Monday , December 11 2017
Home / Top Stories / معاشی ابتری کیلئے یو پی اے کو ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا ‘ یشونت سنہا

معاشی ابتری کیلئے یو پی اے کو ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا ‘ یشونت سنہا

مودی حکومت کو بھی کام کرنے کا پورا موقع ملا ہے ۔ سابق وزیر فینانس کا انٹرویو
مختلف گوشوں کی جانب سے حکومت پر تنقیدیں
نئی دہلی 28 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ملک کی معیشت کو تباہ کردینے کا بی جے پی زیر قیادت حکومت پر الزام عائد کرنے کے ایک دن بعد سابق وزیر فینانس و سینئر بی جے پی لیڈر یشونت سنہا نے آج کہا کہ موجودوہ حکومت ملک کی معاشی صورتحال کیلئے سابقہ یو پی اے حکومت کو ذمہ دار قرار نہیں دے سکتی کیونکہ موجودہ حکومت کو بھی کام کرنے کا کافی موقع ملا ہے ۔ انہوں نے ایک ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ہم اس سے پہلے کی سرکار کو دوش نہیں دے سکتے کیونکہ ہمیں بھی پورا موقع ملا ہے ‘‘ ۔ یشونت سنہا نے مزید کہا کہ جب وہ 2014 سے پہلے پارٹی کے ترجمان تھے اس وقت یو پی اے حکومت میں ملک کی معاشی صورتحال کو پالیسی مفلوج کا نام دیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ 2014 سے قبل جب میں پارٹی ترجمان تھا اور اس وقت معاشی امور کے تعلق سے سوال ہوتا تو ہم یو پی کی صورتحال کو پالیسی مفلوج کا نام دیا کرتے تھے ۔ انہوں نے کل انڈین ایکسپریس میں ایک اداریہ تحریر کرتے ہوئے مودی حکومت پر تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ معیشت میں گراوٹ کا رجحان جاری ہے اور اس کیلئے انہوں نے وزیر فینانس ارون جیٹلی کو ذمہ دار قرار دیا تھا ۔ انہوں نے کہا تھا کہ وزیر فینانس نے ملک کی معیشت کو تباہ کردیا ہے ۔ انہوں نے تحریر کیا تھا کہ وزیر اعظم نے یہ ادعا کیا تھا کہ انہوں نے غربت کو قریب سے دیکھا ہے ۔ ان کے وزیر فینانس ہر ہندوستانی کو غربت کا احساس دلانے کیلئے بہت زیادہ کام کر رہے ہیں ‘‘ ۔ یشونت سنیا نے کہا کہ ملک میں خانگی سرمایہ کاری بہت کم ہوگئی ہے ۔ یہ شرح گذشتہ دو دہوں میں سب سے کم ہوگئی ہے اور صنعتی پیداوار پوری طرح سے متاثر ہوکر رہ گئی ہے ۔ زراعت کا شعبہ بحران کا شکار ہے ‘ تعمیرات کی صنعت میں مسائل ہے جبکہ تعمیراتی صنعت میں بہت زیادہ افراد کو روزگار حاصل ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سرویس شعبہ کے دیگر حلقوں میں بھی مسائل شامل ہیں۔ ایکسپورٹس کی شرح کم ہوگئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہر شعبہ کے بعد دوسرے شعبہ کی معیشت مسائل کا شکار ہوتی جا رہی ہے ۔ نوٹ بندی زرعی شعبہ کیلئے تباہ کن ثابت ہوئی ہے ۔ اس کے علاوہ جی ایس ٹی کا نظریہ بھی غلط ہے اور اس پر ناقص انداز میں عمل آوری کی گئی ہے ۔ یشونت سنہا کے اس بیان پر کئی گوشوں سے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔ سابق وزیر فینانس پی چدمبرم نے یشونت سنہا کی ستائش کی کہ انہوں نے حقیقت بیانی سے کام لیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی زیر قیادت حکومت ملک کی معیشت کو بہتر بناسکتی ہے تو یہ کوئی کرشمہ ہی ہوسکتا ہے ۔ چدمبرم نے کہا تھا کہ اس صورتحال کیلئے وزیر اعظم کو ذمہ داری قبول کرنا چاہئے ۔ اس کے علاوہ چونکہ وہ متعلقہ قلمدان رکھتے ہیں اس کیلئے زیادہ ذمہ داری وزیر فینانس پر بھی عائد ہوتی ہے ۔ کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے بھی حکومت کو نشانہ بنایا ہے اور اپنے ٹوئیٹ میں انہوں نے عوام سے کہا کہ وہ مشکل حالات کیلئے تیار ہوجائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کا کسی اور نے نہیں بلکہ خود بی جے پی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر فینانس نے اظہار کیا ہے ۔ بائیں بازو کے سینئر لیڈر ڈی راجہ نے کہا کہ بی جے پی زیر قیادت حکومت کو یشونت سنہا کے بیان کا نوٹ لینا چاہئے ۔ وہ پارٹی کے سینئر لیڈر ہیں۔ وہ سابق وزیر فینانس بھی ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ معیشت کس طرح کام کرتی ہے ۔ وہ کوئی پہلے شخص نہیں ہے جنہوں نے ایسے خیال کا اظہار کیا ہے بلکہ اس سے قبل کئی ماہرین نے بھی کہا تھا کہ معیشت کی صورتحال ابتر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ معاشی سست روی تشویش کی بات ہے لیکن وزیرا عظم مسلسل ترقی کے دعوے کرتے جا رہے ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT