Monday , November 20 2017
Home / عرب دنیا / مصری پارلیمان کا ایکشن سے بھرپور پہلا اجلاس

مصری پارلیمان کا ایکشن سے بھرپور پہلا اجلاس

قاہرہ ۔ 11 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) بے ہوشی، بھیڑ اور الجھن یہ تمام علامتیں مصری پارلیمان کے پہلے اجلاس کی نمایاں خصوصیات رہیں جو اسپیکر اور ان کے دو نائبوں کے انتخاب کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ 2012 میں عدالت کے حکم کے ذریعے پارلیمان کو برطرف کردیا گیا تھا۔ اس کے بعد اکتوبر 2015 میں ہوئے انتخابات کے ذریعے وجود میں آنے والی یہ پہلی اسمبلی ہے۔ پارلیمنٹ کے سب سے عمر رسیدہ رکن ابوشقہ نے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس کے آغاز میں ہی خاتون رکن سلوی ابو الوفا بے ہوش ہوگئیں، طبی امداد کی فراہمی اور پہلے حلف اٹھوا کر انہیں آرام کے لیے گھر بھیج دیا گیا۔ بقیہ ارکان کی حلف برداری کے دوران ایک رکن مرتضی منصور نے الفاظ میں اضافہ کرتے ہوئے “میں آئین اور قانون کا احترام کروں گاکے بدلے میں آئین (کی شقوں) اور قانون کا احترام کروں گا” بول دیا۔ انہیں آئین کے دیباچے میں 25 جنوری کو (حسنی مبارک کی اقتدار سے علیحدگی) انقلاب شمار کیے جانے پر اعتراض تھا۔ دوسری جانب النور پارٹی کے رکن احمد شریف نے حلف برداری کے دوران قرآن کریم اٹھا لیا۔ اجلاس کے دوران ایک نومنتخب رکن معتز الشاذلی اپنے والد (سابق رکن پارلیمنٹ) کمال الشاذلی کی نشست پر ایک دوسرے رکن کو بیٹھا دیکھ کر چراغ پا ہوگئے تاہم ان کو دوسری نشست تلاش کرکے وہاں بٹھا دیا گیا۔ ادھر ایک دوسرے رکن ڈاکٹر سمیر غطاس پہلے ہی اجلاس میں اپنے پارلیمانی استثنا سے دست برداری کا اعلان کرتے ہوئے اسپیکر کے منتخب ہوتے ہی ان کی خدمت میں باقاعدہ درخواست پیش کردی۔ ایک دوسرے رکن محمد بدوی نے اپنی ذاتی گاڑی کو پارلیمنٹ کے اندر لانے کی اجازت نہ ملنے پر اپنی رکنیت سے مستعفی ہونے کی دھمکی دے دی۔

TOPPOPULARRECENT