Tuesday , December 18 2018

مشرق وسطی میں امن پر اوباما سے آج کیری کی ملاقات

واشنگٹن ۔ 8 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) مشرق وسطی میں قیام امن کیلئے پچھلے سال جولائی سے از سرنو شروع ہونے والے امن مذاکرات کی کامیابی ایک مرتبہ پھر مشکوک ہو گئی ہے۔ اس سلسلے میں اسرائیلی وعدہ خلافیوں نے صورتحال کو اور زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس بارے میں امریکا کے ممکنہ کردار کے حوالے سیکسی نتیجہ تک پہنچنے کیلیے وزیر خارجہ جان کیری صدر او

واشنگٹن ۔ 8 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) مشرق وسطی میں قیام امن کیلئے پچھلے سال جولائی سے از سرنو شروع ہونے والے امن مذاکرات کی کامیابی ایک مرتبہ پھر مشکوک ہو گئی ہے۔ اس سلسلے میں اسرائیلی وعدہ خلافیوں نے صورتحال کو اور زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس بارے میں امریکا کے ممکنہ کردار کے حوالے سیکسی نتیجہ تک پہنچنے کیلیے وزیر خارجہ جان کیری صدر اوباما سے آج منگل کے روز اہم ملاقات کریں گے۔ اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے ایک دوسرے پر لگائے جانے والے الزامات کے بعد پچھلے اتوار کو جان کیری نے بھی کہہ دیا ہے کہ امریکا امن مذاکرات کے حوالے سے اپنے کردار پر نظر ثانی کر سکتا ہے۔

اس سے پہلے مشرق وسطی کے حالیہ دورے کیموقع پر انہوں نے کہا تھا ” ہر کام کے لیے وقت کی ایک حد ہوتی ہے۔ ” آج ان کی اوباما سے ملاقات کا مقصد بھی یہی بتایا گیا ہے کہ وہ صدر اوباما سے اس بارے میں رہنمائی لیں کہ امن مذاکرات میں امریکی کوششیں جاری رہنی چاہیں یا نہیں۔ اس سے پہلے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کانگریس کے ساتھ بھی اسی موضوع پر تبادلہ خیال اور سوال و جواب کی نشست کریں گے۔ معلوم ہوا ہے کہ صدر اوباما کے ساتھ اس اہم مرحلے پر ہونے والی ملاقات میں نائب صدر جوبائیڈن بھی شریک ہوں گے۔ امریکی تعاون سے جاری امن مذاکرات کیلیے 29 اپریل کی ڈیڈ لائن مقرر ہے، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہہ دیا ہے کہ ان مذاکرات کی کامیابی کیلیے اسرائیل کوئی قیمت ادا نہیں کرے گا۔ دوسری جانب امریکا کا اصرار ہے کہ فریقین کو قیام امن کیلیے مشکل فیصلے کرنا ہوں گے۔

وائٹ ہاوس کے ترجمان جے کارنی نے کہا ” اب معاملہ یہ ہے کہ فریقین کو یہ سامنے لانا ہو گا کہ وہ امن چاہتے ہیں یا نہیں، اگر مخلص ہیں تو مشکل فیصلے کر کے آگے بڑھیں۔”یہ امریکی ترجمان کو اس لیے کہنا پڑا ہے کہ اسرائیل نے وعدے کے مطابق فلسطینی اسیران کی چوتھی کھیپ کی رہائی کرنے سے انکار کر دیا ہے اور یہودی بستیوں کی تعمیر بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ فلسطینی اتھارٹی نے اس صورتحال میں عالمی فورمز سے رجوع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔امریکہ عملا مشرق وسطی میں قیام امن سے مایوس ہو رہا ہے کہ اس کی تمام تر کوششوں کے باوجود اسرائیلی حکومت مثبت ریسپانس دینے کو تیار نہیں ہے۔ حتی کہ اسرائیلی وزیر دفاع ایک سے زائد مرتبہ امریکہ کا بھی تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ جس پر بعد ازاں اسرائیل کو وضاحت اور معذرت کرنا پڑی ہے۔

TOPPOPULARRECENT