Thursday , December 14 2017
Home / ادبی ڈائری / مظہر الزماں خان کے افسانوں کا اسلوبیاتی مطالعہ

مظہر الزماں خان کے افسانوں کا اسلوبیاتی مطالعہ

صابر علی سیوانی
حیدرآباد کے نمائندہ افسانہ نگاروں میں محمد مظہر الزماں خان اپنی منفرد شناخت رکھتے ہیں ۔ وہ ادبی دنیا میں کسی بھی تعارف کے محتاج نہیں ہیں ۔ ان کی تخلیقات نہ صرف ہندوستان میں شوق سے پڑھی جاتی ہیں بلکہ پاکستان میں اس سے زیادہ دلچسپی سے پڑھی اور سمجھی جاتی ہیں ۔ یہ بات درست ہے کہ مظہر الزماں خان کے افسانے علامتی ہوتے ہیں ، لیکن ان میں سماج کی تہہ در تہہ ایسی پَرتیں موجود ہوتی ہیں ، کہ اگر قاری ان علامتوں کو سمجھ لے تو اسے ان افسانوں میں کہیں زیادہ لطف اور انبساط محسوس ہوگا اور وہ ان تخلیقات کی معنویت اورگہرائی کا قائل ضرور ہوجائے گا ۔ بیسویں صدی کی افسانہ نگاری کی تاریخ میں  محمد مظہر الزماں کا شمار نہ صرف اس وجہ سے ہوتا ہے کہ وہ علامتی افسانہ نگار ہیں بلکہ ان کے افسانے سماج کے ان رستے ناسوروں کے تعّفن سے آلودہ معاشرے کے عکاس ہوتے ہیں جو معاشرتی کج روی ، نشیب و فراز اور ترش و تلخ حقائق کا آئینہ ہوتے ہیں ۔
محمد مظہر الزماں خان کی تخلیقات علامتی ہوتی ہیں ،جو عام طور پر قاری کو بہ آسانی سمجھ میں نہیں آتی ہیں ، لیکن جو قارئین علامتوں کو سمجھتے ہیں اور ان علامتوں میں پوشیدہ باریکیوں سے واقف ہوجاتے ہیں ، ان کے چہرے بشاشت سے کھل اٹھتے ہیں اور وہ مظہر الزماں کیتخلیقی ہنرمندی کے قائل ہوئے بنا نہیں رہ پاتے ۔ ان کے افسانوں کی ایک دوسری خوبی یہ ہے کہ ان میں ایک منفرد اسلوب نظر آتا ہے ، جو تمام معاصر افسانہ نگاروں سے انھیں ممتاز بناتا ہے ۔ یہی وہ اسلوب ہے جو انھیں ایک خاص اونچائی پر لے جاتا ہے ، جہاں دیگر تخلیق کاروں کا پہنچنا محال ہوتا ہے  ۔ ایمانداری کی بات تو یہ ہے کہ راقم الحروف نے مظہر الزماں کے متعدد افسانے پڑھے ، لیکن ان میں بعض ہی سمجھ میں آئے اور ان میں بھی بعض مقامات پرکچھ علامتیں ذہن و فکر کے دریچے سے اوپر گزر گئیں ۔ تاہم مجھے ان کے امتیازی اسلوب نگارش نے سب سے زیادہ متاثر کیا ،جس میں کہیں کہیں ساحرانہ انداز نظر آتا ہے ۔ ان کے افسانوں میں بعض مقامات پر کچھ ایسے تراشیدہ مسجّع و مقفّیٰ جملے یکے بعد دیگر بنتے چلے جاتے ہیں ، جو قاری کو عش عش کرنے پر مجبور کردیتے ہیں ۔ یہاں انہی پُر اثر اور بولتے ہوئے جملوں کی نشاندہی کی جائے گی ، جن سے مظہر الزماں خان کا اسلوب نگارش عبارت ہے ، اور جس کی وجہ سے ان کی تخلیقات میں ایک خاص قسم کی ادبی فضا بنتی ہوتی نظر آتی ہے ۔ مظہر الزماں خان کے طرز نگارش کا اندازہ لگانے کے لئے محض ان کے ایک انٹرویو سے لئے گئے ایک اقتباس کے یہ جملے ملاحظہ کیجئے جس سے ان کی زبان پر قدرت اور بیان کی ندرت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔وہ اپنے لکھنے کے وقت کے بارے میں فرماتے ہیں :۔
’’میرے لکھنے کا کوئی خاص وقت مقرر نہیں ہے ۔ جب بھی طبیعت مائل ہوتی ہے ۔ اور میری طبیعت اس وقت مائل ہوتی ہے جب زمین رونے لگتی ہے ۔ جب بچے نیند میں چونک چونک اٹھنے لگتے ہیں ۔ جب پانی رونے لگتا ہے ۔ جب ذہنی بھکاری دانشور بن جاتے ہیں ۔ جب ادیب اور نقاد حمال بن جاتے ہیں ۔ جب مذہبی رہنما خود کو بیچنے لگتے ہیں ۔ کنکریاں پہاڑوں کو دیکھ کر ہنسنے لگتی ہیں ۔ اَنکھوے باہر آنے سے ڈرنے لگتے ہیں ۔ دھوپ جسموں کو چاٹنے لگتی ہے ۔ گدِھ زتیون کے شاخوں کو نوچنے لگتے ہیں  اور انسانوں کی باتوں سے زنجیروں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں ۔ اور عدالتوں کے دروازے بند ہوجاتے ہیں یا فاختاؤں کو ہلاک کردیا جاتا ہے ۔ اس وقت کہانی مجھ پر اترنے لگتی ہے ۔ ورنہ میرا کوئی وقت مقرر نہیں ہے ۔ بعض وقت تو ایک دن میں الگ الگ موضوع پر دو دو کہانیاں لکھ چکا ہوں ۔ اس کے علاوہ میں یہ بھی عرض کردوں کہ جب تک کہانی کا موضوع وسیع نہیں ہوتا میں کہانی لکھتا نہیں ۔ وسیع موضوع پر ہی قلم اٹھاتا ہوں ۔ یہ اور بات ہے کہ میری لکھی کہانیوں کے موضوعات پر کچھ لوگوں کی نظر نہیں جاتی یا نہیں پہنچتی ۔ اگر میری کہانی کسی پر پوری طرح کھل جائے تو موضوع اور امکانات اندازہ ہوجائے گا‘‘ ۔ (چہرے آوازوں کے ، ایم آر پبلی کیشنز ، نئی دہلی ، 2014، صفحہ 85)

انٹرویو کے درج بالا جملوں سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مظہر الزماں بول کر اتنی خوبصورت زبان پیش کرسکتے ہیں تو جب قلم ان کے ہاتھ میں آتا ہوگا تو وہ کیا سحر ڈھاتے ہوں گے ۔ دوسری بات یہ کہ ان جملوں میں بھی بعض باتیں ایسی ہیں ،جو علامتوں کے خانے میں آتی ہیں ، ان جملوں کی گہرائی تک پہنچنا اور ان کو تفہیمی درجہ عطا کرنا ہر کس و ناکس کے بس کی بات بھی نہیں ہے ، مثلاً دھوپ جسموں کو چاٹنے لگتی ہے ۔ کنکڑیاں پہاڑوں کو دیکھ کر ہنسنے لگتی ہیں ۔ انکھوے باہر آنے سے ڈرتے ہیں ۔ گدِھ زتیون کے شاخوں کو نوچنے لگتے ہیں جیسے فقروں میں جو علامتیں پوشیدہ ہیں ، انھیں وہی بہتر طور پر سمجھ سکتا ہے جو علامتی افسانوں کی باریکیوں سے واقف ہو ۔
سال 2013 ء میں محمد مظہر الزماں خان کے نمائندہ افسانوں کا انتخاب ’’محمد غالب نشتر نے بعنوان ’’چھوڑے ہوئے لوگ‘‘ مرتب کرکے دہلی سے شائع کرایا ہے ۔ اس انتخاب میں مظہر الزماں کے 35 نمائندہ افسانے شامل ہیں ، جو تمام علامتی افسانوں کے خانے میں رکھے جاسکتے ہیں ۔ مظہر الزماں خان کی ایک مشہور کہانی ’’چیونٹی‘‘ ہے ۔ یہ کہانی دراصل انسانی جبلت کو پیش کرتی ہے ۔ اس میں انسان کی عیاری اور مکاری کوپیش کیا گیا ہے ۔ لیکن علامتوں کے طور پر مکھی ،مکڑی ، چھپکلی اور چیونٹی جیسے حشرات الارض مخلوق کو پیش کرکے افسانہ نگار نے انسان کی فطرت ، جبلّت اور اس کی ان حرکات کو پیش کیا ہے ،جو واقعتاً عجیب سے لگتے ہیں ۔ اس میں جو ایک کردار ہے وہ ’’میں‘‘ ہے اسی کردار کے سہارے کہانی آگے بڑھتی ہے ۔ اس کردار کے مختلف حرکات کو پیش کرتے ہوئے تخلیق کار نے انسانی جبلت کو پیش کیا ہے ۔ بلکہ یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ دنیا کی تمام مخلوقات میں انسان سے بڑھ کر کوئی عیار نہیں ہے ۔ اس افسانے میں مظہر الزماں نے جس زبان اور خوبصورت اسلوب کاسہارا لیا ہے ،اس سے اس کہانی کی معنویت بڑھ جاتی ہے ۔ استعاراتی انداز اور علامتوں کا استعمال اس کہانی کو ایک شاہکار کہانی بناتا ہے۔کمرے کی منظرکشی کرتے ہوئے جس زبان اور اسلوب کا اس کہانی ’’چیونٹی‘‘ میں استعمال کیا گیا ہے ، اسے ملاحظہ کیجئے :۔
’’زیرو بلب کی دھواں دھواں روشنی پورے کمرے میں منجمد ہے ۔ شلف میں سانس لیتی ہوئی چند گرد آلود کتابیں اوندھی لیٹی ہوئی ہیں ۔ دائیں طرف کیلنڈر پر سرخ ہندسے تازہ خون کی طرح بکھرے ہوئے ہیں ۔ اس کے اوپھر کسی عورت کا مسخ شدہ چہرہ چپکا ہوا ہے ۔ اور بائیں جانب کی دیوار پر میری کئی مرتبہ واش کی ہوئی لیکن پیدائشی انڈرویئر جھول رہی ہے اور میںاپنے شکن آلود بستر پر کروٹیں بدل رہا ہوں ۔ کروٹیں جو زندگی کی علامت ہیں ۔ کروٹیں جو اضطراب ہیں ۔ کروٹیں جو زمین کے اندر چھپا ہوا انقلاب ہیں ۔ کروٹیں جو مٹھیوں کا زندہ کرب ہیں ۔کروٹیں جو بھاگی ہوئی نیند کی ناکام کوشش ہیں اور میری نیند کسی آسیب زدہ پرندے کی آنکھوں میں سماچکی ہے اور نگاہیں کمرے کی ننگی چھت پر جمی ہوئی ہیں ، جس پر ایک مکڑی جالا تانے مکھی کو گھیرنے کی کوشش کررہی ہے اور بے چاری مکھی عوام کی طرح جالے کے گرد چکر کاٹ رہی ہے‘‘ (چھوڑے ہوئے لوگ ، صفحہ 31-32)
یہاں مکڑی کی عیاری کو دکھایا گیا ہے اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انسان سے بڑھ کر کوئی عیار ہو ہی نہیں سکتا ۔ مذکورہ چند سطور میں فنکار نے ’’کروٹ‘ لفظ کو مختلف معانی عطا کئے ہیں ، اسے مختلف علامتوں کے ذیل میں رکھ کر پیش کیا ہے ، لیکن ان کروٹوں کے سہارے انھوں نے اپنے مخصوص اسلوب ِ نگارش کو جس انداز سے پیش کیا ہے ، وہ انہی کا حق ہے ۔ جن لفظیات کا انھوں نے اس افسانے میں استعمال کیا ہے ، وہ ایک نیا تجربہ بلکہ اچھوتا ڈِکشن نظر آتا ہے ۔ مثلاً نگاہیں کمرے کی ننگی چھت پر جمی ہوئی ہیں ، کروٹیں جو مٹھیوں کا زندہ کرب ہیں ، کروٹیں جو زمین کے اندر چھپا ہوا انقلاب ہیں اس طرح کے فقرے بہت دور تک سوچنے کی دعوت دیتے ہیں اور یہ بتاتے ہیں کہ اگر تخلیق کار چاہے تو وہ ایک ہی لفظ کو مختلف انداز سے ’’علامت‘‘ کا جامہ پہنا کر معنویت کی ایک وسیع و عریض وادی میں قاری کو پہنچاسکتا ہے ، جہاں قاری اپنی علمی و فکری بے بضاعتی کا ماتم کرنے لگتا ہے ، لیکن دوسری طرف وہ تخلیق کار کی داد دینے پر بھی مجبور ہوتا ہے کہ اس کے قلم کی جولانی کن کن معنوی تہوں کو کریدنے کی کوشش کرتی ہے ۔
مظہر الزماں خان کی زبان اور اسلوب کے بارے میں محمود ہاشمی نے نہایت ایمانداری سے اظہار خیال کیا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں :۔

’’مظہر الزماں خان کے افسانوں میں جو زبان اور اسلوب ہے وہ واضح کرتا ہے کہ فکشن میں لسانی اظہار کی سطح کیا ہونی چاہئے اور تہہ نشیں مفاہیم کو کس طرح سطحِ آب پہ لائے بغیر تحیر، طلسم اور تمثیل کی روایت کا حامل بنایا جائے ۔  مظہر الزماں خان کے افسانے ہمارے عہد میں جدید افسانوی تہذیب اور تخلیقی تحرک کا ایسا اظہار ہیں ، جن پر اردو فکشن کی تاریخ کو آج بھی ناز ہے اور آنے والے عہد میں یہ افسانے ہمارے ادبی تاریخ کا مایۂ ناز سرمایہ بنیں گے‘‘ ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مظہر الزماں نے جو اسلوب وضع کیا اورجس اسلوب کے سہارے وہ اپنی تخلیقات کا تانا بانا بُنتے ہیں ، اس سے ان کی تخلیقی اور اختراعی صلاحیت نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے ۔ ان کا منفرد اسلوب ان کی کہانیوں میں خاص معنویت پیدا کرتا ہے ۔ ان کی مخصوص زبان ان کی تخلیقات کو مقبولیت کا جامہ پہناتی ہے ۔ ان کی خاص ذہنی سطح ان کے افسانوں میں تہہ داری پیدا کرتی ہے ۔ ان کا کہانی بیان کرنے کا امتیازی انداز انھیں ان کے معاصرین میں امتیاز عطا کرتا ہے ۔ ان کی سحر انگیز کردار نگاری انھیں افسانہ نگاری کی دنیا میں افقی مقام عطا کرتی ہے اور ان کا تمثیلی طرزِ اظہار ان کی کہانیوں کو گویائی عطا کرتا ہے ۔ یہی وہ اوصاف ہیں جو مظہر الزماں کو ایک بڑا فنکار بناتے ہیں ۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بھلے ہی معاصر افسانہ نگاروں میں ایسے بہت سے افسانہ نگار ہیں جنھوں نے علامتی کہانیاں لکھی ہیں ، اور لکھ رہے ہیں ، لیکن جو چیز مظہر الزماں کو ان معاصر افسانہ نگاروں میں امتیاز و انفراد عطا کرتی ہے وہ ان کا مخصوص ، سحر انگیز اور دل نشیں اسلوب نگارش ہے ۔ یہ اسلوب ان کی اپنی ایجاد ہے ، جسے دوسرا ایجاد تو نہیں کرسکتا ہے ہاں اس کی تقلید ضرور کرسکتا ہے ۔
افسانہ ’’گلدار‘‘ فلسفیانہ گفتگو کا ایک خوبصورت بیانیہ ہے ۔ جس میں افسانہ نگار نے ایک خاص قسم کا تجربہ کیا ہے ۔ گلدار دو دوستوں خالد بن عزیز اور سعید بن سعد کے مکالمات پر مشتمل ایک شاہکار افسانہ ہے، جس میں وقت کی حکمرانی موضوع بحث قرار پاتی ہے ۔  ’’گلدار‘‘ افسانے کے متعلق ’’چھوڑے ہوئے لوگ‘‘ کے مرتب محمد غالب نشتر نے اپنے مقدمے میں لکھا ہے :۔
’’گلدار محمد مظہر الزماں خاں کا ایک شاہکار افسانہ ہے ۔ اس افسانے میں بیانیہ ، اسلوب ، کردار نگاری ، پلاٹ ، مکالمیاور تصویر کشی ، زندگی سے کی گئی ہے ۔ افسانے میں دو کردار واضح طور پر نظر آتے ہیں جو طویل عرصے کے بعد ایک دوسرے سے ملتے ہیں ۔ میزبان دوست ، مسافر دوست سے اتنے دن تک ملاقات نہ ہونے کا سبب دریافت کرتا ہے تو مسافر دوست وقت ، سفر اور زمین سے متعلق فلسفیانہ گفتگو کرتا ہے ۔ اس افسانے میں چیتا استعارہ ہے ، جو اپنے اندر بڑی معنویت رکھتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ بھی نکالا جاسکتا ہے کہ امریکہ کو عرب نے پال رکھاہے ،جو اسی کی سرزمین پر بے خوف و خطر گھوم رہا ہے‘‘ ۔ (ایضاً صفحہ 21)

مظہر الزماں کے افسانوں کے اسلوب پر پوری ایک کتاب تحریر کی جاسکتی ہے ، لیکن اس مختصر سے مضمون میں جس حد تک ان کے فن کا اسلوبیاتی مطالعہ ممکن ہوسکتا ہے ، کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ مظہر الزماں خان کا ایک اور شاہکار افسانہ ’’سفر‘‘ ہے جس میں تصوف کے مسائل پیش کئے گئے ہیں ۔ عشق حقیقی کی باتیں کی گئی ہیں ۔ جس میں علم معرفت کی گرہیں کھولنے کی کوشش کی گئی ہے اور راہ سلوک کے مسافر کے لئے رہنمایانہ خطوط پیش کئے گئے ہیں ، لیکن اس افسانے کا بھی گہرائی سے اسلوبیاتی مطالعہ کیا جاسکتا ہے اور فنکار کے زبان کے حوالے سے بڑی عمدہ بحث کی جاسکتی ہے ۔ افسانہ ’’سفر‘‘ بھی علامتی افسانہ ہے جس میں عشق کی حکمرانی اور اس کی سلطنت کو موضوع بنایا گیا ہے ، بلکہ مختصراً یہ کہا جائے تو بہتر ہوگا کہ افسانہ نگار نیاس افسانے میں بس یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ عشق ہی اصل ہے اس کے بغیر کسی کا وجود ہی ممکن نہیں ہے۔ عشق کے تصور کو جس انداز میں افسانہ نگار نے اس کہانی میں پیش کیا ہے اسے ملاحظہ کیجئے اور افسانے کے اسلوب پر توجہ کیجئے تو اندازہ ہوجائے گا کہ عشق کی کارفرمائیاں کہاں کہاں نظر آتی ہیں :۔
’’جب عشق پیدا ہوا تو زمین پر ایک آگ لگ گئی تھی کہ یہ عشق کی آگ تھی اور عشق کی آگ کی کوئی ایک صورت نہیں ہوتی کہ عشق کی بیشمار صورتیں ہوتی ہیں ، جو دکھائی نہیں دیتیں ۔ مگر ہر صورت اپنی جگہ ایک صورت ہوتی ہے کہ عشق ایک انتہا ہے۔ لیکن عشق اول وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں عرش الہی موجود ہے اور وہیں مکمل اور ختم ہوتا ہے جہاں عرش الہی موجود ہے اور عشق کو ہر نظر اپنے مزاج اور اپنے اپنے ارادوں سے دیکھتی ہے ، چنانچہ جب بیج زمین سے عشق کرتا ہے  تو اس کے عشق میں فنا ہو کر ایک نئی شکل میں زمین سے برآمد ہوتا ہے ۔ خوشبو ، پھول سے عشق کرتی ہے تو اپنا وجود اس کے جسم میں چھپالیتی ہے کہ وہ اس کی ہر پنکھڑی میں جذب ہوجاتی ہے ۔ اس کے ایک ایک رشتے میں خود کو ضم کردیتی ہے ۔ ہوائیں درختوں کے ہر حصے سے عشق کرتی ہیں تو اس کی ہر شاخ اور ہر پتے میں خود کو تلاش کرتی رہتی ہیں کہ اس کے بغیر وہ باقی ہی نہیں رہتیں ۔ چنانچہ اللہ تعالی اپنے بندے سے بھی ایسے ہی عشق کرتا ہے اور اس کے عشق کی انتہا ہے کہ اس نے اپنے بندے کے لئے بے حد و حساب چیزیں پیدا کردی ہیں تاکہ وہ ان تمام چیزوں سے فائدہ اٹھائے‘‘ ۔ (چھوڑے ہوئے لوگ صفحہ 196-197)
مجموعی طور پر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ مظہر الزماں خان کے افسانوں کی ایک اہم ترین خصوصیت یہ ہے کہ انھوں نے اپنی تخلیقات کو خاص نہج عطا کیا ہے جس میں علامتوں اور استعاروں کی بھرمار ضرور ہوتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ پڑھنے والے کو ان کا مخصوص اسلوب متاثر کئے بغیر نہیں رکھتا ہے ۔ وہ ان کی تحریروں کی روانی ، موسیقیت ، لفظوں کے زیر و بم ، فقروں کی برجستگی اور اس کی نغمگی کا احساس اپنے دل میں محسوس کرتا ہے اور نغمگی کا یہ احساس و اثر اس کے دل پر تادیر قائم رہتا ہے ۔ مظہر الزماں اس عہد کے ایک نمائندہ اور جینئس افسانہ نگار ہیں جنھوں نے افسانہ نگاری کی دنیا میں ایک علیحدہ افسانوی قبیلہ تخلیق کیا ہے جو ان ہی سے عبارت ہے ۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT