Tuesday , November 20 2018
Home / کھیل کی خبریں / مشکل وقت میں سچن تنڈولکر نے میری حوصلہ افزائی کی : سردار سنگھ

مشکل وقت میں سچن تنڈولکر نے میری حوصلہ افزائی کی : سردار سنگھ

دولت مشترکہ کھیلوں سے باہر کردیئے جانے پر میرے حوصلے پست ہوگئے تھے ۔ سابق ہندوستانی ہاکی کپتان کا پرستاروں سے اظہار ِخیال
نئی دہلی ۔ 15 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) دولت مشترکہ کھیلوں میں عدم شمولیت پر ہاکی اسٹار سردار سنگھ کے حوصلے پست ہو رہے تھے لیکن ان کی ملک کے آئیڈیل کرکٹر سچن تنڈولکر سے فون پر بات چیت ہوئی تھی جس کے بعد انہوں نے قومی ٹیم میں اپنی جگہ دوبارہ حاصل کرنے سخت جدوجہد کی تھی ۔ 32 سالہ سردار سنگھ نے چہارشنبہ کو اپنے 12 سال طویل شاندار کیرئیر کے بعد سبکدوشی کا اعلان کردیا تھا ۔ وہ ایشین گیمس کے بعد سبکدوش ہوئے جس میں ہندوستانی ٹیم اپنے خطاب کا دفاع نہیںکرسکی تھی اور اسے صرف برانز میڈل پر اکتفا کرنا پڑا تھا ۔ سردار سنگھ کو گولڈ کوسٹ دولت مشترکہ گیمس میں ٹیم سے باہر کردیا گیا تھا ۔ اس کے بعد انہوں نے سچن تنڈولکر سے مشورہ کیا تھا اور کرکٹ اسٹار نے انہیں کچھ مشورے دئے جو سابق ہاکی کپتان کیلئے تریاق ثابت ہوئے اور پھر انہوں نے ہندوستانی ٹیم میں چمپئنس ٹرافی کیلئے شاندار واپسی کی ۔ اس ٹورنمنٹ میں انہوں نے ہندوستانی ٹیم کو سلور میڈل دلانے میں اہم رول ادا کیا تھا ۔ سردار سنگھ نے اپنی سبکدوشی کے بعد پہلی مرتبہ اپنے پرستاروں سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ سچن تنڈولکر نے ان میں کافی جوش و جذبہ پیدا کیا تھا انہوں نے گذشتہ تین تا چار ماہ میں ان کی کافی مدد کی ہے جبکہ یہ ان کیلئے کافی مشکل وقت تھا ۔ سردار سنگھ نے کہا کہ ایسا کوئی موقع نہیں ہے جب سچن نے ان کے فون کا جواب نہ دیا ہو۔ جب انہیں دولت مشترکہ گیمس کیلئے ٹیم سے خارج کردیا گیا تھا تو ان کے حوصلے کافی پست ہوگئے تھے ۔ انہوں نے سچن تنڈولکر کو فون کیا تھا اور ان سے مشورے کئے تھے ۔ سچن نے انہیں تقریبا 20 منٹ تک سمجھایا تھا اور ہمت افزائی کی تھی اور مشورہ دیا تھا کہ میں یہ فراموش کردوں کہ مجھے دولت مشترکہ گیمس سے باہر کردیا گیا ہے ۔ میں اپنے جوش و جذبہ اور توجہ میں کوئی کمی آنے نہ دوں۔ انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ میں اپنے قدیم ویڈیوز دیکھوں ‘ اپنا فطری کھیل کھیلوں اور پھر اس سے مجھے ٹیم میں شاندار واپسی کرنے میں مدد ملی ہے ۔ اپنے 12 سالہ طویل کیرئیر میں سردار سنگھ کی کارکردگی شاندار رہی ہے اور وہ مڈ فیلڈ میں اہم ستون ثابت ہوتے رہے ہیں۔ انہوںنے 2014 میں ہوئے ایشین گیمس میں ہندوستان کو گولڈ میڈل دلانے میں اہم رول ادا کیا تھا ۔ اس کے علاوہ 2010 اور 2018 میں ٹیم کو برانز میڈل دلانے میں بھی ان کا رول اہم رہا ہے ۔ انہوںن ے دو دولت مشترکہ سلور میڈل اور ایک چمپئنس ٹرافی سلور میڈل بھی جیتا ہے ۔ تاہم انہیں اس بات کا افسوس بھی ہے کہ وہ ہندوستان کیلئے اولمپک میڈل ‘ ورلڈ کپ میڈل نہیں جیت پائے ہیں اور نہ ہی وہ انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن سے پلئیر آف دی ائیر ایوارڈ حاصل کرسکے ۔

TOPPOPULARRECENT