Wednesday , June 20 2018
Home / Top Stories / مظفر نگر تشدد پر ریاستی رپورٹ کے انکشاف سے مرکزی وزارت داخلہ کا انکار

مظفر نگر تشدد پر ریاستی رپورٹ کے انکشاف سے مرکزی وزارت داخلہ کا انکار

حق معلومات قانون کے تحت رپورٹس کی نقول طلب کرنے پر مرکز کا جواب، قانون کی دفعات کا حوالہ

حق معلومات قانون کے تحت رپورٹس کی نقول طلب کرنے پر مرکز کا جواب، قانون کی دفعات کا حوالہ
نئی دہلی 2 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزارت داخلہ نے یوپی کے گورنر اور حکومت کی جانب سے مظفر نگر فرقہ وارانہ تشدد کی رپورٹس کی نقول کے انکشاف سے انکار کردیا اور کہاکہ اِس سے تحقیقات متاثر ہوں گی اور خاطیوں پر مقدمہ چلانے کے بارے میں اندیشے پیدا ہوجائیں گے۔ حق معلومات قانون کے تحت کئے ہوئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مرکزی وزارت داخلہ نے کہاکہ تاحال مظفر نگر میں حالیہ فرقہ وارانہ تشدد کے بارے میں صرف یہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ واقعہ 27 اگسٹ 2013 ء کو قصبہ کنول میں پیش آیا تھا جس میں 3 افراد مبینہ طور پر ایک لڑکی کو چھیڑنے کے سلسلہ میں ہلاک کردیئے گئے تھے۔ یہی واقعہ بڑھ کر مظفر نگر میں بڑے پیمانہ پر فرقہ وارانہ فساد کی شکل اختیار کرگیا جو متصلہ اضلاع تک پھیل گیا۔ ریاستی حکومت کی رپورٹ کے بموجب 62 افراد ہلاک اور 98 افراد زخمی ہوگئے۔

رپورٹس کی نقول حق معلومات قانون 2005 ء کی دفعہ 8(H) کے تحت کسی کو بھی فراہم نہیں کی جاسکتیں۔ یہ دفعہ ایسی معلومات کے انکشاف پر امتناع عائد کرتا ہے جن کے افشاء سے تحقیقات کا عمل متاثر ہوتا ہو۔ یہاں خاطیوں کو سزا دلوانے کے بارے میں اندیشے پیدا ہوتے ہوں۔ مرکزی وزارت داخلہ سے خواہش کی گئی تھی کہ وہ گورنر یوپی اور حکومت یوپی کے علاوہ دیگر افراد و تنظیموں کی روانہ کردہ رپورٹس کی نقول فراہم کی جائیں۔ وزارت نے استثنائی فقرہ کا حوالہ بھی دیا جو شفافیت کے قانون میں شامل ہے اور اُس وقت استعمال کیا جاسکتا ہے اور اُس وقت استعمال کیا جاسکتا ہے جبکہ ایسی معلومات کی تفصیل دریافت کی جائیں جن کے افشاء سے منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہوں۔ حکومت یوپی نے انتباہ دیا ہے کہ مظفر نگر اور دیگر علاقوں میں دوبارہ فسادات کا اندیشہ ہے۔ حق معلومات قانون کی دفعہ 24 کے تحت انٹلی جنس بیورو سے متعلق معلومات اِس قانون کے دائرہ کار میں شامل نہیں ہے۔

یہ دفعہ اِن معلومات کے انکشاف پر امتناع عائد کرتا ہے صرف کرپشن اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات سے متعلق معلومات کا انکشاف کیا جاسکتا ہے۔ 19 تحقیقاتی محکمے سراغ رسانی اور صیانتی تنظیمیں بشمول سی بی آئی، را اور ڈی آر آئی کے علاوہ سی ای آئی بھی اور ای ڈی فسادات کی تحقیقات میں مصروف ہیں۔ مرکزی وزارت داخلہ نے اُن رپورٹس اور مکتوبات کی نقول فراہم کرنے سے انکار کردیا جو حکومت یوپی اور مرکزی وزارت داخلہ کے درمیان مراسلت پر مشتمل ہیں۔ وزارت نے سوال کے جواب میں کہاکہ کئی مکتوبات اور مشورے حکومت یوپی نے 5 ، 9 ،10 ، 25 سپٹمبر ، 4 اکٹوبر اور 14 نومبر کو روانہ کئے تھے جو اِس علاقہ میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کے بارے میں ہیں لیکن ان مکتوبات اور رپورٹس کی نقول فراہم نہیں کی جاسکتیں۔ جس کی قانون کی دفعات اجازت دیتی ہیں۔ مرکزی حکومت نے مرکزی مسلح فوج فساد سے متاثرہ علاقوں میں تعینات کی تھی جو 7 ہزار 800 سپاہیوں پر مشتمل تھی۔

TOPPOPULARRECENT