Wednesday , November 22 2017
Home / اداریہ / مصر میں دھماکے

مصر میں دھماکے

شعلوں میں آج اپنے نشیمن کو دیکھ کر
آنکھیں جلیں تو اور دھواں دل میں آگیا
مصر میں دھماکے
مصر کے دو گرجا گھروں پر دھماکے کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے آئی ایس آئی ایس نے اس ملک کی اقلیتی آبادی کو نشانہ بنایا ہے ۔ شام میں باغیانہ سرگرمیوں کے ذریعہ خون ریزی کے واقعات کو کچلنے والی طاقتوں کا ردعمل اگر مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے کی شکل میں سامنے آتا ہے تو ایسے حملوں کی شدید مذمت کی جاتی ہے ۔ مصر میں عیسائیوں کی آبادی 10 فیصد ہے اور مشرق وسطیٰ میں سب سے زیادہ عیسائی اقلیت یہاں مقیم ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف مغرب کی جنگ کی حمایت کرنے والی صدر عبدالفتح السیسی کی حکومت کو کمزور کرنے اور مصر کے اتحاد و سلامتی کو غیر مستحکم کرنے کی غرض سے یہ دھماکے کیے گئے ہیں تو آنے والے دنوں میں یہاں کی صورتحال مزید ابتر ہوسکتی ہے ۔ مصر میں سرگرم آئی ایس آئی ایس کے کارکنوں نے اس سے پہلے بھی عیسائیوں کو نشانہ بنایا ہے ۔ جزیرہ سینائی میں برسوں سے مصر کی فوج اور پولیس سے نبرد آزما دولت اسلامیہ نے اب اپنے حملوں کا رخ مذہبی مقامات کی جانب کیا ہے تو یہ صوبائی شورش پسندی کو روکنے پولیس کی کوششوں کو ناکام بنانے والا ایک بڑا حملہ ہے ۔ سال 2013 میں فوج نے جب صدر محمود مرسی کو معزول کردیا تھا اور اسلام پسندوں کے خلاف کارروائیاں شروع کردی تھیں تب سے مصر کے عیسائیوں کو نشانہ پر رکھا گیا ہے ۔ عیسائیوں کے تعلق سے یہاں یہ بات عام ہے کہ صدر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ دینے میں انہوں نے اہم رول ادا کیا تھا ۔ 4 اگست 2013 کو قاہرہ میں موافق مرسی احتجاجی کیمپوں کو سیکوریٹی فورسیس نے زبردستی برخاست کیا تھا اس کارروائی میں کئی ہلاکتیں ہوئی تھیں ۔ اس کے دو ہفتوں بعد ہی مصر بھر میں زائد از 40 گرجا گھروں پر حملے کئے گئے تھے ۔ اخوان المسلمین کے اقتدار کو چھین لینے کے بعد مصر کے حالات عدم استحکام کا شکار رہے ہیں ۔ عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان تصادم کے واقعات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں لیکن یہ ایسی کارروائیاں ہیں جس کی شروعات کس نے کی تھی اور انجام کیا ہوگا یہ غور کرنا مغربی طاقتوں کے لیے ضروری ہوگا ۔ پوپ فرانسیس کے 28 اور 29 اپریل کے مجوزہ دورہ سے قبل گرجا گھروں کو نشانہ بناکر داعش نے عالمی سطح پر مخالف اسلام سوچ کی حامل طاقتوں کو تقویت پہونچانے کا کام کیا ہے ۔ اگرچیکہ گرجا گھروں میں دھماکوں سے عیسائیوں کی سیکوریٹی کے لیے خدمات انجام دینے والے سیکوریٹی آفیسرس ، پولیس ملازمین بھی ہلاک ہوئے ہیں ۔ مصر کے مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے والے ان حملہ آوروں کے نزدیک گرجا گھر اور مسجد کا کوئی احترام نہیں ہے کیوں کہ اس طنطا علاقہ میں چند دن قبل پولیس نے ایک مسجد سے بم برآمد کر کے اسے ناکارہ کیا تھا ۔ یہ مسجد یہاں صوفی ازم کا مرکز سمجھی جاتی ہے جہاں سنی مسلمانوں کا غلبہ ہے ۔ اکثریتی مسلم آبادی نے ہمیشہ عیسائیوں کے تحفظ میں اپنا اہم رول ادا کیا ہے ۔ سابق میں یہاں کی عیسائی برادری سے اظہار یگانگت کے لیے ائمہ مساجد نے گرجا گھروں تک مارچ بھی نکالا تھا ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ اسلام و مسلم دشمنی کی بدترین تاریخ رکھنے والے مغرب نے ہی ہر جگہ طبقات میں نفاق پیدا کرنے کے لیے اس طرح کے حربے استعمال کیے ہیں ۔ اسلام فوبیا کو ہوا دینے کے لیے ہی ایسی کارروائیوں کو بڑھاوا دیا جاتا ہے ۔ یہ مغربی طاقتیں ہی ہیں جو ایک طرف ایسے حملوں کی مذمت کرتی ہیں دوسری طرف طبقات ہیں دشمنی پیدا کرنے والی سازشوں کو بروے کار لاتی ہیں ۔ اسلام پسندوں کا آئی ایس جیسی تنظیموں سے کوئی تعلق نہیں ہوسکتا لیکن گرجا گھروں پر دھماکے کر کے یا کروا کر اسلام پسندوں کو انتہا پسند تنظیموں سے جوڑ کر طبقاتی جنگ کو ہوا دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انتہا پسندی اور گروہ واریت ہمیشہ سے ہی امن کے دشمن رہے ہیں ۔ ان کے ناپاک مقاصد کو ناکام بنانے کے لیے تمام طبقات کو متحد ہو کر ہی ہر حالات کا سامنا کرنا ہوگا ۔ یہ ایسے دشمن عناصر ہیں جو محض اپنے مفادات کی خاطر مہذب معاشرہ کو نفرت کی آگ میں جھونک کر حالات کو بگاڑتے ہیں ۔ گرجا گھروں میں ہوئے دھماکوں میں صرف عیسائی ہی نہیں مرے بلکہ یہاں تعینات مسلم مرد و خواتین سیکوریٹی آفیسرس بھی ہلاک ہوئے ہیں ۔ لہذا دھماکے کرنے والوں کو کسی خاص مذہب سے نہیں جوڑا جانا چاہئے بلکہ دہشت گردی کو ناکام بنانے کے لیے تمام طبقات کو مضبوط و متحد ہو کر کھڑے رہنے کی ضرورت ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT