مظفر نگر فرقہ وارانہ فسادات کے 131مقدمات سے دستبرداری ۔ میر ے سسر کو موت ہوگئی‘ کسی نے انہیں قتل کردیا۔متوفی کی بہو

Image Courtesy Tahelka

مقامی پولیس اسٹیشن سے جاری تحقیقات کے ضمن میں انڈین ایکسپریس نے جمعہ کے روز فہرست میں شامل تیرہ قتل کے متاثرہ خاندانوں کے چھ لوگوں سے بات کی۔
مظفر نگر سے لنکا ‘ محمد پور ۔ رائے سنگھ اور کھاراد سے پلاڈ تک مظفر نگر میں پیش ائے تیرہ فرقہ وارانہ فسادکے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی جس سے حکومت اترپردیش دستبرداری اختیار کرنے کی فراغ میں ہے اور تعجب کی بات ہے کہ حکومت اس طرح کا اقدام کس طرح اٹھاسکتی ہے۔

کھاراڈ میں قتل کئے گئے محمد صغیر کی بہو مہمونہ نے کہاکہ ’’ مقدما ت سے دستبرداری کے متعلق سونچ سے ہم لوگ غم وغصہ میں ہیں۔ہم حکومت سے صرف اتنا پوچھنا چاہ رہے ہیں کہ ہمارا قصور کیاہے۔

میرے خسر کی موت ہوگئی ہے۔کسی نے ان کا قتل کیاہے‘‘۔ مذکورہ کیس بھی 131کی فہرست میں شامل ہے جس سے دستبرداری کا حکومت نے فیصلہ لیاہے۔

مقامی پولیس اسٹیشن سے جاری تحقیقات کے ضمن میں انڈین ایکسپریس نے جمعہ کے روز فہرست میں شامل تیرہ قتل کے متاثرہ خاندانوں کے چھ لوگوں سے بات کی۔

مزید چار مقدمات
ایف ائی آر نمبر420ستمبر 7سال2013پولیس اسٹیشن شاہ پور ‘ مظفر نگر
قتل۔ خاتون پر ہجوم کا حملہ‘ مقام واقعہ ‘ پلاڈ گاؤں
متاثرہ۔ افسانہ (35 )
ملزمین ۔ اب تک شناخت نہیں ہوئی
کیس کا موقف۔ فائنل رپورٹ نومبر15سال 2014کو داخل کی گئی

مذکورہ خاندان کا قیام پلاڈ میں ہے۔افسانہ کے شوہر رائیس حکومت کی ملازمت 19ہزار روپئے ملے جو انہیں معاوضہ کے طور پر دئے گئے تھے۔

رائیس نے کہاکہ ’’ ہم نے اس وقت ہی امید چھوڑ دی تھی جب کئی عرصہ قبل وکیل نے ہم سے کہاتھا کہ کیس بند کردیاگیا ہے اور اب کوئی ہمارے گھر نہیں ائے گا‘‘۔ اب بھی ان کے پاس اپنی بیوی کے قتل کے تمام دستاویزات محفوظ ہیں۔

افسانے کے خسر وحید نے پوچھا کہ’’ میرے بیٹا قتل کے واقعہ کا عینی شاہد ہیں اور اس نے اپنی شکایت میں قریب کے گاؤں کے درجنوں لوگوں کے نام بھی لکھائے۔ مگر ہم لوگ کمزور او رغریب ہیں کب تک ہم لڑائی کریں گے‘‘؟

ایف ائی آرنمبر143ستمبر8سال2013
پولیس اسٹیشن : پھگونا ‘مظفر نگر‘ ۔ قتل۔ تین لوگوں کا بے رحمی کے ساتھ قتل
مقام واقعہ ۔ لانک گاؤں‘متاثرین ‘ قاسم(65)عبدالحسن (70 ) اقبال(55)
ملزمین ۔ نامعلوم
کیس کاموقف۔ ستمبر11سال2014کو مقدمہ بند کرنے کے لئے رپورٹ فائل کردی گئی

قاسم کا بیٹے خورشید یوپی حکومت کے اقدامات سے واقف نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ ’’ میرے والد فسادات کے دوران ماردئے گئے۔

کسی نے انہیں قتل کردیا۔مگر جو بھی ہے پچھلے تین سالوں میں ہمارے کیس میں کوئی پہل نہیں ہوئی‘‘۔ وہ اپنی بیوی‘ دوبچوں او ربیمار ماں کے ساتھ سرکاری کوارٹرس میں مقیم ہے ۔حکومت نے کچھ نہیں کیا۔

اب آپ ہی کچھ کریں‘‘۔ عبدالحسن اور اقبال کے گھر والے باہر چلے گئے ہیں۔

ایف ائی آر نمبر137ستمبر8سال2013
پولیس اسٹیشن ۔ بھورکالا ‘ مظفر نگر
قتل۔ ایک شخص کی بے رحمی کے ساتھ ہلاکت
مقام واقع ۔ محمد پور‘ رائے سنگھ گاؤں
متاثر۔ رشیدالدین(62)
ملزمین۔ 22لوگ تمام ہندو

رشیدالدین کے بیٹے 48سالہ حنیف حسین پور گاؤں منتقل ہوگئے ‘ جو تین کیلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ‘ وہاں پر انہوں نے حکومت کی جانب سے دئے گئے پندرہ لاکھ روپئے کے معاوضہ کے ساتھ ایک گھر تعمیر کیا۔

حکومت کے اقدامات پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے انہو ں نے کہاکہ ’’ مقدمات سے دستبرداری نہیں ہونے چاہئے ‘ انجام کچھ بھی ہو‘‘۔فسادات کے کچھ ماہ بعد انہو ں نے گاؤں کا اپنا گھر ایک ہندو خاندان کوفروخت کردیاتھا ۔

انہو ں نے کہاکہ ’’ میرے اپنے لوگوں نے ہی میرے والد کو قتل کردیا‘ اس میں کہنے کو کیارکھا ہے۔ لوگوں نے ہمارا مذاق آڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بھاگ گئے۔ کم سے کم ان ملزمین کو ایسے مقدمات میں سزا تو ملنی چاہئے‘‘

ایف ائی آر نمبر137ستمبر8سال2013
پولیس اسٹیشن ۔ پھوگانا‘ مظفر نگر
قتل۔ ایک شخص کی بے رحمی کے ساتھ موت
مقام واقعہ ۔ کھاراڈ گاؤں
متاثرہ۔ محمدصغیر(80)
ملزمین ۔ بارہ لوگ ‘تمام ہندو

مقدمے کا موقف۔ سنوائی جار ی ہے

پورے گھر والے گاؤں سے فرار ہونے کی تیاری کررہے تھے ‘ صغیر نے اس سے انکار کیااور کہاکہ وہ محفوظ ہیں۔

ان کی بہو مہمونہ (48)نے کہاکہ ’’ میرے خسر کویقین تھا کہ ان کے ساتھ کچھ نہیں ہوگااور وہیں رک گئے۔ ان کی نعش مسخ شدہ نعش دوسرے دن ملی‘‘۔

حکومت کے اقدام پر برہمی کااظہار کرتے ہوئے انہو ں نے کہاکہ کسی نے انہیں2013میں قتل کردیا۔

مذکورہ خاندان بودھنا واپس نہیں لوٹا‘ وہیں ان کے شوہر مہربان پی ڈبلیو ڈی محکمہ میں مزدور کا کام کرتے ہیں۔

مہربان نے کہاکہ ’’ ایک بے قصور مارا گیا اور قصور کو سزا نہیں ملی ۔ یہ کیسا انصاف ہے‘‘

TOPPOPULARRECENT