Saturday , January 20 2018
Home / شہر کی خبریں / مضافاتی علاقوں میں بیشتر کالج طلباء و طالبات بے راہ روی کا شکار

مضافاتی علاقوں میں بیشتر کالج طلباء و طالبات بے راہ روی کا شکار

والدین کی لا تعلقی افسوسناک ، لڑکے لڑکیوں کا میل ملاپ اور اخلاق سوز حرکات ، نئی نسل کو تباہ کررہی ہیں

والدین کی لا تعلقی افسوسناک ، لڑکے لڑکیوں کا میل ملاپ اور اخلاق سوز حرکات ، نئی نسل کو تباہ کررہی ہیں
حیدرآباد ۔ 14 ۔ اکٹوبر : ( نمائندہ خصوصی ) : حیدرآباد کے اطراف و اکناف مضافاتی علاقوں میں تعلیمی اداروں کا ایک جال پھیلا ہوا ہے جو ایک خوش آئند علامت ہے ۔ بیشتر کالجس میں مسلم لڑکے لڑکیاں بھی تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ تاہم اس معاملے کا ایک منفی پہلو بھی ہے جس پر توجہ دینا اور اس کا سدباب کرنا ہر والدین کی ذمہ داری ہے ۔ دراصل شہر سے دور واقع ان کالجس میں پڑھنے والے بچوں کے لیے والدین نے انہیں گاڑیاں دلوائی ہیں یہ سوچ کر کہ ہر روز بچوں کو کالج آنے جانے میں سہولت رہے گی ، یہ خیال تو یقینا اچھا تھا لیکن اس کے نتائج بے حد تشویشناک برآمد ہورہے ہیں ۔ معین آباد ، شاہ آباد ، چیوڑلہ ، وقار آباد ، ابراہیم پٹنم ، کوم پلی ، گھٹکیسر ، شاد نگر ، نارسنگی ، ابراہیم باغ اور رنگاریڈی وغیرہ علاقوں میں جہاں بے شمار کالجس موجود ہیں ۔ نمائندہ سیاست نے ان مضافاتی علاقوں کے کالجس کے پاس ان کالجوں میں زیر تعلیم طلباء و طالبات کی نقل و حرکت کا مشاہدہ کیا ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ بیشتر کالجوں کی اپنی بسیں بھی چلتی ہیں لیکن آج کل کے نوجوان بسوں میں سفر کرنا پسند نہیں کرتے اور موٹر سائیکل کا تیز رفتاری کے ساتھ استعمال کرتے ہیں ۔ ان موٹر سائیکلوں پر برقعہ پوش لڑکیاں بھی لدی ہوئی دکھائی دیتی ہیں ۔ شرم و حیا تو گویا رخصت ہوگئی ہے ۔ بے باکی کے ساتھ دوستی کے نام پر میل ملاپ بھی ہوتا ہے ۔ یہ تعلیمی درسگاہیں ہر نا مناسب اور ممنوعہ تفریح کا ذریعہ بن گئی ہیں ۔ عام طور پر مسلم لڑکیاں اس بات کی شکایت کرتی ہیں کہ ان کے برقعے چوری ہوجاتے ہیں ۔ اس کے مختلف وجوہات کا تذکرہ کرتی ہوئی ایک طالبہ نے بتایا کہ غیر مسلم لڑکیاں اپنے بوائے فرینڈ سے ملنے اور اپنی شناخت چھپانے کے مقصد سے بھی مسلم لڑکیوں کے برقعے چوری کرلیتی ہیں ۔ لیکن مسلم والدین اس خوش فہمی میں نہ رہیں کہ بے راہ روی کی شکار برقعہ پوش صرف غیر مسلم لڑکیاں ہیں ۔ انہیں بھی اپنی لڑکی اور لڑکے پر کڑی نظر رکھنے اور مذہبی تعلیم سے آگاہی کی ضرورت ہے ۔ واضح رہے کہ نمائندہ سیاست کو ایک شراب کی دکان بھی دکھائی دی جہاں کم عمر بچے شوق فرما رہے تھے ۔ ہاتھوں میں کتابیں تو تھیں ، گلے میں بیاگ بھی لٹک رہا تھا ۔ لیکن شوق کچھ اور ہورہا تھا ۔ گنڈی پیٹ ، حمایت ساگر اور کئی پارکس ایسے ہیں جہاں پر یہ نوجوان لڑکے لڑکیاں نعوذباللہ خرمستیاں کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ صاحبزادیوں کا یہ حال ہے کہ گھر سے نکلتے وقت تو برقعہ پہنتی ہیں لیکن کچھ ہی فاصلے پر اتار دیتی ہیں ۔ ہماری یہ بیٹیاں جو ان ہی کالجوں میں زیر تعلیم ہیں ۔ غیر مسلم نوجوانوں کے ساتھ سیر و تفریح کرتی ہوئی نظر آرہی ہیں ۔ اللہ اس صورت حال پر رحم فرمائے ۔ دوسری طرف صاحبزادوں کا عالم یہ ہے کہ وہ گاڑی کم چلاتے ہیں کرتب زیادہ دکھاتے ہیں ۔ یہ شوق اتنا بڑھ گیا ہے کہ کچھ نوجوان تو ایک ہی پہیہ پر گاڑی دوڑانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ کچھ ایسے بھی نوجوان ہیں جو اپنی بائک پر تین تین دوستوں کو بٹھا کر تیز رفتاری کے ساتھ بائک چلاتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ والدین کی نیک نیتی پر کوئی شبہ نہیں لیکن ان نوجوانوں کا کیا کیا جائے جو اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر گاڑیاں چلاتے ہیں ۔ والدین نے تو انہیں کالج میں اڈمیشن دلاکر انہیں بائک دلادی ہیں وہ مطمئن ہیں کہ ایک دن ان کا بیٹا ڈاکٹر یا انجینئر بن جائے گا ۔ مگر یہ والدین کی خام خیالی ہے انہیں اپنے اپنے خوابوں کی سچی
تعبیر ڈھونڈنی چاہئے ۔ انہیں یہ دیکھنا چاہئے کہ ان کا بیٹا کالج میں کیا کیا شوق کرتا ہے ۔ سگریٹ نوشی اور گٹکے کا استعمال تو عام بات ہوچکی ہے ۔ اللہ ہماری حالت پر رحم فرمائے ، ہمیں ایسی صورتحال کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینا چاہئے ۔ والدین اور قوم کے بزرگ افراد ، اس ذمہ داری سے راہ فرار نہیں اختیار کرسکتے ۔ جو قوم اپنی نوجوان نسل کا تحفظ نہیں کرتی ۔ انہیں صحیح تربیت فراہم نہیں کرتی وہ قوم اخلاقی ، مذہبی بلکہ ہر اعتبار سے مفلس ہوجاتی ہے ۔لہذا والدین اور قوم کے ذمہ داران خواب غفلت سے جاگیں اور اپنی نئی نسل کو تباہی اور ہلاکت سے بچائیں۔ ہم آپ سے گذارش کرتے ہیں آپ ان تصاویر کو غور سے دیکھیں جس سے ساری حقیقت اور سچائی آپ کے سامنے واضح ہوجائے گی ۔۔

TOPPOPULARRECENT