Tuesday , June 19 2018
Home / دنیا / مشرقی یوکرائن کیلئے روسی امدادی قافلہ روانہ

مشرقی یوکرائن کیلئے روسی امدادی قافلہ روانہ

ماسکو ، 12 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) روس نے مشرقی یوکرائن کیلئے ’امدادی سامان‘ روانہ کر دیا ہے۔ روسی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس قافلے میں 280ٹرک شامل ہیں۔ ماسکو میں ایک حکومتی اہلکار کے مطابق، ’’یہ قافلہ یوکرائن کے مشرقی علاقوں کے رہائشیوں کو دو ہزار ٹن امدادی سامان پہنچائے گا۔‘‘ اس اہلکار کا کہنا تھا کہ یہ سامان ماسکو اور اس کے نواحی علاق

ماسکو ، 12 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) روس نے مشرقی یوکرائن کیلئے ’امدادی سامان‘ روانہ کر دیا ہے۔ روسی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس قافلے میں 280ٹرک شامل ہیں۔ ماسکو میں ایک حکومتی اہلکار کے مطابق، ’’یہ قافلہ یوکرائن کے مشرقی علاقوں کے رہائشیوں کو دو ہزار ٹن امدادی سامان پہنچائے گا۔‘‘ اس اہلکار کا کہنا تھا کہ یہ سامان ماسکو اور اس کے نواحی علاقوں کے لوگوں نے جمع کیا۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فرانس کے وزیر خارجہ لاراں فابیوس نے روس کے اس امدادی قافلے پر شکوک و شبہات ظاہر کئے ہیں۔

ایبولا وائرس کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے
جنیوا ، 12 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) ایبولا وائرس سے اب تک 1013 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کے مطابق گزشتہ تین دنوں کے دوران مغربی افریقہ کے تین ممالک میں 52 افراد اس وائرس کا شکار ہوئے۔ ان میں سب سے زیادہ یعنی 29 ہلاکتیں لائبیریا میں ہوئیں۔ ان تین دنوں میں سیرا لیون میں ایبولا وائرس سے 17 جبکہ گِنی میں چھ افراد ہلاک ہوئے۔ ڈبلیو ایچ او کے بیان میں بتایا گیا کہ اب تک ایبولا سے متعلق 1800 سے زائد واقعات سامنے آچکے ہیں۔ نائجیریا کے صنعتی مرکز لاگوس میں دس افراد میں ایبولا وائرس کی نشاندہی ہو چکی ہے۔ ابھی تک ایبولا کی روک تھام کیلئے عالمی سطح پر کوئی بھی دوا دریافت نہیں ہو پائی ہے۔

نائجیریا میں ایبولا کا ایک اور مریض
دریں اثناء لاگوس سے موصولہ اطلاع کے بموجب نائجیریا کے شہر لاگوس میں ایبولا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تصدیق شدہ تعداد 10 ہو گئی ہے۔ غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق نائجیریا کے وزیر صحت کا کہنا ہے کہ قبل ازیں تصدیق شدہ کیسوں کی تعداد سات تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے دو افراد کی موت ہو چکی ہے جن میں لائبیریا کا ایک شہری بھی شامل ہے جو یہ وائرس نائجیریا لانے کا موجب بنا تھا۔ اونیی بیوچی چیکوو نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں بتایا کہ ایبولا سے متاثر ہونے والے تمام افراد پیٹرک ساویر کے ساتھ براہ راست رابطے میں آئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT