Saturday , June 23 2018
Home / Top Stories / مصر میں مُرسی کی تائید میں تشدد‘ پہلے مجرم کو سزائے موت کی تعمیل

مصر میں مُرسی کی تائید میں تشدد‘ پہلے مجرم کو سزائے موت کی تعمیل

قاہرہ۔7مارچ ( سیاست ڈاٹ کام) مصر میں وسط 2013ء کے دوران گڑبڑ و ہنگامہ آرائی کے دوران کئے گئے ایک قتل کے جرم میں اسلام پسند تنظیم اخوان المسلمون کے ایک حامی پر سزائے موت کی تعمیل کردی گئی ۔ صدر عبدالفتاح السیسی کے اقتدار پر فائز ہونے کے بعد معزول صدر مرسی کی تنظیم کے کسی حامی کو جرم ثابت ہونے پر موت کے گھات اتار دیئے جانے کا یہ پہلا واقعہ

قاہرہ۔7مارچ ( سیاست ڈاٹ کام) مصر میں وسط 2013ء کے دوران گڑبڑ و ہنگامہ آرائی کے دوران کئے گئے ایک قتل کے جرم میں اسلام پسند تنظیم اخوان المسلمون کے ایک حامی پر سزائے موت کی تعمیل کردی گئی ۔ صدر عبدالفتاح السیسی کے اقتدار پر فائز ہونے کے بعد معزول صدر مرسی کی تنظیم کے کسی حامی کو جرم ثابت ہونے پر موت کے گھات اتار دیئے جانے کا یہ پہلا واقعہ ہے ۔ وزارت داخلہ کے ایک بیان کے مطابق محمود حسن رمضان پر الزام تھا کہ 2013ء کے وسط میں اسلام پسندصدر مُرسی کی معزولی کے بعد پُرتشدد احتجاج کے ایک حصہ کے طور پر اُس نے اسکندریہ میں تین نوجوان بچوں کو بلند عمارت سے نیچے پھینک دیا تھا ۔

عدالت میں جرم ثابت ہونے کے بعد اس کو سزائے موت دی گئی تھی جس پر آج تعمیل کی گئی ۔مُرسی کی معزولی کے بعد اخوان المسلمون کے کسی حامی پر پہلی مرتبہ سزائے موت پر تعمیل ہوئی ہے ۔ محمود رمضان اخوان المسلمون کا رکن نہیں بلکہ صرف حامی تھا ۔ مصر میں سزائے موت کی منظوری سے متعلق دستاویزات بالعموم مفتی اعظم سے رجوع کئے گئے ہیں جو قوانین کے مطابق سزا کی گنجائش کا جائزہ لیتے ہیں ۔ ماضی میں محمود حسن رمضان کا ایک ویڈیو جاری ہوا تھا جس میں دکھایا گیا تھا کہ وہ القاعدہ کا سیاہ پرچم تھام کر بلند عمارت کی چھت پر بچوں کو حملے کا نشانہ بنا رہا تھا۔

اُس نے پانچ نوجوان بچوں کو بلندی سے نیچے پھینک دیا تھا جن کے منجملہ تین ہلاک اور دیگر دو زخمی ہوگئے تھے ۔ مُرسی کی معزولی کے بعد سے مصر میں اخوان المسلمون کے انتہا پسندوں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ مصرف کی مختلف عدالتوں میں اخوان کے کئی قائدین ‘ کارکنوں اور حامیوں کے خلاف مقدمات زیر دوران ہیں جن میں درجنوں افراد پر جرم ثابت ہونے پر سزائے موت دی گئی ہے اور مفتی اعظم ان سزاؤں کا جائزہ لے رہے ہیں ۔ خود مُرسی بھی فی الحال جیل میں ہیں ‘ جنہیں جاسوسی ‘ ملک سے بغاوت ‘تشدد وغیرہ جیسے کئی سنگین الزامات کا سامنا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT