Thursday , February 22 2018
Home / مذہبی صفحہ / مصرف ِصدقات

مصرف ِصدقات

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کا یہ ادعا ہے کہ از روئے حدیث وہ اپنا مال پہلے اپنی ضروریات پر خرچ کرنے کا حق رکھتا ہے۔ پھر اس کے بعد اہل و عیال مقدم ہیں۔ ان سے جب زائد بچ جائے تو قرابتدار، ان کے بعد دوسرے مداتِ خیر میں خرچ کریگا۔
آیا اس کا یہ ادعا درست ہے ؟ یہ حدیث کس کتاب میں ملے گی ؟ بینوا تؤجروا
جواب : حدیث شریف میں صدقات سے متعلق روایت ہے کہ آدمی پہلے اپنی ذات پر خرچ کرے اس کے بعد کچھ زائد رہ جائے تو اہل و عیال پر صرف کرے ان سے کچھ بچ رہے تو رشتہ داروں کے ساتھ سلوک کرے، آخر میں دیگر امور خیر میں حصہ لے چنانچہ کنزالعمال جلد ۳ مطبوع قدیم الفصل الثانی فی آداب الصدقۃ میں حضرت جابر رضی اﷲعنہ سے روایت ہے: ابدأ بنفسک فتصدق علیھا فان فضل شیء فلأھلک فان فضل عن أھلک شیء فلذی قرابتک فان فضل عن ذی قرابتک شیء فھکذا و ھکذا۔
قبر میں دوسرا مردہ دفن کرنا
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی خواہش ہے کہ اپنی والدئہ مرحومہ کی قبر میں جن کو انتقال کئے ہوے ایک کافی دراز عرصہ گذرچکا ہے بعد وفات زید کی تدفین عمل میں آئے۔
متذکرہ بالا خواہش میں کوئی شرعی امر مانع تو نہیں ہے ؟ جواب باصواب بشکل فتوی مطلوب ہے ؟ بینوا تؤجروا
جواب : قبر اگر اتنی پرانی ہوگئی ہو کہ اس میں میت گل کر مٹی ہوجانے کا یقین ہو تو ایسی حالت میں اس قبر کو کھول کر دوسری میت دفن کرنا جائز ہے۔ پہلی میت کی اگر کچھ ہڈیاں باقی رہ گئی ہوں تو ان کو یکجا کرکے بازو دفن کردیا جائے اورنئی میت اور ان ہڈیوں کے درمیان مٹی کا فصل بنادیا جائے۔ فتاوی عالمگیری جلد اول صفحہ ۱۶۷ باب الجنائز میں ہے: ولو بلی المیت وصار تراباً جاز دفن غیرہ فی قبرہ وزرعہ والبناء علیہ کذا فی التبیین۔اور رد المحتار جلد اول صفحہ ۶۲۴ میں ہے: قال فی الفتح ولا یحفر قبر لدفن آخر الا أن بلی الأول فلم یبق لہ عظم الا أن یوجد فتضم عظام الأول ویجعل بینھما حاجز من تراب۔
پس صورت مسئول عنہا میں مذکورہ حالت میں تدفین درست ہے اور اگر احیاناً پہلی میت مرور زمانہ کے باوجود تازہ رہے تو پھر فوراً قبر بند کردی جائے۔
معافی مہر کے بعد مطالبہ کا حق نہیں
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کا انتقال ہوا۔ میت گھر لیجاتے وقت زید کی بیوہ نے زید کے بھائی بہنوں اور دیگر رشتہ داروں کو گواہ رکھ کر روبرو میت پکار کر حسب ذیل الفاظ کہے ’’میں زرمہر معاف کی سب لوگ گواہ رہیں قیامت کے دن‘‘ ایسی صورت میں کیا اب زوجہ مہر طلب کرسکتی ہے ؟ بینوا تؤجروا
جواب : بشرط صحت سوال صورت مسئول عنہا میں زید کی بیوہ نے میت کے ذمہ سے اپنا مہر معاف کردیا ہے اور اس کے گواہ بھی موجود ہیں تو زید کے ذمہ سے مہر ساقط ہوگیا۔ اب زید کی بیوہ کو مطالبئہ مہر کا کوئی حق نہیں۔فتاوی عالمگیری جلد اول صفحہ ۳۱۶ میںہے: امرأۃ المیت اذا وھبت المہر من المیت جاز۔
فقط واﷲ تعالٰی اعلم

TOPPOPULARRECENT