Tuesday , February 20 2018
Home / Top Stories / مظفر نگر فساد سے متعلق مقدمہ واپس لینے کا معاملہ۔ ملزمین کے مقدمات واپس لینا جانبداری او رتنگ نظری کاکام 

مظفر نگر فساد سے متعلق مقدمہ واپس لینے کا معاملہ۔ ملزمین کے مقدمات واپس لینا جانبداری او رتنگ نظری کاکام 

مظفر نگر فساد میں ملوث تمام ملزمین کے خلاف دائر چار سو مقدمات واپس لیے جانے پر مولانا ارشد مدنی کی سخت ؂تنقید
دیو بند۔ ریاستی حکومت او روزیراعلی یوگی ادتیہ ناتھ کی جانب سے اس طرح کی خبریں آرہی ہیں کہ 2013میں ہونے والے مظفر نگر فساد میں ملوث تمام ملزمین کے خلاف دائر چار سو مقامات واپس لیے جائیں گے۔ واضح ہوکہ ایک وفد نے وزیراعلی سے ملاقات کرکے مظفر نگر فساد کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہاتھا کہ مظفر نگر فساد کے دوران پانچ سو سے زائد کیس درج کیے گئے تھے جن میں تقریبا چار سو کیس آگزنی کے تھے ۔

وفد نے آگزنی کے مقدمات کو فرضی بتاتے ہوئے انہیں واپس لینے کا مطالبہ کیاتھا۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ سنجیو بیالیان‘ نریش ٹکیت او رسنگیت سوم نے وزیراعلی کو بتایا کہ کچھ لوگوں نے اس فساد کے دوران اپنے گھروں کا سامان‘ لحاف ‘ کمبل‘ وغیرہ خود جلاڈالے تھے اور آگزنی کا مقدمہ درج کراکر معاوضہ وصول کیا۔

وزیراعلی نے وفد کو تیقن دہانی کرائی تھی کہ قانون دانوں سے رائے لے کر مقدمات واپس کرنے پر غور کیاجائے گا۔جمعیتہ علما ہند کے قائد مولانا سید ارشد مدنی کا کہنا ہے کہ مظفر نگر فسادات میں پچاس ہزار افراد بے گھر ہوئے تھے جن کا تعلق اقلیت سے تھا فساد میں ساٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ ان لوگوں کے خلاف پانچ سو سے زائد مقدمات درج کرکے چھ ہزار 868کو ملزم بنایاگیاتھا۔ مولانا ارشد مدنی نے ایک فریق کے مقدمات واپس لینے کی بات کو غلط بتایا او رکہاکہ ایک فریق کے ملزمان کے مقدمات واپس لینا جانبداری او رتنگ نظر ی کاکام ہے ایسے اقدام کو انصاف نہیں کہاجاسکتا ۔

انہوں نے کہاکہ انصاف اسی وقت مانا جائے گا جب ریاستی حکومت اور انتظامیہ اس کو کوال گاؤں سے شروع کرے جہاں سے فساد کا آغاز. ہوا تھا۔انہوں نے کہاکہ فساد زدہ علاقوں میں مسلمانوں کے گھر وں کو لوٹا گیا ان کے مال واسباب لوٹ لیے گئے ان کے مکانات او رزمینوں پر غاصبانہ قبضے کرلیے گئے ان کے جانوروں کو کھول کر لے گئے‘ عصمت دریان کی گئی او رلوگوں کو ہلاک کیاگیا‘ اس لیے انصاف کاتقاضہ یہ ہے کہ دونوں فریقوں پر قائم مقدمات واپس لیے جائیں۔ اقلیتی طبقہ کے خاندان کو جوجانی او رمالی نقصانات ہوئے ہیں ان کا معاوضہ ادا کیاجائے او رانہیں ان کے گھروں میں پھر سے بسایا جائے۔

ادھر پارلیمنٹ میں وزیراعظم کے بیان او رکانگریس پارٹی کے قومی صدر راہول گاندھی پر بالواسطہ حملے کرتے ہوئے کہاکہ وہ ہندوستان کو دوسرے ملکوں میں بدنام کررہے ہیں۔ کشمیر مسئلہ میں وزیراعظم نے کہاکہ پنڈت جواہرلا ل نہرو کی جگہ اگر سردار پٹیل وزیراعظم ہوتے تو پورا کشمیر ہندوستان کے پاس ہوتا۔

مولاناارشد مدنی نے وزیراعظم نریندر مودی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ وزیراعظم فریڈم آف انڈیا کا مطالعہ کریں تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کشمیر کے مسئلہ پر مہاتما گاندھی اورسردار پٹیل کے نظریات او ر سوچ وفکر یکساں تھی۔واضح ہوکہ وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں اپنی تقریر کے دوران کانگریس پر ملک کے ٹکڑے کرنے ‘ جمہوریت کو کمزور کرنے او رایک ہی خاندان کی اجارہ داری کے علاوہ دیگر سنگین الزامات عائد کیے۔ خاص طور پر وزیراعظم نے کانگریس پر عوام کوگمراہ کرنے کا الزام لگایا۔

TOPPOPULARRECENT