیں ہر طرف
مشتعل ہجوم کی کارروائی
ملک کے وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ کیا چاہتے ہیں یہ ایک مشکل سوال ہے۔ شائد انھیں بھی اس کا جواب پوری طرح معلوم نہیں۔ اس لئے اُنھوں نے پارلیمنٹ میں گمراہ کن بیان دیا اور دہلی کے دو سال پرانے اجتماعی عصمت ریزی کیس واقعہ پر بنائی گئی بی بی سی کی ڈاکومنٹری فلم پر پابندی کے لئے ہدایت جاری کی۔ مقامی عدالت نے بھی فلم کی ریلیز پر پابندی عائد کی تھی۔ اس عصمت ریزی واقعہ پر مبنی فلم اور مجرمین میں سے ایک مجرم سے لیا گیا انٹرویو ہندوستان کے اندر فروغ پانے والی سماجی بُرائیوں کو اُجاگر کرتا ہے۔ رات کے اندھیرے میں لڑکیوں کے گھر سے باہر نکلنے اور غیر مناسب لباس پہننے کے باعث خواتین پر ہونے والے جنسی حملوں کو اصل وجہ بتایا گیا ہے تو اس ڈاکومنٹری کے ریلیز کے بعد ملک میں ایک اور ہنگامے، عوامی برہمی کے اندیشے ظاہر کئے گئے۔ مرکز کی مودی حکومت نے ایک طرف عصمت ریزی واقعہ پر مبنی ڈاکومنٹری فلم کو ریلیز ہونے سے روکنے میں کامیاب ہوئی اور دوسری طرف اس طرح کے ایک عصمت ریزی واقعہ کے ملزم عدالتی تحویل میں رہنے والے شخص کو زدوکوب کرکے ہلاک کرنے والے احتجاجی عوام پر قابو پانے میں ناکام رہی۔ ہندوستان کی تاریخ میں شائد یہ واقعہ گھناؤنا متصور ہوگا کہ ایک سخت ترین سکیوریٹی والی جیل کو توڑ کر مشتعل عوام کے ہجوم نے عصمت ریزی کے مرتکب شخص کو گھسیٹ کر باہر نکالا اور اس کو شدید زدوکوب کرکے پولیس اور سکیوریٹی فورس کی نظروں کے سامنے ہلاک کردیا۔ ناگا لینڈ کے دیماپور ٹاؤن میں پیش آیا یہ واقعہ 11 ڈسمبر 2012 ء کو دارالحکومت دہلی میں ہونے والے عصمت ریزی واقعہ کی دستاویزی فلم پر پابندی عائد کرنے مرکزی حکومت کے فیصلہ کے درمیان نظم و نسق کی کوتاہ ذہنی اور تعصب پسندی کی علامتیں واضح ہوتی ہیں۔ ناگا لینڈ کے واقعہ کو خالص بنگلہ دیش تارکین وطن کے خلاف مقامی ناگا باشندوں کی برہمی کا نتیجہ متصور کیا جارہا ہے۔ مگر افسوسناک پہلو یہ ہے کہ مشتعل عوام کے ہجوم کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت کس طرح دی گئی اور ایک سخت سکیوریٹی والی جیل سے ملزم کو باہر نکل کر ہلاک کرنے کی اجازت دینا سراسر سکیوریٹی اور پولیس نظم و نسق کی لاپرواہی و کوتاہی کا ثبوت ہے۔ 35 سالہ فرید خان کو برہنہ کرکے اتنا زدوکوب کیا گیا کہ اس نے برسر موقع دم توڑ دیا۔ اس کا جرم قابل مستوجب سزا تھا لیکن برہم ہجوم نے ملک کے قانون و انصاف پر یقین نہیں کیا اور اپنے طور پر سزا دینے کا فیصلہ کرکے جیل توڑ کر اسے باہر نکالا۔ یہ کارروائی ایک ترقی پذیر ہندوستان کے دامن پر ایک اور داغ لگاتی ہے۔ مرکز کی مودی حکومت میں اس طرح کا واقعہ رونما ہونا کوئی حیرت کی بھی بات نہیں ہے کیونکہ بنگلہ دیش تارکین وطن کے بہانے مقامی ہندوستانی مسلمانوں کو آسانی سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔ فرقہ پرستوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکانے کے واقعات کو اتنی شدت اور بھیانک سطح تک لے جایا جاسکتا ہے کہ ناگالینڈ کے دیماپور کا یہ واقعہ قابل مذمت اور قانون و حکومتوں کے لئے غور طلب ہے۔ تاریخ کی کتابوں میں ہجوم کی حکمرانی کے واقعہ نئے نہیں ہیں۔ اس طرح کی عوامی برہمی کے واقعات دنیا کے بیشتر ملکوں میں رونما ہوتے ہیں۔ حال ہی میں جنوبی افریقہ میں بھی عصمت ریزی کے ایک خاطی کو موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا تھا اس کے گلے میں جلتے ہوئے ٹائیر کو ڈال کر اسے تڑپتا ہوا دیکھ کر انسانوں کے ہجوم نے بغیر کسی ثبوت اور گواہوں کے اسے موت کی سزا دی تھی۔ ٹھیک اسی طرح ناگالینڈ میں دیماپور کے عوام نے اپنی برہمی کو ظاہر کرنے کے لئے عدالتی تحویل میں رہنے والے مسلم شخص کو موت کی سزا دی۔ یہ واقعہ صرف عصمت ریزی سے مربوط نہیں ہے بلکہ ناگا لینڈ میں غیر قانونی مقیم بنگلہ دیشیوں کے نام پر عوام میں پیدا کردہ شک و شبہ کو سیاسی ہوا دے کر ہنگامہ برپا کیا جاتا رہا ہے۔ ناگا اسٹوڈنٹس فیڈریشن نے عصمت ریزی کے خلاف احتجاج شروع کرکے فوری انصاف کا مطالبہ کیا تھا جس کی وجہ سے عوام میں مزید غم و غصہ کی چنگاری بھڑکائی گئی تھی۔ لیکن کسی ہجوم کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت دینے کو منصفانہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یہ حیرت کی بات ہے کہ سکیوریٹی فورس کی موجودگی فضول ثابت ہوئی۔ 10 ہزار افراد پرمشتمل ہجوم نے جیل توڑ کر نہ صرف مسلم شخص کو باہر گھسیٹا اس بہانے دیگر قیدی بھی فرار ہوگئے۔ اس ہجوم کا مقصد انصاف حاصل کرنا یا پھر انتقامی کارروائی کرنا تھا کیوں کہ ایک مقامی ناگا لڑکی پر غیر مقامی شخص نے جنسی حملہ کیا تھا جو مقامی لوگوں کے لئے ناقابل قبول واقعہ ثابت ہوا۔ ناگالینڈ 1960 ء کو اس کے قیام کے بعد سے ہی ایک گڑبڑ زدہ ریاست رہی ہے۔ منی پور اور آسام جیسے پڑوسی ریاستوں کے ساتھ اس کا جھگڑا برقرار ہے اس لئے جس مسلم شخص کو ہلاک کیا گیا راحیل آسام کے ضلع کریم گنج کا متوطن تھا اور اس کے جرم سے زیادہ اس کی علاقہ واریت نے اس شخص کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ ہندوستان میں علاقائی تعصب پسندی اور فرقہ پرستی کو ہوا دینے کی سیاسی کوشش ایک خطرناک کھیل ہے۔ ایسے کھیل کو فوری ختم کردینا ضروری ہے۔ ہر ریاست میں برہم ہجوم پر قابو پانے کے لئے اگر سکیوریٹی فورس کی ناکامی ہوجائے تو پھر آنے والے دنوں میں گجرات یا ناگالینڈ کی طرح واقعات کا رونما ہونا مودی حکومت میں ناممکن نہیں ہے۔
تلنگانہ و آندھرا کا بجٹ سیشن
دونوں تلگو ریاستوں تلنگانہ اور آندھراپردیش حکومتوں نے گزشتہ 9 ماہ سے جاری سیاسی ہلچل، افراتفری اور شور شرابے کے بعد اپنے پہلے مکمل بجٹ سیشن کے انعقاد کو عمل میں لایا ہے۔ تلنگانہ بجٹ سیشن سب سے زیادہ ہنگامہ خیز ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ پہلے دن تو اپوزیشن نے اپنی طاقت کا ثبوت دیا ہے۔ 7 مارچ تا 28 مارچ تک جاری رہنے والے اس سیشن میں دونوں ریاستوں کی حکومتوں کو اپنے مالیاتی موقف اور پروگراموں کے بارے میں عوام الناس کے سامنے صاف گوئی کے ساتھ پیش کرنا ہوگا۔ دونوں ریاستوں کے چیف منسٹروں نے اپنا مختصر بجٹ پیش کیا تھا۔ سب سے پہلے چندرابابو نائیڈو نے 20 اگسٹ کو مکمل ایک سال کے لئے 1.12 لاکھ کروڑ روپئے کے جملہ مصارف کی تجویز رکھی تھی۔ اس طرح تلنگانہ حکومت کے سربراہ کے چندرشیکھر راؤ نے بھی نومبر 2014 ء میں تخمینہ مصارف پیش کرتے ہوئے سالانہ بجٹ میں ایک لاکھ کروڑ کے مصارف پیش کئے تھے لیکن گزشتہ سال کے دوران دونوں ریاستوں کی حکومتوں نے عوام سے جو وعدے کئے تھے انھیں پورنے کے لئے بجٹ میں خاص رقومات کا ذکر نہیں ہونا س بات کا اشارہ ہے کہ یہ دونوں حکومتیں بجٹ میں اپنے فلیگ شپ پروگراموں پر زیادہ سے زیادہ توجہ دینے کی کوشش کریں گی لیکن ان کا بجٹ اس کی ہرگز اجازت نہیں دے گا کہ وہ عوام کو صرف وعدوں کے ذریعہ گمراہ کریں۔ ٹی آر ایس حکومت پر الزام ہے کہ اس نے گزشتہ بجٹ میں مختص کردہ رقومات کو ہی دیانتداری سے استعمال میں نہیں لایا ہے۔ بی جے پی ریاستی یونٹ کے لیڈر ڈاکٹر کے لکشمن نے کہاکہ کے سی آر نے اپنے بجٹ الاٹمنٹ میں سے 40 فیصد رقم بھی خرچ نہیں کی ہے۔ اس کا مطلب یہی نکلتا ہے کہ معقولیت پسند کاموں سے گریز کررہی ہے۔ اگرچیکہ دونوں ریاستوں کی حکومتوں کیلئے یہ بجٹ سیشن ایک بہترین موقع ہے کہ وہ اپنی کارکردگی کا بہترین ثبوت پیش کرسکیں۔ ٹی آر ایس کو بظاہر اپنی حکمرانی پر کافی اعتماد دکھائی دیتا ہے اس لئے اس نے حالیہ اعلان کردہ بہبودی اقدامات اپنے اقدامات کا تذکرہ ایوان میں ضرور کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT