Monday , September 24 2018
Home / عرب دنیا / مصر میں اخوان المسلمین کے 230 کارکنوں کو سزائے عمر قید

مصر میں اخوان المسلمین کے 230 کارکنوں کو سزائے عمر قید

قاہرہ ۔ 4 ۔ فروری (سیاست ڈاٹ کام) ایک مصری عدالت نے 230 کارکنوں کو عمر قید کی سزا سنائی کیونکہ انہوں نے فوج کے ساتھ 2011 ء کی بغاوت میںجھڑپوں میں حصہ لیا تھا۔ اس بغاوت کے نتیجہ میں آمر حکمران حسنیٰ مبارک کو اقتدار سے بیدخل ہونا پڑا تھا۔ غیر اسلامی احتجاجیوں کے خلاف ہنوز زبردست سزاؤں کا فیصلہ باقی ہے۔ 230 کارکنوں میں نامور مہم چلانے والے اح

قاہرہ ۔ 4 ۔ فروری (سیاست ڈاٹ کام) ایک مصری عدالت نے 230 کارکنوں کو عمر قید کی سزا سنائی کیونکہ انہوں نے فوج کے ساتھ 2011 ء کی بغاوت میںجھڑپوں میں حصہ لیا تھا۔ اس بغاوت کے نتیجہ میں آمر حکمران حسنیٰ مبارک کو اقتدار سے بیدخل ہونا پڑا تھا۔ غیر اسلامی احتجاجیوں کے خلاف ہنوز زبردست سزاؤں کا فیصلہ باقی ہے۔ 230 کارکنوں میں نامور مہم چلانے والے احمد دوما بھی شامل ہیں، جو پہلے ہی احتجاجی مظاہروں پر قابو پانے والے ایک جابرانہ قانون کی خلاف ورزی کے جرم میں تین سال کی سزائے قید پہلے ہی بھگت رہے ہیں۔ حسنیٰ مبارک کے جانشین محمد مرسی جو فی الحال پرامن احتجاجیوں کی ہلاکت اور جیل توڑکر فرار ہونے کے الزامات میں قید ہیں۔ حسنیٰ مبارک کے خلاف کلیدی احتجاجی تھے۔ آج کے فیصلہ میں کارکنوں کو فوج کے ساتھ جھڑپوں اور ڈسمبر 2011 ء میں قاہرہ کے تحریر چوک کے قریب تشدد پر اکسانے کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔

دیگر 39 ملزمین جو نابالغ ہیں، انہیں اسی مقدمہ میں 10 سال کی سزائے قید سنائی گئی۔ روزنامہ الاہرام کے بموجب 2011 ء میں تحریر چوک کے قریب جو بغاوت کا مرکزی مقام تھا، دھرنا دینے والوں کو فوج نے زبردستی منتشر کردیا تھاجس کی وجہ سے احتجاجیوں اور فوج و پولیس کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئی تھیں۔ مصر کی عدالت میں ہزاروں احتجاجیوں پر مقدمے چلائے گئے اور حکومت کے مخالفین کو تین سال کے انتشار کے بعد قید کردیا گیا۔ مرسی کو 2013 ء میں اقتدار سے بے دخل کردیا گیا ، اسی وقت سے حکومت مصر اخوان المسلمین اور اس کے حامیوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں، اسے دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے۔جاریہ ہفتہ کے اوائل میں مرسی کے 183 حامیوں کو 2013 ء میں حملہ کرتے ہوئے 15 پولیس عہدیداروں کو ہلاک کرنے کے جرم میں سزائے موت دی گئی ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT