Sunday , June 24 2018
Home / Top Stories / مصر میں لاپتہ بیٹیکیلئے آواز اٹھانے والی ماں گرفتار

مصر میں لاپتہ بیٹیکیلئے آواز اٹھانے والی ماں گرفتار

قاہرہ ۔ 4مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) زبیدہ کی ماں نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ عہدیداروںنے ان کی بیٹی کو اپریل 2017 سے حراست میں لے رکھا ہیمصر میں عہدیداروںنے اس ماں کو ‘جھوٹی خبریں’ پھیلانے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جس نے اپنی ‘لاپتہ’ بیٹی کے حوالے سے بی بی سی سے بات کی تھی۔مصر میں پولیس نے زبیدہ کی ماں کو دو ہفتوں سے اپنی حراست میں لے رکھا ہے۔ ماں نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ حکام نے ان کی بیٹی کو اپریل 2017 سے حراست میں لے رکھا ہے اور اس پر تشدد کر رہے ہیں۔مصری حکام نے تسلیم کیا ہے کہ وہ پندرہ روز سے پولیس کی حراست میں ہے۔البتہ زبیدہ پیرکے روز ایک ٹاک شو میں ظاہر ہوئیں اور تردید کی کہ انھیں کسی نے حراست میں لے رکھا تھا۔مصر کے وزیر اطلاعات نے بی بی سی مطالبہ کیا ہے کہ وہ غلط خبر شائع کرنے پر معافی مانگے۔بی بی سی نے کہا کہ وہ اپنے رپورٹنگ ٹیم کی رپورٹ پر قائم ہے اور آنے والے دنوں میں وہ مصری عہدیداروںکی شکایت پر ان سے بات کرے گا۔مصر کے سرکاری اخبار الحرام کے مطابق زیبدہ کی ماں پر الزام ہے کہ انھوں نے جھوٹی خبر پھیلا کر قومی مفاد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔پیرکے روز زبیدہ کے ٹاک شو میں ظاہر ہو کراپنے لاپتہ ہونے کی تردید کے بعد، ان کی ماں نے ایک ٹی وی چینل کو بتایا کہ ان کی بیٹی کو ٹی وی پر آنے پر مجبور کیا گیا تھا۔انھوں نے کہا کہ میں نے بی بی سی جو کچھ بتایا اس پر قائم ہوں۔مصر میں انسانی حقوق کے کارکنوں نے کہا ہے کہ زبیدہ کے مقدمے سے جڑے ہوئے ایک وکیل عزت غونیم ایک ہفتہ سے کام پر واپس نہیں آئے ہیں لیکن اس کی شہادت موجود نہیں ہے کہ حکام نے وکیل عزت غونیم کو حراست میں لے رکھا ہے۔ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے مصری عہدیدراوںسے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وکیل عزت غونیم کے حوالے سے معلومات ظاہر کرے ہیں کیونکہ اسے تشویش ہے کہ وکیل کو کہیں غائب تو نہیں کر دیا گیا۔زبیدہ کی ماں کی گرفتاری مصری صدر عبدل فتح السیسی کے اس بیان کے بعد ہوئی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ملک کے سکیورٹی اداروں کی توہین غداری کے زمرے میں آتی ہے

TOPPOPULARRECENT