Sunday , June 24 2018
Home / عرب دنیا / مصر میں مرسی کے 10 حامیوں کو عمرقید کی سزا

مصر میں مرسی کے 10 حامیوں کو عمرقید کی سزا

قاہرہ۔ 17؍اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام)۔ ممنوعہ اخوان المسلمین کے 10 ارکان کو عمرقید کی سزا سنائی گئی ہے، کیونکہ انھوں نے صدر محمد مرسی کی برطرفی کے خلاف احتجاج کے دوران لوگوں پر حملے کئے تھے اور جائیدادوں کو نقصان پہنچایا تھا۔ یہ واقعہ گزشتہ سال پیش آیا تھا۔ منصورہ کی فوجداری عدالت نے اخوان المسلمین کے 10 ارکان کو عمرقید کی سزا سنائی۔ سرکاری

قاہرہ۔ 17؍اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام)۔ ممنوعہ اخوان المسلمین کے 10 ارکان کو عمرقید کی سزا سنائی گئی ہے، کیونکہ انھوں نے صدر محمد مرسی کی برطرفی کے خلاف احتجاج کے دوران لوگوں پر حملے کئے تھے اور جائیدادوں کو نقصان پہنچایا تھا۔ یہ واقعہ گزشتہ سال پیش آیا تھا۔ منصورہ کی فوجداری عدالت نے اخوان المسلمین کے 10 ارکان کو عمرقید کی سزا سنائی۔ سرکاری خبر رساں ادارہ ’مینا‘ کی اطلاع کے بموجب مدعی علیہان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ سرکاری اجازت کے بغیر احتجاج کررہے تھے، عوامی جائیداد کو نقصان پہنچا رہے تھے، شہریوں پر حملہ کررہے تھے اور سڑکوں کی ناکہ بندی کررہے تھے جب کہ گزشتہ سال ستمبر میں احتجاج جاری تھا۔

4 ملزمین مقدمہ کے فیصلہ کے وقت عدالت میں حاضر تھے، باقی کو ان کی غیر موجودگی میں سزا سنائی گئی۔ مصر کے اولین منتخبہ صدر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد ان کے گروپ اور وفاداروں کو سرکاری کارروائی کا سامنا ہے۔ ہزاروں ارکان اب بھی قید ہیں اور سینکڑوں فوج کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک ہوچکے ہیں۔ سرکاری عہدیداروں نے اخوان المسلمین پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ملک گیر سطح پر عسکریت پسند حملے کررہے ہیں۔ 1,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور سرکاری عہدیداروں کی مرسی کے حامیوں کے خلاف کارروائی میں اب تک 16 ہزار افراد گرفتار کئے جاچکے ہیں۔

گزشتہ ماہ مصر کی ایک عدالت نے اخوان المسلمین کے سربراہ محمد بدیع اور 36 دیگر اسلام پسندوں کو عمرقید کی سزا سنائی تھی اور دیگر 10 ملزمین کی سزائے موت کی توثیق کردی گئی تھی۔ محمد بدیع پر الزام ہے کہ وہ مہلک احتجاجی مظاہروں میں ملوث ہیں۔ انھیں پہلے ہی سزائے موت سنائی جاچکی ہے۔ یہ سزائے موت دیگر 2 مقدمات کے فیصلوں میں سنائی گئی ہے۔ اپوزیشن کے خلاف گزشتہ سال محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سرکاری کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔ خود مرسی پر فی الحال احتجاجیوں کی ہلاکت، احتجاج کی سرپرستی اور 25 جنوری کو 2011ء کے اِنقلاب کے دوران قید سے فرار ہوجانے اور تحقیر عدالت کے ارتکاب کے الزامات عائد ہیں۔

TOPPOPULARRECENT