مظلوم فلسطینیوں کی ہر لحاظ سے تائید و مدد پر مفتی خلیل احمد کا زور

عالم اسلام کے حالات پر مسلمانوں میں شدید بے چینی ، سوشیل میڈیا پر اسرائیلی بربریت کی تصاویر کا تبادلہ

عالم اسلام کے حالات پر مسلمانوں میں شدید بے چینی ، سوشیل میڈیا پر اسرائیلی بربریت کی تصاویر کا تبادلہ
حیدرآباد ۔ 14 ۔ جولائی : ( ابوایمل ) : ایک ایسے وقت جب عالم اسلام ، خصوصا اہل فلسطین ، عراق و شام میں مسلمانوں کا خون بہایا جارہا ہے اور دنیا کی سب سے بدترین اور غاصب حکومت اسرائیل کی جانب سے جس طرح فلسطینی مسلمانوں ، عورتوں اور معصوم بچوں کا بے دردی سے قتل عام کیا جارہا ہے ۔ اس سے مسلمانان عالم خاص کر حیدرآبادی مسلمانوں میں شدید بے چینی اور برہمی پائی جارہی ہے ۔ جس کا اندازہ گذشتہ روز کے احتجاجی جلوس سے لگایا جاسکتا ہے جہاں مہدی پٹنم میں ہزاروں مسلم نوجوان اسرائیلی بربریت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے اور پرامن طریقے سے اپنی بے چینی اور برہمی کا اظہار کیا ۔ علاوہ ازیں گذشتہ 3 ، 4 دنوں سے مسلم نوجوان سوشیل میڈیا کے ذریعہ اسرائیلی مظالم کی تصویریں ، مظلوم فلسطینیوں کی حالت زار ان کہی داستان اور اس پر نام نہاد عالمی برادری کی خاموشی پر تبادلہ خیال کرتے نظر آرہے ہیں ۔ ایسے میں مفکر اسلام شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ حیدرآباد مفتی خلیل احمد نے عالم اسلام کے مسلمانوں اور سیکولر پسند طاقتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیلی بربریت کے خلاف مظلوم فلسطینیوں کی ہر طرح سے مدد اور تعاون کریں ۔ انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک کا مہینہ رحمت ومغفرت اور دوزخ سے نجات کا مہینہ ہے ۔ ایسے میں عالم اسلام پر جو مصیبتیں اور پریشانیاں آتی ہیں وہ دراصل ہماری نا اتفاقی اسلام سے دوری اور گناہوں میں مبتلا ہونے کا نتیجہ ہے ۔ اس لیے مفتی موصوف نے تمام مسلمانوں کو اپنے اعمال کی اصلاح کرنے ، گناہوں سے توبہ کرنے اور اپنے معاملات کو خدائے پاک سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ ایسا کرنے کی صورت میں انشاء اللہ رحمت خداوندی کے ذریعہ یقینا ہماری کامیابی ہوگی ۔ انہوں نے مسلمانوں کو کثرت کے ساتھ عبادت اور دعائیں کرنے کی تلقین کی ۔ اسرائیلی مظالم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مفتی صاحب نے کہا کہ آج فلسطین پر اسرائیل کی جو ظلم و بربریت ہے وہ سب پر عیاں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایک ہٹ دھرم ، ظالم اور لوگوں کے حقوق غصب کرنے والی ریاست بن کر وجود میں آئی ہے اور وہ اپنے وجود کے مقصد کو اسی طرح پورا کرنا چاہتی ہے ۔ مفتی صاحب نے اہل اسلام پر زور دیا کہ وہ ایسے نازک موقع پر جہاں تک ممکن ہوسکے وہ فلسطینیوں کی ہر لحاظ سے تائید اور مدد کریں تاکہ وہ اپنا دفاع اور تیاری کرسکیں اور اپنی اور اپنے اہل و عیال کی حفاظت کرتے ہوئے سکون کے ساتھ زندگی گذار سکیں ۔ واضح رہے کہ گذشتہ 6 دنوں کے دوران تقریبا 200 فلسطینی مسلمان بشمول خواتین و بچے شہید ہوچکے ہیں ۔ حد تو یہ ہے کہ ہٹ دھرم اسرائیلی حکومت نے عالمی دباؤ کو نظر انداز کرتے ہوئے زمینی حملے کا بھی آغاز کردیا ہے جس سے مزید ہلاکت کا خدشہ بڑھ گیا ہے ۔ ایسے حالات میں اہل اسلام اور ہر سیکولر پسند افراد سے اہل فلسطین کی تائید و حمایت کی توقع کی جارہی ہے تاکہ اسرائیلی ظلم و بربریت پر روک لگائی جاسکے ۔۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT