Saturday , December 15 2018

مصر کے استصواب عامہ میں رائے دہی ممنوع : یوسف القرضاوی

اخوان المسلمین کے عالم دین کا فتویٰ، آئندہ ہفتہ فوجی حمایت یافتہ عبوری حکومت کا استصواب عامہ مقرر

اخوان المسلمین کے عالم دین کا فتویٰ، آئندہ ہفتہ فوجی حمایت یافتہ عبوری حکومت کا استصواب عامہ مقرر
دوحہ 8 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) اخوان المسلمین سے تعلق رکھنے والے عالم دین یوسف القرضاوی نے ایک فتویٰ جاری کرتے ہوئے مصریوں کو آئندہ ہفتہ مقرر فوجی حمایت یافتہ عبوری حکومت کے استصواب عامہ میں رائے دہی سے منع کردیا۔ معزول صدر محمد مُرسی کے اسلام پسند حامی پہلے ہی 14 اور 15 جنوری کو مقرر رائے دہی کا بائیکاٹ کرنے کی عوام سے اپیل کرچکے ہیں۔ عبوری عہدیداروں نے جولائی سے ایک نیا دستور تیار کیا ہے جس کیلئے عہدیداروں کا تقرر عبوری حکومت کی جانب سے کیا گیا تھا، جس کو فوج کی حمایت حاصل ہے۔ فوج نے ملک کے منتخبہ صدر کو معزول کرکے عبوری حکومت قائم کی تھی۔ مصر میں پیدا ہونے والے یوسف القرضاوی کو بے انتہا اثر و رسوخ حاصل ہے۔ اُنھوں نے قطر میں جلاوطنی اختیار کی ہے۔ الجزیرہ ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہاکہ استصواب عامہ میں شرکت اسلام دشمنی ہوگی

کیونکہ اِس کا مطلب گناہ کے ساتھ اشتراک ہوگا۔ دستور پر استصواب عامہ میں شرکت کرنے والے ایک طرح سے باغیوں کے اختیارات کو مستحکم کرنے میں اپنا حصہ ادا کریں گے یا اِسے جواز عطاء کریں گے یا اِس کے وجود کو دیرپا بنائیں گے اور اِس کے وجود کو استحکام عطاء کریں گے۔ اس طرح وہ گناہ میں تعاون کریں گے جس سے مذہب نے منع کیا ہے۔ یوسف القرضاوی کے کل رات دیر گئے جاری کردہ فتوے کے یہی الفاظ ہیں۔ القرضاوی برسوں قبل مصر کی شہریت سے محروم کئے جانے کے بعد سے قطر میں مقیم ہیں۔ وہ قبل ازیں مصری شہریوں کے نام ایک فتویٰ جاری کرچکے ہیں کہ وہ اِس عہدہ کے جائز مستحق مُرسی کا اقتدار بحال کریں۔ وہ مختصر وقت کے لئے فروری 2011 ء میں اپنے وطن واپس آئے تھے جبکہ نامور مردِ آہن حسنیٰ مبارک کی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا گیا تھا۔

اُنھوں نے قاہرہ کے تحریر چوک میں جو بغاوت کا مرکز بنا ہوا تھا، ایک خطبہ دیا تھا۔ قرضاوی کا فتویٰ اُس وقت منظر عام پر آیا ہے جبکہ محمد مُرسی آج قاہرہ میں دوبارہ عدالت کے اجلاس پر پیش ہوئے تاکہ جھڑپوں میں قصر صدارت کے باہر ڈسمبر 2012 ء میں اپوزیشن کارکنوں کی ہلاکت پر اُکسانے کے الزام میں اُن پر چلائے جانے والے مقدمہ کی سماعت شروع ہورہی ہے۔ عالم دین شخصی طور پر حکومت مصر کو مطلوب ہیں اور اُن کی عدم موجودگی میں اُن پر مقدمہ چلایا جاچکا ہے۔ قطر کے مُرسی کے دور حکومت میں مصر کے ساتھ قریبی تعلقات تھے جبکہ یہ اقتدار کا ایک سال مصر میں سیاسی شورش اور انتشار کا سال تھا۔ اُن کی اقتدار سے بیدخلی کے بعد قطر اور مصر کے تعلقات کشیدہ ہوگئے۔ پٹرول کی دولت سے مالا مال خلیجی مملکت نے اخوان المسلمین کے کئی قائدین کو جو مُرسی کی اقتدار سے بیدخلی کے بعد خونریز کارروائی کے نتیجہ میں فرار ہوکر قطر پہونچے تھے پناہ دی ہے۔

TOPPOPULARRECENT