Wednesday , January 17 2018
Home / کھیل کی خبریں / مصباح الحق کو کپتانی سے برطرف کرنا دانشمندی نہیں: وسیم اکرم

مصباح الحق کو کپتانی سے برطرف کرنا دانشمندی نہیں: وسیم اکرم

کراچی۔14 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام)پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے کہا ہے کہ اس وقت کوئی بھی کرکٹر مصباح الحق کی جگہ کپتان بننے کے لئے موجود نہیں لہذا اس مرحلے پر انہیں کپتانی سے برطرف کرنا دانشمندی نہیں ہوگی۔ایک اور سابق کپتان وسیم باری نے کہا کہ کوچز اور ٹیم انتظامیہ نے کوئی حکمت عملی نہیں دکھائی ہے۔ہمیں سری لنکا کی سیریز

کراچی۔14 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام)پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے کہا ہے کہ اس وقت کوئی بھی کرکٹر مصباح الحق کی جگہ کپتان بننے کے لئے موجود نہیں لہذا اس مرحلے پر انہیں کپتانی سے برطرف کرنا دانشمندی نہیں ہوگی۔ایک اور سابق کپتان وسیم باری نے کہا کہ کوچز اور ٹیم انتظامیہ نے کوئی حکمت عملی نہیں دکھائی ہے۔ہمیں سری لنکا کی سیریز سے قبل منصوبہ بندی کرلینی چاہیے تھی۔ وسیم اکرم نے کہا کہ اگر اس وقت کوئی بھی کپتان یہ ذمہ داری سنبھالنے کے لیے تیار ہوچکا ہوتا تو مصباح الحق کو ہٹانے کے بارے میں سوچا جاسکتا تھا لیکن ایسا نہیں ہے لہذا ہمیں ورلڈ کپ تک مصباح الحق کو ہی کپتان برقرار رکھنا ہوگا۔ تاہم مصباح الحق کو بھی اپنی کپتانی میں دلیری لانی ہوگی اور اگر اب بھی وہ جرات مندانہ فیصلے نہیں کرینگے تو پھر کب کرینگے۔ اکرم نے دوسرے ونڈے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اوپنرس کی سنچری پارٹنرشپ کے بعد مصباح الحق کو چاہیے تھا کہ وہ عمراکمل کو بیٹنگ کے لئے

اوپر بھیجتے۔ وسیم اکرم نے آسٹریلیا کے خلاف ونڈے سیریز میں وائٹ واش کے بارے میں کہا کہ یہ بات سب کو اچھی طرح معلوم تھی کہ پاکستان کا مقابلہ دنیا کی ایک بڑی ٹیم سے ہے اس صورتحال میں پاکستانی ٹیم کو مورد الزام ٹھہرانا درست نہیں کیونکہ پاکستانی ٹیم پورے سال میں دوسری ٹیموں کے مقابلے میں بہت کم بین الاقوامی کرکٹ کھیلی ہے۔ ٹیم کی موجودہ کارکردگی سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ورلڈ کپ میں حالات بہت مشکل ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ عمراکمل اور احمد شہزاد باصلاحیت بیٹسمین ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ ان میں مستقل مزاجی کب آئے گی۔ وسیم اکرم نے کہا کہ سعید اجمل کی غیرموجودگی میں بولنگ مشکلات سے دوچار ہے، مجھے تو یہ فکر ہورہی ہے کہ ٹسٹ سیریز میں 20 وکٹیں کون لے گا؟۔وسیم باری نے کہا کہ ورلڈ کپ سر پر ہے اور کپتانی کے حوالے سے ہم غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔حالات کا تقاضہ ہے کہ ہمیں فوری طور پر فیصلہ کرنا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT