Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / معاشی طور پر پسماندہ طبقات کے لیے دو اسکیمیں

معاشی طور پر پسماندہ طبقات کے لیے دو اسکیمیں

ایکسو فیصدی مرکز کی اسپانسر کردہ اسکیموں پر ریاستوں اور یوٹیز کے ذریعہ عمل
حیدرآباد ۔ 17 ۔ دسمبر : ( ایجنسیز ) : تحفظات پر جب بحث ہوتی ہے تو اکثر عام زمرہ سے سماج کے غریب طبقات کا مسئلہ اٹھایا جاتا ہے کہ حکومت ان کی بہبود کے لیے کیا کچھ کررہی ہے ۔ یہاں دو مرکزی شعبہ کی اسکیمیں خصوصا معاشی طور پر پسماندہ طبقات ( ای بی سیز) کے لیے ترتیب دی گئی ہیں ۔ نہایت غریب افراد جن کی سالانہ آمدنی 1 لاکھ روپئے سے متجاوز نہ ہو ، کسی بھی سماجی زمرہ سے تعلق رکھتے ہوں یعنی ایس سی / ایس ٹی / او بی سی انہیں معاشی طور پر پسماندہ طبقات ( ای بی سیز ) کے زمرہ میں شمار کیا جاتا ہے ۔ یہ اسکیمیں وزارت سماجی انصاف و خود اختیاری برائے بہبودی ای بی سیز کی جانب سے عمل میں لائی جارہی ہیں ۔ ڈاکٹر امبیڈکر پوسٹ میٹرک اسکالر شپ برائے ای بی سی طلبہ اسکیم 100 فیصدی مرکزی اسپانسر کردہ اسکیم ریاستی و یونین ٹیریٹریز کے ذریعہ عمل میں لائی جارہی ہے ۔ اسکیم کا مقصد ای بی سی طلبہ کو پوسٹ میٹریکولیشن یا پوسٹ سکنڈری اسٹیج میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے مالی امداد فراہم کرنا ہے ۔ والدین / سرپرستوں کی سالانہ آمدنی ایک لاکھ روپئے سے کم ہو تو اس اسکیم کے اہل ہوں گے ۔ ڈاکٹر امبیڈکر اسکیم آف انٹریسٹ سبسیڈی برائے تعلیمی قرض برائے اوورسیز تعلیم برائے ای بی سیز اسکیم کا مقصد امتیازی کامیاب ای بی سی طلبہ کو سودی سبسیڈی دی جائے تاکہ وہ بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے بہترین مواقع سے استفادہ کریں اوراپنے روزگار کی صلاحیت کو بڑھائیں ۔ اس اسکیم کے لیے اہل ہونے طالب علم کو سالانہ آمدنی ایک لاکھ روپئے سے کم ہونے کی شرط پوری کرنی ہے ۔ ہر سال تخمینہ میں 50 فیصد طالبات کے لیے مختص کیا گیا ہے ۔ منتخب امیدواروں کی عبوری فہرست باقاعدگی کے ساتھ وزارت سماجی انصاف کی ویب سائیٹ پر آپ لوڈ ہورہی ہے ۔۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT