Tuesday , December 19 2017
Home / اضلاع کی خبریں / مشن کاکتیہ کے تعمیری کاموں کی تحقیقات ضروری

مشن کاکتیہ کے تعمیری کاموں کی تحقیقات ضروری

کریم نگر 19 فروری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) پرنم پربھاکر سابق رکن پارلیمنٹ نے آر اینڈ بی گیسٹ ہاؤز میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے روبرو اس بات کا انکشاف کیاکہ ریاستی حکومت صرف تشہیر میں ہی دلچسپی رکھتی ہے۔ ریاست میں بڑے پیمانے پر پروپگنڈہ ہورہا ہے۔ ایوارڈس عطا کئے جارہے ہیں، تہنیت پیش کی جارہی ہے۔ کاکتیہ مشن کے تعمیری کاموں کی عدم تکمیل کے باوجود بھی بلز کی رقم دی جارہی ہے۔ دیانتداری کے ساتھ کام نہ کرنے والوں اور بدعنوانیوں میں ملوث عہدیداروں کی نشاندہی کرنے پر 51 ہزار اور 25 ہزار روپئے کا انعام دیا جارہا ہے۔ دنیا بھر میں کاکتیہ مشن کے تعمیری کاموں کی ستائش ہورہی ہے۔ لیکن حقیقت کچھ اور ہی ہے۔ اگر دیانتداری سے مشن کاکتیہ کا سوشیل آڈٹ کروایا جائے تو دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا اور بدعنوانیوں کا پردہ فاش ہوگا۔ انھوں نے کہاکہ ضلع کریم نگر میں مشن کاکتیہ کے تعمیری کاموں کے سلسلہ میں ریاستی حکومت نے6410 تالابوں کی نشاندہی کی تھی اور اس کے ذریعہ 2 لاکھ 42 ہزار 210 ایکر اراضی کی سیرابی کا تیقن دیا تھا۔ پہلے مرحلہ میں 823 تالابوں کی شروعات کا فیصلہ کیا گیا لیکن صرف 784 تالابوں کے کاموں کا آغاز کیا گیا اور 550 تعمیری کاموں کی تکمیل کے نام پر 61 کروڑ 23 لاکھ روپئے کے بلز کی ادائیگی بھی عمل میں آئی۔ پونم پربھاکر نے مطالبہ کیاکہ مشن کاکتیہ کے تعمیری کاموں کی تحقیقات کروائی جائیں تو بدعنوانیوں کا پتہ چلے گا۔ انھوں نے کہاکہ تولہ پلی ذخیرۂ آب ریزر وائر کو رد کردینے سے 930 کروڑ روپیوں کی بچت ہوگی۔ گوراویلی اور گنڈی پلی ذخیرۂ آب کی تعمیر سے کسانوں کو کچھ فائدہ ہونے والا نہیں ہے۔ انھوں نے کہاکہ سوشیل آڈٹ کے لئے صحافیوں کو بھی شامل کرلیا جائے اور ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ فنڈس بھی برباد نہ ہوں اور برسر اقتدار حکومت کا اصلی چہرہ سامنے آجائے۔ اس موقع پر مقامی کانگریس صدر اربن بینک چیرمین شیکھر، فلور لیڈر گنڈے مادھو اور سنگل ونڈو چیرمین سید غازی الدین زبیر بھی موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT