مظفر نگر متاثرین کو زبردستی ریلیف کیمپس سے نکال دیا گیا

سرد موسم میں کوئی پرسان حال نہیں، گھروں کو واپسی سے خوفزدہ ، کئی خاندان امداد سے محروم

سرد موسم میں کوئی پرسان حال نہیں، گھروں کو واپسی سے خوفزدہ ، کئی خاندان امداد سے محروم
مظفر نگر ۔ یکم جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان میں سال نو کا جشن منایا جارہا تھا لیکن مظفر نگر فسادات کے متاثرین عجیب و غریب پریشان کن صورتِ حال سے دوچار تھے کیونکہ حکومت نے اُن ریلیف کیمپس کو زبردستی برخاست کردیا جن میں متاثرین پناہ لئے ہوئے تھے۔ اب ضلع شاملی میں صرف چار اور لوئی میں ایک ہی ریلیف کیمپ باقی رہ گیا ہے۔ متاثرین کو معاوضہ کا حکومت نے بلند بانگ دعویٰ کیا لیکن اب تک انہیں ایسی کوئی رقم نہیں ملی۔ وہ اپنے مکانات کو واپس لوٹنے سے خوفزدہ تھے اور اسی وجہ سے بحالت مجبوری انہیں ریلیف کیمپس میں پناہ لینی پڑی تھی لیکن حکومت کی اس ظالمانہ کارروائی کی وجہ سے وہ خوف کے عالم میں پھر ایک بار ان مقامات پر لوٹنے کیلئے مجبور ہوگئے

جہاں پر ان کی جان و مال کو خطرات لاحق ہیں۔ کئی متاثرین نے اسی خوف کی وجہ سے اپنے گھروں کو واپس نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک متاثرہ خاتون بانو نے بتایا کہ وہ اپنے گھر واپس نہیں جائیں گی، اس کے برعکس انہوں نے دہلی میں اپنے ایک رشتہ دار کے گھر جانے کا فیصلہ کیا ہے جہاں وہ کوئی کمرہ کرایہ پر حاصل کرلیں گی۔ یہ متاثرین کسی طرح کی مدد کے بغیر ریلیف کیمپس چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ یہاں سرد موسم کے باوجود انہیں کوئی سہولت فراہم نہیں کی گئی تھی۔ ریاستی حکومت نے سردی کے اس موسم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کئی کیمپس کو زبردستی برخاست کردیا ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے ان متاثرین کو معاوضہ کا جو اعلان کیا گیا تھا، وہ اب تک نہیں ملا۔

تاہم چند افراد کو جنہیں معاوضہ کی رقم مل چکی ہے، انہوں نے لوئی میں زمین خرید لی اور یہاں ریلیف کیمپس کے قریب ہی خیمے ڈال کر رہنے لگے، لیکن سردی اور بارش سے بچاؤ کا یہاں کوئی انتظام نہیں ہے اور اس وقت وہ شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ ایک شخص نے بتایا کہ سردی کی وجہ سے وہ بیمار ہوگیا اور حکومت کسی طرح کی مدد نہیں کررہی ہے۔ ان ریلیف کیمپوں میں موجود 100 سے زائد خاندانوں کو ہنوز کوئی امداد نہیں ملی ہے۔ ایک اور شخص ریاض نے کہا کہ حکومت نے کوئی مدد نہیں کی۔ ہم یہ سنتے آرہے ہیں کہ حکومت معاوضہ ادا کرے گی لیکن اب تک ایسا کچھ نہیں ہوا۔ ایک اور شخص نے بتایا کہ ہمیں زبردستی کیمپ چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ اس کے برعکس حکومت نے متاثرین کے ساتھ ناروا سلوک کی تردید کی ہے۔ شاملی کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ پی کے سنگھ نے بتایا کہ ہم نے منتظمین سے خواہش کی ہے کہ وہ متاثرہ عوام کو ریلیف کیمپ چھوڑنے کیلئے آمادہ کریں۔ ہم کسی پر ظلم یا ریلیف کیمپ چھوڑنے پر مجبور نہیں کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت ان کیمپس کو ختم کرنا چاہتے ہیں کیونکہ حالات معمول پر آچکے ہیں۔ اس کے علاوہ 712 خاندانوں کو بازآبادکاری پیاکیج مل چکا ہے۔ انتظامیہ نے یہ بھی کہا کہ فسادات کے متاثرین کو خاطر خواہ معاوضہ ادا کیا جاچکا ہے۔ ایس ڈی ایم مظفر نگر اندرا مانی ترپاٹھی نے بتایا کہ 167 خاندانوں کو فی کس 5 لاکھ روپئے دیئے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ بعض خاندان منتشر ہوچکے ہیں لیکن ہم دوبارہ سروے کرتے ہوئے انہیں بھی اندرون ایک ہفتہ رقم ادا کریں گے۔ اس وقت تمام ریلیف کیمپس سرکاری اعتبار سے بند ہوچکے ہیں، لیکن ان متاثرین کی مصیبتیں ہنوز کم نہیں ہوئیں بلکہ ان میں اور اضافہ ہوگیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT