Thursday , December 13 2018

مصر میں اجتماعی مقدموں کے استعمال پر امریکہ کو گہری تشویش

واشنگٹن 29 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام)امریکہ نے کہا کہ اسے مصر میں اخوان المسلمین کے سربراہ اور ان کے سینکڑوں حامیوں اجتماعی سزائے موت دیئے جانے پر گہری تشویس ہے ۔ وائیٹ ہاوز کے پریس سکریٹری جے کارنی نے کہا کہ امریکہ کو اجتماعی مقدموں کے استعمال اور موت کی سزائیں دینا جاری رکھنے پر گہری تشویش ہے ۔ خاص طور پر جبکہ 683 ملزمین کو ایک عدالتی فی

واشنگٹن 29 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام)امریکہ نے کہا کہ اسے مصر میں اخوان المسلمین کے سربراہ اور ان کے سینکڑوں حامیوں اجتماعی سزائے موت دیئے جانے پر گہری تشویس ہے ۔ وائیٹ ہاوز کے پریس سکریٹری جے کارنی نے کہا کہ امریکہ کو اجتماعی مقدموں کے استعمال اور موت کی سزائیں دینا جاری رکھنے پر گہری تشویش ہے ۔ خاص طور پر جبکہ 683 ملزمین کو ایک عدالتی فیصلہ میں سزائے موت دیدی گئی۔ گذشتہ ماہ بھی بین الاقوامی انصاف کے انتہائی بنیادی معیاروں سے انحراف کرتے ہوئے اجتماعی سزائے موت سنائی گئی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مصر پر ہر شہری کی ذمہ داری عائد ہوتی کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ضروری طریقہ کار بشمول منصفانہ مقدمہ چلائے جانے کو یقینی بنائے ۔

جس میں واضح ثبوت پیش کیا گیا ہو اور ملزمین کو مشیر قانونی تک رسائی حاصل رہے ۔ آزاد عدلیہ جمہوریت کا لازمی حصہ ہے ۔ موجودہ فیصلہ مصریوں کی بین الاقوامی انسانی حقوق قانون کے تحت عائد ذمہ داریوں کے مطابق نہیںہے ۔اخوان المسلمین نے صدر محمد بدیع اور ان کے 682 اسلام پسند حامیوں کو کل مصر کی ایک عدالت نے ملک کا سب سے بڑا اجتماعی مقدمہ چلانے کے بعد سزائے موت سنادی ہے ۔ مجرموں پر جنوبی صوبہ منیا میں 14 اگست کو ملازمین پولیس کی ہلاکتوں اور ارادہ قتل کا الزام تھا ۔ اس دن فوج نے وحشیانہ انداز میں معزول اسلام پسند صدر محمد مرسی کے حامیوں کے خلاف کارروائی کی تھی۔ قاہرہ میں جھڑپوں کے دوران سینکڑوں اور ہلاک کردیئے گئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT