Tuesday , December 12 2017
Home / Top Stories / مضبوط خاندانی اقدار کی بنا آئی ایس قدم جمانے میں ناکام

مضبوط خاندانی اقدار کی بنا آئی ایس قدم جمانے میں ناکام

والدین کو بچوں کے بارے میں فکر ، ائمہ کی جانب سے آئی ایس کے خلاف جلوس ثقافتی کرشمہ ، راجناتھ سنگھ

لکھنؤ ۔ /27 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے آج کہا کہ عالمی دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) ہندوستان میں اپنی جڑیں قائم کرنے کی کوشش میں ناکام رہی کیونکہ یہاں ہمارے سماج میں انتہائی مضبوط خاندانی اقدار پائے جاتے ہیں جو انتہاپسندی میں مزاحم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج ساری دنیا میں آئی ایس کے بارے میں بات کی جارہی ہے لیکن ہندوستان ساری دنیا میں واحد ایسا ملک ہے جہاں اسے اپنی جڑیں قائم کرنے میں ناکامی ہوئی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستانی تہذیب میں خاندانی اقدار کو نمایاں اہمیت حاصل ہے ۔ مرکزی وزیر نے اس ضمن میں ایک مثال پیش کی کہ جب ایک مسلم نوجوان ممبئی میں انتہاپسندی کے چنگل میں پھنس جاتا ہے تو اس کے والدین مجھ (راجناتھ سنگھ) سے رجوع ہوکر اسے بچانے کی درخواست کرتے ہیں ۔ یہ ہمارے ملک کی قدریں ہیں ۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ آئی ایس کو کبھی بھی ہندوستان میں برتری قائم کرنے کا موقع نہیں ملے گا ۔ راجناتھ سنگھ آج ایک کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک کی تہذیب کا ایک کرشمہ ہی سمجھا جائے گا کہ ائمہ اکرام نے آئی ایس کے خلاف جلوس نکالے ۔ ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ اس تہذیب کا تحفظ کیا جائے ۔ اگر ہم اسے متحد رکھتے ہیں تو کوئی بھی طاقت ہندوستان کو سوپر پاور بننے سے نہیں روک سکتی ۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ انگریزوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی تھی کہ ہندوستان کی کوئی حقیقت نہیں لیکن لفظ ’’صفر‘‘ کی اختراع ہم نے کی تھی ۔ ہندوستان نے ریاضی ، طب اور فلکیات کے شعبہ میں کافی نمایاں خدمات انجام دی ہیں ۔ ہمارا ملک آکسفورڈ اور ہارورڈ کے قیام سے پہلے ہی تعلیم کا اہم مرکز تھا ۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ ملک کی سدابہار قدروں میں عوام کے ساتھ رواداری کی تعلیم بھی دی جاتی ہے ۔ یہ قدریں ہمیں سکھاتی ہیں کہ ذات پات ، مذہب اور طبقہ کی بنیاد پر امتیاز نہ برتا جائے ۔ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ہندوستان واحد ایسا ملک ہے جہاں مسلمانوں کے تمام 72 فرقے مل جل کر رہتے ہیں اورایسا کسی ایک اسلامی ملک میں بھی نہیں ہے ۔ جب ایرانیوں کو خود ان کے ملک سے جلاوطن کیا گیا ، انہیں ہندوستان میں عزت و اکرام ملا ۔ یہ ہمارے ملک کی تعلیمی اور ثقافت کا ثمرہ ہے ۔ تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے کہا کہ تعلیم کے بغیر ہندوستان کی ترقی کے  خواب کو پورا نہیں کیا جاسکتا ۔ انہوں نے کہا کہ بیروزگاری کا حل بھی تعلیم ہی ہے ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر عسکریت پسندی اور بائیں بازو کی انتہاپسندی برقرار رہیں تو صرف تعلیم کے ذریعہ ہی مسائل کو حل نہیں کیا جاسکتا ۔انہوں نے کہا کہ صرف علم حاصل کرنا کافی نہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اعلیٰ اقدار کی پاسداری بھی کرنی چاہئیے۔ انہوں نے کہا کہ بعض معاملات  میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ایسی سرگرمیوں میں دیکھا گیا اور وہ اپنے راستے سے بھٹک گئے ۔ تعلیم کسی شخص کو اتنی طاقت فراہم کرتی ہے کہ وہ صرف قسمت اور یقین پر منحصر نہیں ہوتا۔

TOPPOPULARRECENT