Monday , December 18 2017
Home / Top Stories / مصر میں شیعہ ازم کا فروغ، ناموس صحابہؓ کا دفاع علماء پر فرض : شیخ الازہر

مصر میں شیعہ ازم کا فروغ، ناموس صحابہؓ کا دفاع علماء پر فرض : شیخ الازہر

قاہرہ۔ 10 نومبر۔(سیاست ڈاٹ کام)مصر کی سب سے بڑی دینی درسگاہ جامعہ الازھر کے سربراہ ڈاکٹر احمد الطیب نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے ملک میں اہل سنت مسلک کے نوجوانوں کو شیعہ مسلک کی طرف مائل کرنے اور مصر میں شیعہ ازم کی تبلیغ کیلئے بیرون ملک سے فنڈز فراہم کئے جارہے ہیں۔ ہم نے متعدد مرتبہ بیرون ملک سے ہونے والی متنازعہ فنڈنگ پر اعتراض کیا۔ ایک سنی اکثریتی ملک میں اس نوعیت کے فنڈ فتنہ و فساد کو فروغ دینے اور خون خرابے کا موجب بن سکتے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جامع الازھر نے نفرت، فرقہ پرستی اور دیگر سماجی اور معاشرتی برائیوں کا موجب بننے والی غیرملکی رقومات کے خلاف آواز بلند کی مگر اس پر کھل کر بات اس لئے نہ کی جا سکی کہ یہ ملک میں خون خرابے کا باعث بن سکتی تھی۔جامعہ الازھر کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ناموس صحابہؓ کے دفاع کا بیڑا ہم نے آج نہیں اٹھایا اور نہ ہی یہ کوئی وقتی پالیسی ہے بلکہ آج کے دور میں اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع فرض عین ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تخریب کار عناصر ملک میں فرقہ واریت کے فروغ کیلئے شیعہ اور سنی مسلک کے نوجوانوں میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ صحابہ کرامؓاور بزرگان دین کی بنیاد پر لوگوں کو آپس میں دست و گریباں کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں اور ان سازشوں میں غیرملکی ادارے اور تنظیمیں ملوث ہیں۔ ڈاکٹر احمد الطیب نے کہا کہ اس وقت مصر کے گلی کوچوں میں شیعہ مسلک کی تبلیغ کے عام چرچے ہو رہے ہیں۔ آج اگر خطے کے علماء نے اپنی ذمہ داریاں انجام نہ دیں تو انہیں کل قیامت کو جواب دینا ہو گا۔ آج اگر کسی گروپ کی وجہ سے ملک میں فتنہ برپا ہوتا اور خون خرابہ ہوتا ہے تو اسے روکنا حکومت وقت کے ساتھ ساتھ علماء دین کی بھی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ پچھلے سال رمضان میں ہم نے مصر کے تمام سنی اور شیعہ مسلک کے جید علماء پر مشتمل ایک فورم تشکیل دیا تھا۔ اس فورم نے اہل تشیع اور اہل سنت مسلک کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قتل سے سختی سے منع کیا گیا تھا لیکن بدقسمتی سے ہمیں اس میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT