Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / مشن بھگیرتا کا پہلا مرحلہ 31 دسمبر تک مکمل کرنے کی ہدایت

مشن بھگیرتا کا پہلا مرحلہ 31 دسمبر تک مکمل کرنے کی ہدایت

25 ہزار دور دراز کے مواضعات کو پائپ لائن سے پانی کی سربراہی ، جائزہ اجلاس سے کے سی آر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 23 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مشن بھگیرتا کو ملک کی سب سے بڑی اسکیم قرار دیا اور اس کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے پہلے مرحلے کا کام جاریہ سال کے اواخر 31 دسمبر تک اور دوسرے مرحلے کو آئندہ 6 ماہ میں مکمل کرنے کی عہدیداروں کو ہدایت دی ۔ چیف منسٹر نے آج پرگتی بھون میں مشن بھگیرتا کے کاموں کا جائزہ لیا اور کہا کہ یہ ایسی پینے کے پانی کی اسکیم ہے جس کو عوام زندگی بھر فراموش نہیں کرپائیں گے ۔ اسکیم کی تکمیل سے ریاست کے تمام گھروں بالخصوص 25 ہزار دور دراز کے مواضعات میں عوام کو نلوں کے ذریعہ پینے کے لیے صاف ستھرا پانی دستیاب ہوگا ۔ یہ ایک انوکھی انجینئرنگ ہے جو سارے ملک کے لیے مثالی نمونہ پیش ہوگی ۔ اسکیم کی تکمیل پر ہر کوئی فخر محسوس کریں گے ۔ اس اسکیم کی نیتی ایوگ نے ستائش کی ہے اور ملک کے کئی ریاستوں نے مشین بھگیرتا اسکیم کا جائزہ لیتے ہوئے اپنی اپنی ریاستوں میں اس کی تقلید کرنے کی حکمت عملی تیار کرنے میں مصروف ہیں ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ پائپ لائنوں کے ذریعہ پانی کی سربراہی سے ابتداء میں پائپ کے پھٹ جانے کے علاوہ دوسرے چھوٹے چھوٹے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں ۔ اس پر خصوصی توجہ دینے اور مرمتی کاموں کی عاجلانہ تکمیل کی ابھی سے منصوبہ بندی تیار کرنے کی عہدیداروں کو ہدایت دی ۔ کے سی آر نے کہا کہ وہ آئندہ سال سے 25 ہزار مواضعات کو نلوں کے ذریعہ پینے کا پانی تقسیم کرتے ہوئے عوام کو نئے سال کا تحفہ دینے کا فیصلہ کرچکے ہیں ۔ لہذا عہدیدار مشن بھگیرتا کے پہلے مراحل کے کام 31 دسمبر تک مکمل کردیں ۔ دوسرے مرحلے کے کام جون 2018 تک مکمل کرنے کی بھی ہدایت دی ۔ اتنے بڑے پراجکٹ کے آغاز پر ابتداء میں کسی بھی حال چھوٹے مسائل پیدا ہوں گے ۔ انہیں فوری حل کرنے کی ہدایت دی ۔ چیف منسٹر نے اجلاس میں گوگل میاپ کے ذریعہ ریاست کے مختلف اضلاع میں مشن بھگیرتا کے تعمیری کاموں کا جائزہ لیا ۔ مسائل کہاں ہیں عہدیداروں سے تفصیلات طلب کی ۔ ضلعی سطح پر انٹک ویلس ، واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس ، او ایچ بی آر اور پائپ لائن کی تعمیرات الکٹرو موٹر کاموں کی پیشرفت کا جائزہ لیا ۔ مشن بھگیرتا کے کاموں کے لیے طلب کے مطابق برقی سربراہ کرنے پر چیف منسٹر نے محکمہ برقی کے عہدیداروں کی ستائش کی ۔ جینکو ٹرانسکو کے سی ایم ڈی ڈی پربھاکر راؤ نے تمام کام 2 اکٹوبر تک مکمل ہوجانے کا تیقن دیا ۔ انہوں نے بتایا کہ 300 کروڑ روپئے کے مصارف سے سب اسٹیشنس ، برقی لائن ، ٹرانسفارمرس کے کام مکمل کیے جارہے ہیں ۔ مشن بھگیرتا کو بلاوقفہ 221 میگاواٹ برقی سربراہ کرنے کے لیے 42 سب اسٹیشن کے ساتھ 1190 کیلو میٹر تک پائپ لائن تعمیر کی جارہی ہے ۔ ساتھ میں 87 پاور ٹرانسفارمرس کے انتظامات بھی کئے جارہے ہیں ۔ چیف منسٹر نے فلورائیڈ سے متاثرہ منوگوڑ اور دیور کنڈہ اسمبلی حلقوں کو صاف ستھرا پینے کا پانی سربراہ کرنے کی عہدیداروں کو خصوصی توجہ دینے کی ہدایت دی ۔ کے سی آر نے پالیر سیگمنٹ سابق ضلع ورنگل کے علاقوں میں مشن بھگیرتا کے کام سست ہوجانے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ۔ آئندہ 2 ماہ میں جنگی خطوط پر ادھورے کاموں کی تکمیل کرنے کی ہدایت دی ۔ ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری ، مشن بھگیرتا کے نائب صدر نشین پرشانت ریڈی کو پالیر سیگمنٹ کا دورہ کرتے ہوئے کاموں میں تیزی پیدا کرنے کی ہدایت دی ۔ چیف منسٹر نے 8 ٹی ایم سی پانی صنعتوں کو دینے کے اقدامات کرنے کا بھی عہدیداروں کو مشورہ دیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT