Friday , December 15 2017
Home / Top Stories / مصنفین کا احتجاجی جلوس، ساہتیہ اکیڈیمی کو یادداشت پیش

مصنفین کا احتجاجی جلوس، ساہتیہ اکیڈیمی کو یادداشت پیش

جن مت اور بی جے پی کے طلبہ شعبہ کا جوابی احتجاجی جلوس ، اکیڈیمی پر دباؤ قبول کرنے کا الزام
نئی دہلی ۔ 23 ۔ اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) کالی پٹیوں اور بازو بند کے ساتھ مصنفین اور ان کے حامیوں نے ایک یکجہتی جلوس ساہتیہ اکیڈیمی کے ہنگامی اجلاس سے قبل منعقد کیا۔ ہنگامی اجلاس مصنفین کی جانب سے ملک گیر سطح پر بڑھتی ہوئی عدم رواداری اور ایم ایم گلبرگی کے قتل کے خلاف بطور احتجاج ایوارڈ واپس کرنے پر غور کرنے کیلئے طلب کیا گیا ہے۔ مختلف زبانوں کے مصنفین خاموش جلوس میں شریک ہوئے جو صفدر ہاشمی مارگ دہلی کے سری رام سنٹر سے ساہتیہ اکیڈیمی کی عمارت تک نکالا گیا تھا جس میں جلوسی بیانرس اٹھائے ہوئے تھے۔ ایک یادداشت اکیڈیمی کو پیش کی گئی جس میں قرارداد کی منظوری پر مطالبہ درج تھا جس میں عہد کیا گیا ہے کہ آزادیٔ تقریب اور مصنفین کے حق ناراضگی کے تحفظ کیلئے سخت اقدامات کئے جائیں گے۔

ملک گیر سطح سے کم از کم 35 مصنفین گزشتہ چند ہفتہ میں ساہتیہ اکیڈیمی ایوارڈس واپس کرنے کے اپنے فیصلہ کا اعلان کرچکے ہیں۔ ساہتیہ اکیڈیمی کے چند عہدیدار بھی ملک گیر سطح پر عدم رواداری میں اضافہ کے پیش نظر اپنے عہدوں سے مستعفی ہوچکے ہیں۔ یادداشت میں کہا گیا ہے کہ عاملہ کونسل کو یہ قرارداد منظور کرنی چاہئے کہ ساہتیہ اکیڈیمی سخت اقدامات کرے گی تاکہ آزادی تقریب اور مصنفین کے حق ناراضگی کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے ۔ احتجاجیوں نے دیوالی کے حالیہ بیانات پر بھی سخت اعتراض کیا جنہوں نے کئی مصنفین کے ایوارڈس واپس کرنے کے فیصلہ کو ’’غیر منطقی‘‘ قرار دیا تھا۔ مصنفین نے تیواری سے اپنے بیانات کے پیش نظر تحریری معذرت خواہی کا اکیڈیمی ایوارڈ یافتہ مصنفین سے مطالبہ کیا۔ بیان میں تیواری نے کہا تھا کہ اپنے ایوارڈس کی رائلٹیوں سے مصنفین کافی فائدہ اٹھاچکے ہیں۔

مصنفین نے تیواری کے استعفیٰ کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ اگر اکیڈیمی کلبرگی کے تعزیتی اجلاس کا دہلی میں انعقاد نہ کریں تو تیواری کو استعفیٰ دینا چاہئے ۔ 13 ہندی ۔اردو کے مصنفین کے وفد نے 16 ستمبر کو اکیڈیمی کے نمائندوں سے ملاقات کر کے ’’شوک سبھا‘‘ کے انعقاد کا مطالبہ کیا تھا لیکن اکیڈیمی نے مبینہ طور پر ایسا کرنے سے انکار کردیا تھا ۔ احتجاجی جلوس میں پانچ گروپس جنوادی لیکھک سنگھ، پرگتی شیل لیکھک سنگھ ، جن سنسکرتی منچ، دلت لیکھک سنگھ اور ساہتیہ سموات کے نمائندے، ممتاز مصنفین کے این دارو والا ، گیتا ہری ہرن ، انورادھا کپور ، شیکھر جوشی اور جاوید علی شامل تھے ۔ ملک کی ربیع تاریخ کے مصنفین کے اس اجتماع کو ایک تاریخی اقدام قرار دیا گیا اور احتجاجیوں نے اکیڈیمی سے مطالبہ کیا کہ وہ کلبرگی اور دیگر مصنفین اور معقولیت پسندوں کے قتل کی مذمت کرے۔ قوم پرست ذہنیت کے فنکاروں اور دانشوروں کے مشترکہ کارروائی گروپ جن مت نے مصنفین کے احتجاجی جلوس پر جوابی احتجاج کا اہتمام کیا اور وزیراعظم نریندر مودی کی تائید میں ووٹ نہ دینے کی مصنفین کی اپیل پر سخت اعتراض کیا۔ بی جے پی کے طلبہ شعبہ اے بی وی پی کے کارکن بھی اس جوابی احتجاجی جلوس میں شریک ہوئے۔ جن مت نے اپنے بیان میں کہا کہ ساہتیہ اکیڈیمی کو مصنفین کے دباؤ کے تحت کام نہیں کرنا چاہئے کیونکہ یہ لوگ مفادات حاصلہ کی تائید میں احتجاج کر رہے ہیں۔

 

ساہتیہ اکیڈیمی کا ہنگامی اجلاس، ایوارڈس دوبارہ حاصل کرلینے ادیبوں سے اپیل
نئی دہلی۔/23اکٹوبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) معقولیت پسند ادیب ایم ایم کلبرگی کے بہیمانہ قتل کی پرزور مذمت کرتے ہوئے ساہتیہ اکیڈیمی نے آج ایک قرارداد اتفاق آراء سے منظور کرتے  ہوئے ریاستی اور مرکزی حکومت سے اپیل کی ہے کہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کیلئے موثر اقدامات کئے جائیں اور قلمکاروں سے کہا کہ اپنے اپنے ایوارڈس دوبارہ حاصل کرلیں جو کہ ادیبوں پر حملوں کے خلاف بطور احتجاج ساہتیہ اکیڈیمی کو واپس کردیئے گئے تھے۔ مصنفین کے احتجاج کے پیش نظر اپنے ہنگامی اجلاس میں ادبی ادارہ نے ارکان سے بھی گذارش کی ہے کہ اپنے استعفوں سے بھی دستبردار ہوجائیں۔آج کے اجلاس میں24 میں سے 30 اکزیکیٹو کونسل ارکان نے شرکت کی۔ تاہم ایک اور رکن کے سچتا نندا جنہوں نے اکیڈیمی کے تمام عہدوں سے استعفی دے دیا ہے بتایا کہ یہ ادبی ایوارڈ دستور میں توضیح اظہار خیال کی آزادی کی پاسداری اور ادیبوں کے ساتھ اظہار یگانگت میں ناکام ہوگیا ہے۔ اکیڈیمی کا آئندہ اجلاس 17ڈسمبر کو طلب کیا گیا ہے جس میں ایوارڈس کی واپسی سے رونما صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT