Friday , October 19 2018
Home / Top Stories / مشرقی یروشلم بطور دارالحکومت فلسطینیوں کا حق : سعودیہ

مشرقی یروشلم بطور دارالحکومت فلسطینیوں کا حق : سعودیہ

Palestinian President Mahmoud Abbas speaks to the media after his meeting with Jordan's King Abdullah at the Royal Palace in Amman, Jordan October 22, 2017. REUTERS/Muhammad Hamed - RC15CE246280

یروشلم کو فلسطینی دارالحکومت بنائے بغیر امن یا استحکام ممکن نہیں : محمود عباس

ریاض ؍ استنبول ۔ 13 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) فلسطینیوں کا حق ہیکہ اسرائیلی الحاق والے مشرقی یروشلم کو اپنا دارالحکومت بنائے، سعودی عرب کے شاہ سلمان نے آج یہ بات کہی جو استنبول میں اسلامی چوٹی کانفرنس کے موقف کو ظاہر کرتی ہے۔ شاہ سلمان اس کانفرنس میں شریک نہیں ہوسکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودیہ نے علاقائی بحرانوں کی یکسوئی کیلئے سیاسی حل پر زور دیا ہے اور ان بحرانوں میں مقدم فلسطینی مسئلہ اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی بحالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد فلسطینی مملکت کا قیام اور مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا بھی فلسطینیوں کا حق ہے۔ شاہ سلمان کا سلطنت کی مشاورتی کونسل سے خطاب ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جبکہ دنیا کی بڑی اسلامی تنظیم نے استنبول میں ہنگامی اجلاس منعقد کرتے ہوئے یروشلم کو اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے امریکی فیصلے کے پس منظر میں صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔ اس دوران فلسطینی صدر محمود عباس نے متنبہ کیا کہ جب تک فلسطینی مملکت کے دارالحکومت کے طور پر یروشلم کو تسلیم نہ کرلیا جائے، مشرق وسطیٰ میں کوئی امن یا استحکام قائم نہیں ہوسکتا ہے۔ تنظیم اسلامی تعاون کی استنبول میں ہنگامی میٹنگ سے خطاب میں عباس نے کہا کہ یروشلم فلسطینی مملکت کا دارالحکومت ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اس کے بغیر کوئی امن، کوئی استحکام نہیں رہے گا۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے فیصلہ کی مذمت کی کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے صیہونی تحریک کو کچھ اس طرح تحفہ دیا گیا ہے جیسے وہ کسی امریکی شہر کو حوالے کررہے ہیں۔ اب واشنگٹن کا مشرقی وسطیٰ کی امن مساعی میں کوئی رول نہیں رہا ہے۔ دریں اثناء بحرین جس کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم نہیں ، وہاں سے کل مذاہب کے وفد نے صیہونی مملکت کا پانچ روزہ دورہ شروع کیا ہے۔ 24 رکنی وفد میں مختلف مذاہب کے 10 ہندوستانی شامل ہیں۔

TOPPOPULARRECENT