Monday , June 25 2018
Home / ادبی ڈائری / مضطر مجاز کے نام معنون شام کا کامیاب انصرام

مضطر مجاز کے نام معنون شام کا کامیاب انصرام

محبوب خان اصغر

محبوب خان اصغر
مضطر مجاز نئے دور کے ایک بڑے شاعر ہیں اور یہی ان کی ہمہ جہت شخصیت کا تابندہ پہلو ہے گو کہ وہ صحافی بھی ہیں ۔ مترجم ، مبصر اور نقاد بھی ہیں لیکن ان کی شناخت میں ان کی مشق سخن کا بڑا دخل ہے ۔ ان خیالات کا اظہار نامور مورخ ڈاکٹر ضیاء الدین احمد شکیب (لندن) نے کیا ۔ وہ محفل اقبال شناسی کے زیر اہتمام آراستہ ’’ایک شام مضطر مجاز کے نام‘‘ کی صدارت فرمارہے تھے ۔ 2 جنوری کو اردو ہال حمایت نگر میں منعقدہ اس جلسہ میں اپنے صدارتی خطاب میں ڈاکٹر شکیب نے کہاکہ مضطر مجاز نے معاشرے کو بہت کچھ دیا مگر معاشرے نے انہیں کیا دیا ، اسی تصور نے ان کی اعتراف خدمات کو تحریک دی ہے ۔ انگلستان اور امریکہ کی مختلف ادبی انجمنوں نے انہیں مدعو کیا اور ان کی توقیر بڑھائی یہ دکن والوں کیلئے باعث صد افتحار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج جہاں تحسین ناشناسی کا ماحول گرم ہے ایسے میں مضطر کی آئینہ داری کا اعتراف ہم پر لازم ہوجاتا ہے ۔ سید امتیاز الدین نے ابتداء میں مضطر مجاز کو متعارف کرواتے ہوئے خوبصورت پیرایہ اظہار کو وسیلہ بنایا ۔ جناب سید تراب الحسن پنجتن موظف آئی اے ایس نے مضطر مجاز کے شعر رویے سے متعلق کہا کہ انہوں نے پرانی باتوں کو نئے حالات سے مطابق کرکے جدید انداز میں پیش کیا ہے ۔ وہ اپنے اردگرد کے حالات سے باخبر ہیں ۔ عالمی سطح پر ہونے والی کشمکش اور آویزش کا احاطہ بھی انکی شاعری میں جا بجا نظر آتا ہے ۔
ممتاز ترقی پسند شاعر راشد آذر نے غالب اکیڈیمی کے ججس کی فہم و فراست کی سراہنا کرتے ہوئے ایک مستحق کو اس کا استحقاق دینے پر مسرت کا اظہار کیا اور مضطر مجاز کی خدمت میں مبارکباد پیش کی ۔
غلام یزدانی سینئر ایڈوکیٹ نے اپنے خطبۂ استقبالیہ میں مضطر مجاز کی نصف صدی سے بھی زائد عرصہ پر محیط ادبی خدمات کا اظہار کرتے ہوئے اقبال کے فارسی کلام کا اردو ترجمہ ’’صدائے دل کشا‘‘ اور ’’طلسم مجاز‘‘ (کلیات) کا دلچسپ تجزیہ پیش کیا ۔ شرکائے محفل نے مضطر مجاز سے ان کے شعری سفر کی بابت سوالات کئے ۔ انہوں نے بتایا کہ دور طالب علمی ہی سے شاعری سے دلچسپی رہی ۔ اقبال اکیڈیمی سے وابستگی کے بعد ارتقائی منازل طے کرنا ان کے لئے آسان ہوگیا ۔ انہوں نے بتایا کہ استعارہ شاعری کی جان ہے جس پر کم کم ہی توجہ دی جارہی ہے ۔ اقبال نے پرانی لفظیات اور اصطلاحات کو کچھ اس انداز سے برتا ہے کہ وہ ان کا شناخت نامہ بن گئے ہیں ۔ پرانے پیمانوں میں نئی شراب کے مصداق اقبال نے اپنے فن کو اس قدر اجالا ہے کہ اسے سمجھنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ۔ ن م راشد ، میراجی اور اختر الایمان نے پیمانے ہی بدل دئے ۔ اس موقع پر محفل کی کلیدی شخصیت مضطر مجاز نے اقبال کے فارسی کلام کا منظوم ترجمہ اور اپنا معرکتہ الآرا کلام سنا کر سماں باندھ دیا ۔
ناظم جلسہ ڈاکٹر شجاعت علی راشد نے کارروائی جلسے چلائی اور شکریہ ادا کیا ۔

TOPPOPULARRECENT