Saturday , November 18 2017
Home / اداریہ / مصلحت کی سیاست

مصلحت کی سیاست

یاد آئی کیوں تسلی آپ کی
درد میں دل مبتلا ہونے کو تھا
مصلحت کی سیاست
فوجیوں کیلئے ایک عہدہ ایک پنشن مسئلہ پر گہما گہمی پیدا ہوگئی ہے ۔ صوبیدار رام کشن گریوال نے اس مسئلہ پر خودکشی کرلی تھی ۔ اس کے افراد خاندان سے اظہار یگانگت کرنے اور پرسہ دینے کیلئے پہونچنے والے کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی ‘ دہلی کے چیف منسٹر اروند کجریوال اور ڈپٹی چیف منسٹر منیش سیسوڈیا کو مرکزی حکومت کے کنٹرول والی پولیس نے گرفتار کرلیا ۔ اب منسٹر آف اسٹیٹ دفاع جنرل ( ریٹائرڈ ) وی کے سنگھ اپوزیشن کے قائدین کو درس دینے پر اتر آئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ او آر او پی کے مسئلہ کو سیاسی رنگ نہیں دیاجانا چاہئے ۔ اس مسئلہ پر سیاست کرنے سے گریز کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے اسے ملک کی دفاعی افواج سے متعلق مسئلہ قرار دیا ہے ۔ گذشتہ دنوں سے وزیر اعظم نریندر مودی یہ ادعا کرتے رہے ہیں کہ این ڈی اے حکومت نے او آر او پی مسئلہ کی یکسوئی کردی ہے ۔ انہوں نے یہ اعلان دیپاولی کے موقع پر ہماچل پردیش میں فوجیوں کے ساتھ دیوالی منانے کے موقع پر اور اپنے ریڈیو پروگرام من کی بات کے دوران بھی کیا ہے ۔ تاہم ان کے دعوی کی قلعی چند دن ہی میں کھل گئی جب خود ایک فوجی نے اس مسئلہ پر حکومت کے اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے خود کشی کرلی ۔ اب جب اپوزیشن کے قائدین غمزدہ افراد خاندان سے اظہار یگانگت کیلئے پہونچے تو انہیں گرفتار کرلیا گیا اور انہیں یہ تلقین کی جا رہی ہے کہ اس مسئلہ پر سیاست نہیں کی جانی چاہئے ۔ جنرل وی کے سنگھ خود سابق فوجی سربراہ ہیں اور اب وہ حکومت میں ہیں۔ اگر وہ کسی متوفی فوجی کے افراد خاندان سے اظہار یگانگت کرنے کو سیاست کرنا سمجھتے ہیں تو پھر انہیں اس وقت بھی لب کشائی کرنی چاہئے تھی جب سرحد پار کئے گئے سرجیکل حملوں پر سیاست کی گئی تھی ۔ خود ان کی حکومت اور ان کی حکومت میں شامل وزرا نے فوج کی جانب سے کی گئی کارروائی کا سہرا اپنے سر باندھنے کی کوشش کی تھی ۔ اسے حکومت کا کارنامہ قرار دے کر پیش کیا تھا ۔ سارے ملک میں اس کارنامہ کو اجاگر کرتے ہوئے پوسٹر بازی کی گئی تھی ۔ ایک دوسرے کو مٹھائیاں پیش کی گئی تھیں ۔ یہ کہا گیا تھا کہ اب تک کسی حکومت نے اس جرات کا اظہار نہیں کیا تھا جتنا مودی کی قیادت میں این ڈی اے حکومت نے کیا ہے ۔
سرجیکل حملے خالصتا ہندوستانی فوج کا دلیرانہ کارنامہ تھا ۔ ہماری بہادر فوج نے دشمن کے گھر میں گھس کر وہاں موجود ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا ۔ فوج نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ یہ کارروائی ضرورت کے مطابق تھی اور مستقبل میں بھی جب کبھی جیسی ضرورت محسوس ہوگی فوج اس طرح کی کارروائی کریگی ۔ ان حملوں پر جو سیاست کی گئی تھی وہ اس لئے درست قرار دی جا رہی ہے کیونکہ اس سے بی جے پی نے سیاسی اور انتخابی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی تھی ۔ اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں ایسے میں بی جے پی اور این ڈی اے حکومت کا مطمع نظر اترپردیش میں سیاسی فائدہ حاصل کرنا تھا ۔ اس وقت تو مرکزی حکومت کے وزرا نے خود اس مسئلہ پر سیاسی بیان بازیاں کرنے کی کوشش کی تھی ۔ انہوں نے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی حتی المقدور کوشش کی تھی ۔ اس وقت وی کے سنگھ کو اس طرح کی بیان بازیوں پر کوئی اعتراض نہیں ہوا تھا حالانکہ ان بیان بازیوں سے فوج کا سہرا اپنے سر باندھنے کی کوششیں ہو رہی تھیں۔ اس سارے معاملے میں فوج کو کہیں پس منظر میں ڈھکیل دیا گیا تھا ۔ اس کے کارنامہ کو اس انداز سے ملک و قوم کے سامنے پیش نہیں کیا گیا تھا جس طرح کیا جانا چاہئے تھا ۔ اگر اس میں کچھ ہوا تو محض سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش ہوئی تھی اور یہ تاثر دیا گیا تھا کہ یہ کارروائی بھی فوج نے صرف این ڈی اے حکومت کی وجہ سے کی ہے اپنے طور پر نہیں ۔ ایسا کرنا فوج کے کارنامہ کو گھٹانے کی کوشش کے مترادف تھا ۔ حالانکہ اس وقت کئی گوشوں سے کہا جا رہا تھا کہ حساس اور قومی سلامتی کے مسئلہ پر سیاست کرنے سے گریز کیا جانا چاہئے ۔ تاہم سرکاری حلقوں نے اور وزرا نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی تھی ۔
اب جب ایک فوجی نے خود کشی کرلی اور او آر او پی کے مسئلہ پر ناراضگی دکھائی دے رہی ہے تو حکومت اس پر سیاست سے گریز کا مشورہ دے رہی ہے ۔ یہ مسئلہ ہمارے ملک کے فوجیوں اور ان کے افراد خاندان کے مستقبل اور ان کی خوشحالی سے جڑا ہوا ہے ۔ اس پر سماج کے ہرفکرمند طبقہ کو نمائندگی کرنے اور فوج کے مسائل کو حکومت سے رجوع کرنے کا مکمل حق ہے اور ایسا کیا جانا چاہئے ۔ تاہم چونکہ حکومت کو یہ اندیشہ لاحق ہے کہ وہ اپنے دکھاوے کے اعلانات کے ذریعہ جو ماحول پیدا کرنا چاہتی ہے وہ ایسے واقعات سے زائل ہوجائیگا اور حکومت کے دعووں کی حقیقت عوام کے سامنے آجائیگی اس لئے اس مسئلہ پر سیاست سے گریز کا مشورہ دیا جا رہا ہے ۔ یہ سب کچھ اور نہیں بلکہ حکومت کی مصلحت کی سیاست ہی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT