Sunday , December 17 2017
Home / مضامین / مظلوم روہنگیائی مسلمان اور عالم اسلام

مظلوم روہنگیائی مسلمان اور عالم اسلام

محمد غوث علکی خاموشؔ

بدھسٹ دہشت گردی کا جواب کیوں نہیں !
طویل عرصہ سے روہنگیائی مسلمانوں پر ہورہے ظلم و بربریت سے آج دنیا کے تمام ترقی یافتہ ، و مہذب کہلانے والے ممالک واقف ہیں اور افسوس اس بات پر ہے کہ کسی مسلم ملک کو ملک شگاف آواز اٹھاتے نہیں دیکھا گیا جو کسی تعجب سے کم نہیں۔ دنیا کی عظیم قوم کی اس حالتِ بے حسی پر غصہ بھی آتا ہے اور افسوس بھی ہوتا ہے کیونکہ مظلوم برما کے مسلمانوں کیلئے دنیا چھوٹی پڑگئی ۔ جدھر بھی جائیں انہیں اپنی موت سامنے دکھائی دے رہی ہے۔ برما کی زمین اور دریا مسلمانوں کے خون سے سرخ ہوچکے ہیں۔ پھر بھی دنیا کے عظیم ممالک کہلانے والے آنکھوں کو بند رکھیں ہیں۔ دنیا کے ہر خطہ میں مسلمانوں کا دائرہ تنگ کیا جاتا رہے گا ۔ انگریزوں سے آزادی کے بعد 1962 ء سے شروع ہوا قتل عام 1982 ء تک برما میں وقفہ وقفہ کے ساتھ جاری رہا، جس میں تقریباً ایک لاکھ مسلمانوں کو شہید کیا گیا اور لاکھوں مسلمانوں نے بنگلہ دیش ، رخ کر گئے ۔ 1997 ء میں برما کے مسلمانوں پر جس قدر ظلم ڈھایا گیا اس کو نہ کان سن سکتے ہیں ، نہ قلم لکھ سکتا ہے ۔ 2001 ء میں 15 مئی تا 12 جولائی تک کچھ اس طرح برما کے مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے ، بیان سے باہر ہے ، مساجد پر حملہ کر کے نمازیوں کو شہید کیا گیا ۔ سینکڑوں مکان نذر آتش کردیا گیا جس میں دو سو سے زائد مسلمان موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے ۔ سال2013 ء بھی برما کے مسلمانوں کیلئے کسی قیامت سے کم نہ رہا ۔ اس وقت بھی ہزاروں مسلمانوں کو کاٹ کام کر ٹکڑے کردیا گیا ۔ خواتین کی عصمت لوٹی گئی ۔ معصوم بچوں کو زندہ جلایا گیا ، مسلمانوں کے خون کو ارزاں سمجھ کر اس طرح بہایا گیا کہ راقم اسے الفاظ کا جامعہ پہنانے سے قاصر ہے اور آج جدید ٹکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کے اس دور میں بھی روہنگیائی مسلمان بے یار و مددگار ہیںاور صرف مسلمان ہونے کی کلمہ گو ہونے کی گراں قیمت چکا رہے ہیں۔ عالم اسلام کو مگر برما کی سرزمین سے آرہی مسلمانوں کے خون کی بو کا احساس تک نہیں، کیا اب بدھ بھی اسلام پر غالب رہیں گے ؟ دنیا بھر کے مسلمانوں کو غیر معمولی حس کی ضرورت ہے کیونکہ اب میڈیا بھی مسلمانوں پر ہورہے مظالم کو دنیا کے سامنے پیش کر کے مسلمانوں کو انصاف دلانے میں دلچسپی نہیں رکھتا، یہ ہمارا درد ہے اور ہمیں ہی علاج کرنا ہوگا ۔ میڈیا تو مسلم دہشت گردی سے خون کو پروان چڑھانے میں بہتری سمجھتا ہے۔ اس لئے مسلم دہشت گردی کے چھو ٹے سے واقعہ کو مسالہ لگاکر پیش کیا جاتا ہے اور مسلمانوں کے خون سے سرخ ہوتے دریا میڈیا کو دکھائی نہیں دیتے۔ برما کے مسلمانوں پر ہو رہے ظلم کے تصاویر دیکھنے کو بھی ہماری آنکھوں میں طاقت نہیں تو جن پر ظلم ڈھایا جارہا ہے ، ان کا حال کیا ہوگا ۔ عالم اسلام کو محسوس کرنے کی ضرورت ہے۔ مسلم ممالک کو سرحدوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے اسلامی بھائیوں کی مدد کیلئے برما تک ہاتھ بڑھانا ہوگا تاکہ دنیا کو پتہ چل سکے کہ روہنگیائی مسلمان تنہا نہیں ہیں ، ان کے ساتھ عالم اسلام بھی ہے۔ ترکی کے صدر جناب رجب طیب اردغان اپنی اہلیہ کے ہمراہ روہنگیائی مسلمانوں کے زخموں پر ہاتھ رکھا ہے ۔ دیگر مسلم ممالک کو بھی قدم بڑھانا ہوگا ۔ ترکی صدر نے جو شمع جلائی ہے اس میں روشنی تیز کرنے مزید ممالک کو ہاتھ بڑھانا چاہئے ۔ کیوں میانمار کے بدھسٹوں کو اسلام کے عروج سے خوف ہے ، یہ اسلام کے عروج میں خود کی تباہی دیکھتے ہیں ۔ اسی لئے میانمار سے اسلام اور مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتے ہیں ۔ عالم اسلام کے خون کو حرارت میں آنا ہوگا ورنہ طویل خاموشی و بے حسی دشمن اسلام کو طاقت بخش سکتی ہے اس لئے کہ میانمار کی فوج جنتا کو اسرائیل خطرناک ہتھیار سپلائی کر رہا ہے تاکہ مسلمانوں کو میانمار کی روئے زمین سے مٹانے میں کامیابی ہو۔ اسلام کی تیز رفتار ترقی سے پریشان ممالک کا یہ منصوبہ بند پلان ہے کہ مسلمانوں میں خوف سے اس کی ترقی کو روکا جائے اور دشمن اسلام کیلئے برما کہیں مشق نہ ثابت ہو۔ اس سے پہلے عالم اسلام کو غیر معمولی طور پر متحرک ہونا چاہئے ۔ اقوام متحدہ میں پرزور نمائندگی ہو جس سے میانمار کے مسلمانوں کے ساتھ میانمار کی سرزمین پر ہی انصاف ہوسکے۔ انہیں ہجرت کرواکر انصاف دلانا صحیح طریقہ نہ ہوگا کیونکہ میانمار کو راستہ پر لانے تمام ضروری اقدامات و کارروائیاں کرنی ضروری ہے ، 1962 ء تا 2010 ء تک میانما پر فوج کا غلبہ رہا اور 2011 ء میں الیکشن کے ساتھ جمہوری حکومت کو تشکیل دی گئی مگر روہنگیائی مسلمانوں کو نہ شہریت دی گئی اور نہ بنیادی حقوق کے قابل سمجھا گیا ۔ اس طرح طویل عرصہ سے لاکھوں مسلمان نفرت و ظلم کی آغوش میں اپنی زندگی بسر کرتے رہے ہیں لیکن آخر کب تک انہیں ظلمت کے سایہ میں رہنے پر چھوڑ دیا جائے گا، بدھسٹ دہشت گردی کا عالم اسلام کو منہ توڑ جواب دینا ہوگا ، جب دنیا بھر میں دہشت گردی کو ختم کرنے کیلئے اتحاد کرنے کی باتیں فیصلہ ہورہے تو پھر کیوں نہ عالم اسلام بھی میانمار کی بدھ دہشت گردی کو ختم کرنے کیلئے ضروری اقدامات کریں۔ دہشت گردی تو دہشت گردی ہے ، چاہے دنیا کے کسی بھی خطہ میں ہو۔ آنگ سانگ سوچی کو اپنے اختیارات استعمال کرنے عالمی سطح پر مجبور کیا جائے کہ روہنگیائی مسلمانوں کو شہریت دینے کے ساتھ ساتھ انصاف کرنے کیلئے قوی دباؤ ڈالا جائے ۔ فوج کو جمہوریت پامال کرنے سے روکا جائے ، ورنہ بدھسٹ دہشت گردی کو منانے عالم اسلام قدم بڑھا سکتا ہے ، احساس دلایا جائے کیونکہ فوج و بدھسٹ دہشت گردوں نے مل کر مسلمانوں کا اتنا خون بہایا ہے کہ میانمار کی سرزمین پر اتنا پانی بھی نہ ہوگا ، روہنگیائی مسلمانوں کی شہریت کیلئے عالم اسلام کو اہم رول ادا کرنا چاہئے ورنہ تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی ۔

TOPPOPULARRECENT