Thursday , May 24 2018
Home / شہر کی خبریں / مضافاتی علاقوں کی قدیم مساجد کو آباد کرنے وقف بورڈ کی پہل

مضافاتی علاقوں کی قدیم مساجد کو آباد کرنے وقف بورڈ کی پہل

صدر نشین وقف بورڈ محمد سلیم کی ڈپٹی ڈائرکٹر آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا سے بات چیت
حیدرآباد ۔21۔ ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ نے شہر کے مضافاتی علاقوں میں موجود تاریخی مساجد کو آباد کرنے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے تحت موجود مساجد کو آباد کرنے کیلئے متعلقہ محکمہ کے عہدیداروںکے ساتھ اجلاس منعقد کیا گیا۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے آج ڈپٹی ڈائرکٹر آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے نارائنا کو ان مساجد کی تفصیلات حوالے کیں جو آرکیالوجیکل سروے کے تحت ہے اور جنہیں وقف بورڈ آباد کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے شیخ پیٹ میں واقع 400 سالہ قدیم قطب شاہی مسجد کی تفصیلات حوالے کیں جس کا تذکرہ وقف گزٹ میں شامل ہے۔ مسجد شیخ نامی یہ خوبصورت مسجد طویل عرصہ سے غیر آباد ہے۔ مقامی افراد نے مسجد کو آباد کرنے کیلئے وقف بورڈ سے مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے کہا کہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا سے اجازت ملنے کے بعد مسجد کی تعمیر و مرمت کا کام شروع کیا جائے گا۔ اس خوبصورت مسجد کی تزئین نو کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس مسجد کے علاوہ دیگر قدیم مساجد کا ریکارڈ بھی آرکیالوجیکل سروے کے حوالے کیا جائے گا۔ محکمہ کے ڈائرکٹر کے ساتھ کل صدرنشین وقف بورڈ کا اجلاس منعقد ہوگا جس میں تاریخی مساجد کی تعمیر کی اجازت حاصل کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ تمام غیر آباد مساجد کو آباد کرے گا اور وہاں پانچ وقت نمازوں کا اہتمام کیا جائے گا۔ اسی دوران عیدگاہ گٹلہ بیگم پیٹ کی اراضی پر غیر قانونی تعمیر کردہ پارکنگ شیڈس کے انہدام کیلئے کلکٹر رنگا ریڈی کو کل جمعہ کے دن وقف بورڈ کے دفتر مدعو کیا گیا ہے۔ کلکٹر کو اراضی کے سلسلہ میں تفصیلات حوالے کی جائیں گی ان سے خواہش کی جائے گی کہ غیر مجاز قابضین نے جو پارکنگ شیڈس تعمیر کئے ہیں ، انہیں منہدم کرتے ہوئے اوقافی اراضی کا تحفظ کیا جائے۔ عدالت کے احکامات کے مطابق وقف بورڈ سے نوٹیفکیشن کی اجرائی کی تیاریاں جاری ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT