Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / مطالبات زر و محاصل کی پیشکشی ، اسمبلی میں اپوزیشن اور حکومت کے درمیان لفظی جھڑپ

مطالبات زر و محاصل کی پیشکشی ، اسمبلی میں اپوزیشن اور حکومت کے درمیان لفظی جھڑپ

تفصیلات کے بناء بحث کے آغاز پر شدید اعتراض، حکومت کے طریقہ پر مختلف پارٹیوں کا اعتراض
حیدرآباد۔ 20 مارچ (سیاست نیوز) مطالباتِ زر و محاصل کی پیشکشی کے مسئلہ پر آج ایوان میں اپوزیشن اور حکومت کے درمیان لفظی جھڑپ ہوئی۔ ایوان میں جب مطالباتِ زر کی پیشکشی کا اعلان کیا گیا تو تمام اپوزیشن جماعتوں نے عہدیداروں کی جانب سے مطالباتِ زر اور محاصل کی تفصیلات مکمل پیش کئے بغیر مباحث کے آغاز پر شدید اعتراض کیا اور کہا کہ ایوان کی یہ روایت رہی ہے کہ مطالباتِ زر اور محاصل کی پیشکشی کے بعد ارکان کو وقت فراہم کیا جاتا تھا یا پھر مباحث سے قبل محاصل یا مطالباتِ زر ، ارکان کو روانہ کردیئے جاتے تھے تاکہ وہ تیاری کے بعد مباحث میں حصہ لے سکیں، لیکن اس مرتبہ ایسا نہیں کیا گیا۔ مجلسی رکن اسمبلی اکبرالدین اویسی نے حکومت کی جانب سے پیش کردہ مطالباتِ زر و محاصل پر شدید اعتراض کرتے ہوئے کہاکہ حکومت نے محکمہ اقلیتی بہبود اور امکنہ کی تفصیلات پیش کی ہیں جبکہ پسماندہ طبقات ایس سی، ایس ٹی کے مکمل مطالبات و محاصل ، مباحث کے آغاز تک بھی پیش نہیں کئے گئے۔ انہوں نے ایک موقع پر مباحث کے آغاز کی صورت میں ایوان سے واک آؤٹ کا انتباہ بھی دیا۔ اسی طرح سی پی آئی کے رکن اسمبلی رویندر کمار اور وائی ایس آر سی پی رکن اسمبلی پی وینکٹیشورلو نے بھی حکومت کے طریقہ کار پر اعتراض کیا۔ ڈاکٹر کے لکشمن قائد ایوان مقننہ بی جے پی نے بھی دیگر اپوزیشن جماعتوں کی حمایت کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کو تیاری کیلئے وقت دینے کا مطالبہ کیا۔ مسٹر کے ٹی راما راؤ ریاستی وزیر اِنفارمیشن ٹیکنالوجی و بلدی نظم و نسق نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اکبرالدین اویسی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ خود اکبرالدین اویسی کا بیان متضاد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مسٹر اویسی کہہ رہے ہیں کہ اگر حکومت مباحث منعقد کرنا چاہتی ہے تو کرے اور پھر کہہ رہے ہیں کہ اپوزیشن جماعتوں کو تیاری کیلئے وقت فراہم کیا جائے۔ کے ٹی آر نے مطالبات اور محاصل کی فراہمی میں تاخیر کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سے اس بات کا خیال رکھا جائے گا لیکن اپوزیشن جماعتوں کو چاہئے کہ جو ارکان تیار ہوکر آئے ہیں، انہیں مباحث کا موقع فراہم کرتے ہوئے ایوان کی کارروائی کو جاری رکھنے دیں۔ اسی ہنگامہ آرائی کے درمیان اسپیکر اسمبلی مسٹر مدھو سدن چاری نے چائے کے وقفہ کیلئے 10 منٹ کیلئے ایوان کی کارروائی ملتوی کرنے کا اعلان کیا لیکن ایک گھنٹہ بعد ایوان کی کارروائی کا آغاز ہوا اور مطالباتِ زر اور محاصل پر حکومت کی جانب سے مباحث کا آغاز کیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT