Wednesday , November 22 2017
Home / آپ کے سوال / معاش کی مجبوری سے روزہ کا ترک

معاش کی مجبوری سے روزہ کا ترک

سوال : روزانہ محنت و مزدوری کرنے والے شخص کا روزہ ترک کرنا کیسا ہے؟
معظم خان، مستعد پورہ
جواب : روزانہ محنت و مزدوری کر کے کھانے والا شخص کہے کہ اگر ہم کام نہیںکریںگے تو کیا کھائیں گے اور روزہ رکھ کر کام کرنے کی طاقت نہیں تو کیا ایسے شخص کیلئے رمضان کا روزہ نہ رکھنے کی گنجائش ہوگی ؟
اس مسئلہ میں کسی قدر تفصیل ہے ، اگر اس کے پاس کسی بھی نوع کا اتنا مال ہے جو اس کے اور اس کے اہل و عیال کے لئے کافی ہوجائے تو پھر عذر معتبر نہیں اور اس کیلئے روزہ چھوڑنے کی گنجائش نہیں ہوگی ، اسی طرح اگر ایسا کوئی کام مل جائے جسے روزہ رکھ کر کرسکتا ہے ،تب بھی روزہ توڑنا درست نہیں۔ البتہ اگر اپنے اور اہل و عیال کے کھانے کیلئے کچھ نہیں ہے اور ایسا کوئی ہلکا کام بھی نہیں مل رہا ہے جس کو روزہ رکھ کر کرسکے تو ایسی صورت حال میں اس کیلئے گنجائش ہیکہ روزہ نہ رکھے، لیکن بعد میں روزہ کی قضا واجب ہے ۔
’’و ینبغی التفصیل فی مسالۃ المحترف بأن یقال أذا کان عندہ ما یکفیہ و عیالہ کا یحل لہ الفطر، لأنہ اذا کان کذلک یحرم علیہ السئوال من الناس فلا یحل لہ الفطر بالٔاولی، و ان کان محتاجا الی العمل یعمل بقدر ما یکفیہ و عیالہ حتی لو أداہ العمل فی ذلک الی الفطر ، حل لہ اذا لم یمکنہ العمل فی غیر ذلک مما لایودیہ الی الفطر من سائر الاعمال التی یقدر علیھا‘‘۔
ایک مسکین کو متعدد روزے کا فدیہ دینا
سوال : ایک مسکین کو متعدد روزے کا فدیہ دینا اور ایک روزہ کافدیہ چند مساکین میں تقسیم کردینا کیسا ہے؟
عبدالعلیم، رین بازار
جواب : ایک مسکین کو متعدد روزے کا فدیہ دینا درست ہے اور ایک روزہ کافدیہ چند مساکین میں تقسیم کردینا درست نہیں ہے ، اسی طرح فدیہ کے طور پر صبح کے وقت ایک مسکین کو اور شام کے وقت دوسرے مسکین کو کھلانا صحیح نہیں۔اس طرح فدیہ ہی ادا نہ ہوگا چنانچہ علامہ قہستانیؒ فرماتے ہیں : ’’ مصنف کا مطلق کلام اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اگر پورا فدیہ ایک فقیر کو دے دیا تو جائز ہے ، تعداد اور مقدار کی شرط نہیں ہے لیکن اگر نصف صاع سے کم ایک فقیر کو دیا تو اس کا کوئی اعتبار نہیں، اسی پر فتویٰ ہے ‘‘

عورت کا اعتکاف
سوال : عورت اگر اعتکاف کرنا چاہتی ہو تو اس کیلئے کیا احکام ہیں۔ کیا اس کو شوہر کی اجازت ضروری ہے۔ برائے کرم تفصیل سے بتلائیں ؟
مقتدر خان ،جیڈی میٹلہ
جواب : عورت کو مسجد میں اعتکاف مکروہ ہے، وہ گھر میں ہی اعتکاف کرے۔ گھر میں اس جگہ معتکف ہو جہاں اس نے پنجوقتہ نمازوں کیلئے مقرر کرلی ہے ۔ اگر گھر میں کوئی جگہ مقرر نہیں ہے تو کوئی جگہ مقر کرلے۔اس کو مسجد البیت کہتے ہیں، اس جگہ کو پاک و صاف رکھے، اگر وہ جگہ بلند کرلے تو بہتر ہے۔
عورت اگر اعتکاف بیٹھنا چاہے تو شوہر سے اجازت لینا ضروری ہے۔ اور عورت کو اعتکاف بیٹھنے سے پہلے گھریلو مسائل کاجائزہ بھی لینا چاہئے، ان مسائل کوحل کر کے اعتکاف بیٹھے۔ اعتکاف بیٹھنے والی عورت اسی جگہ آرام کرے جہاں وہ اعتکاف بیٹھتی ہے۔ اعتکاف کے دوران گفتگو وغیرہ کرسکتی ہے اور اسی جگہ بیٹھ کر کھانے کی ہدایت دے سکتی ہے ، بلکہ اسی جگہ بیٹھ کر کھانا وغیرہ پکا بھی سکتی ہے لیکن پورا وقت گھریلو کاموں میں نہ گزارے بلکہ زیادہ وقت عبادت میں گزارنے کی کوشش کرے اور فضول و بیہودہ گفتگو سے پرہیز کرے۔ عورت کے اعتکاف کے دوران شوہر نہ اس سے صحبت کرسکتا ہے اور نہ اس کا بوسہ وغیرہ لے سکتا ہے۔

معتکف پوری مسجد میں جہاں چاہے سویا بیٹھ سکتا ہے
سوال : حالت اعتکاف میں جس مخصوص کو نہ میں پردہ لگاکر بیٹھا جاتا ہے کیا دن کو یا رات کو وہاں سے نکل کر مسجد کے کسی پنکھے کے نیچے سو سکتا ہے یا نہیں ؟ معتکف کسے کہتے ہیں اس مخصوص کو نہ کو جس میں بیٹھا جاتاہے یا پوری مسجد کو معتکف کہا جاتا ہے ؟ اور بعض علماء سے سنا ہے کہ دوران اعتکاف بلا ضرورت گرمی دور کرنے کیلئے غسل کرنابھی درست نہیں ، کیا یہ صحیح ہے؟ اور اگر بحالت ضرورت مسجد سے نکل کرجائے اور کسی شخص سے باتوں میں لگ جائے تو کیا ایسی حالت میںاعتکاف ٹوٹے گا یا نہیں؟
محمد معین الدین،حمایت نگر
جواب : مسجد کی خاص جگہ جو اعتکاف کیلئے تجویز کی گئی ہو اس میں مقید رہنا کوئی ضروری نہیں بلکہ پوری مسجد میں جہاں چاہے دن کو یا رات کو بیٹھ سکتا ہے اور سو سکتا ہے ، ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے غسل کی نیت سے مسجد سے نکلنا جائز نہیں، البتہ اسکی گنجائش ہے کہ کبھی استنجا وغیرہ کے تقاضے سے باہر جائے تو وضو کے بجائے دو چار لوٹے پانی کے بدن پر ڈال لے ، معتکف کو ضروری تقاضوں کے علاوہ مسجد سے باہر نہیں ٹھہرنا چاہئے ، بغیر ضرورت کے اگر گھڑی بھر بھی باہر رہاتو امام صاحبؒ کے نزدیک اعتکاف ٹوٹ جائے گا اور صاحبینؒ کے نزدیک نہیں ٹوٹتا، حضرت امامؒ کے قول میں احتیاط ہے اور صاحبینؒ کے قول میں وسعت اور گنجائش ہے۔
سونے چاندی پر زکوٰۃ
سوال : آج کل بازارمیں سونے اور چاندی میں ملاوٹ بھی پائیجاتی ہے تو کیا ملاوٹ کو نکال کر زکوٰۃ ادا کریں ؟
محمد ارسلان،مہدی پٹنم
جواب : سونا اور چاندی میں اگر ملاوٹ ہو تو یہ دیکھا جائے گا کہ غالب حصہ کیا ہے ، اگر ملاوٹ پر سونا چاندی غالب ہے تو اس پرسونا چاندی کا حکم ہوگا اور اس میں سونا چاندی کی زکوٰۃ واجب ہوگی اور اگر ملاوٹ یعنی کھوٹ کا حصہ غالب ہو تو وہ سوناچاندی سامان کے حکم میں قرار پائے گا اور جس طرح سامان تجارت کی قیمت لگاکر زکوٰۃ اداکرتے ہیں اسی طرح اس صورت میں بھی کریںگے اور اس وقت شرط یہ ہوگی کہ اس ملاوٹ والی چاندی میں اور سونے میں تجارت کی نیت ہو۔
تھوڑی تھوڑی زکوٰۃ دینا
سوال : اگر کوئی عورت اپنی کل رقم یا سونا جو اس کے پاس ہے اس پر سالانہ زکوٰۃ نکالتی ہو بلکہ ہر مہینہ کچھ نہ کچھ کسی ضرورت مند کو دے دیتی ہو کبھی نقد رقم کبھی اناج وغیرہ اور وہ اس کا حساب بھی اپنے پاس نہ رکھتی ہو تو اس کا ایسا کرنا زکوٰۃ دینے میں شمار ہوگا یا نہیں؟
سراج الدین، تاڑبن
جواب : زکوٰۃ کی نیت سے جو کچھ دیتی ہے اتنی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی لیکن یہ کیسے معلوم ہوگا کہ ان کی زکوٰۃ پوری ہوگئی یا نہیں۔ اس لئے کہ حساب کر کے جتنی زکوٰۃ نکلتی ہو وہ ادا کرنی چاہئے ۔ البتہ یہ اختیار ہے کہ اکٹھی دے دی جائے یا تھوڑی تھوڑی کر کے سال بھر میں ادا کردی جائے ۔ مگر حساب رکھنا چاہئے اور یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ زکوٰۃ ادا کرتے وقت زکوٰۃ کی نیت کرنا ضروری ہے جو چیز زکوٰۃ کی نیت سے نہ دی جائے اس سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی ۔ البتہ اگر زکوٰۃ کی نیت کر کے کچھ رقم الگ رکھ لی اور پھر اس میں سے وقتاً فوقتاً دیتے رہے تو زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔

اگر دو رکعت پر قعدہ بھول جائے
سوال : ہماری مسجد کے امام صاحب نماز تراویح میں دوسری رکعت کا قعدہ بھول گئے اور ٹھہر کر چار رکعت مکمل کرلئے اور آخر میں سجدہ سہو کرلئے تو اب اس کا حکم کیا ہے بتلائیں ؟
نام مخفی
جواب : اگر تراویح میں دو رکعت پر قعدہ کرنا بھول گیا اور چار رکعت پڑھ کر سجدہ سہو کر کے سلام پھیر دیا ہے تو صرف آخر کی دو رکعت ہوئیں، کیونکہ نفل میں ہر دو رکعت کے بعد قعدہ کرنا فرض ہے، اس صورت میں فرض چھوٹ گیا اس لئے شروع کی دو رکعت باطل ہوجائیں گی۔ اور ان دونوں رکعتوں میں جو قرآن پڑھا گیا ہے اس کا اعادہ لازم ہوگا۔ ورنہ یہ دونوں رکعتیں تراویح میں شمار نہ ہونے کی وجہ سے قرآن کریم مکمل نہ ہوسکے گا۔

اعتکاف کیلئے پردوں کالگانا
سوال : رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرنے والے حضرات مساجد میں پردے باندھ لیتے ہیں۔ کیا اعتکاف کیلئے پردہ باندھنا ہی ضروری ہے اور کیا بغیر پردہ کے اعتکاف نہیں ہوگا جبکہ دیگر مصلیوں کے ساتھ وہ بھی مسجد کے ایک مصلی ہیں تو یہ کوئی جگہ مختص کرنے کا اختیار رہے گا ؟ جواب عنایت فرمائیں ۔
محمد نعیم الدین، پرانی حویلی
جواب : رمضان المبارک کے آخیر عشرہ کا اعتکاف سنت مؤکدہ علی الکفایہ ہے یعنی پورے محلہ والوں کی جانب سے یہ لوگ اعتکاف کر رہے ہوتے ہیں اور جو حضرات اعتکاف کی نیت سے مسجد میں آجاتے ہیں بغیر کسی اشد ضرورت وہ گھر یا بیرون مسجد نہیں جاسکتے چنانچہ انہیںمسجد ہی میں اپنے ضروریات کے سامان اور ضروری آرام و اشغال کیلئے علحدہ مقام کو مختص کرلینا درست ہے ۔ چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اعتکاف کی کیفیت کتب حدیث میں موجود ہے جس میں جگہ مختص کرنے اور اسے مستور کرنے کا ذکر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے خیمہ نصب کردیا جاتا تھا (شرح اللطیبی علی مشکاۃ المصابیح جلد 4 صفحہ 211 ) لیکن معتکف کو اس بات کا لحاظ رکھنا ہوگا کہ مسجدکی انتظامیہ نے جس جگہ کو معتکفین کیلئے خاص کیا ہے اسی میں اپنی جگہ مختص کرلیں اور جہاں تک پردہ لگانے کا معاملہ ہے، یہ ضروری نہیں بغیر پردہ بھی اگر کوئی احتیاط سے مسجد میں آرام کرسکتا ہے تو درست ہے۔ تاہم معتکفین جو پردہ باندھتے ہیں اگر وہ مصلیوں کی دشواری کا باعث ہو تو فرض نماز کی جماعت کے وقت اسے کھول لیں اور آنے والوں کا پورا خیال رکھیں۔

نماز تراویح میں نابالغ کا لقمہ دینا
سوال : ہمارے محلہ میں نماز تراویح کے دوران امام صاحب کچھ بھول رہے تھے، اتفاق سے شہر کے ہاسٹل میں درجہ حفظ کا نابالغ طالب علم امام صاحب کو غلطی بتلائے بعد نماز مصلیوں میں یہ بات ہونے لگی کہ چھوٹے بچہ کی نماز ہی نہیں ہوتی تو لقمہ کیا اس کا لینا درست ہے ؟ مہربانی فرماکر جلد جواب عنایت فرمائیں۔
عبدالحفیظ،شاہین نگر
جواب : قریب البلوغ لڑکا جسے قرآن مجید مکمل یا بعض پارے از بر ہو اور صحیح لقمہ دے رہا ہوتو ایسے نابالغ حافظ کے لقمہ سے نماز فاسد نہیں ہوگی جیسا کہ حاشیہ طحطاوی میں ہے۔ فتح المراھق کا لبالغ (حاشیہ طحطاوی صفحہ 183 ) چونکہ باشعور نابالغ لڑکے کا عمل شریعت اسلامیہ میں معتبر مانا گیا ہے ۔ پس مذکورالصدر صورت میں نماز درست ہے اور کمسن حافظ کا یہ عمل بھی درست ہے ۔

آیت سجدہ کا ترجمہ پڑھنے سے سجدہ واجب نہیں
سوال : میں قرآن شریف ترجمے کے ساتھ پڑھ رہا ہوں اور اس طرح پڑھتا ہوں کہ پہلے جتنا پڑھنا ہو وہ میں پڑھ لیتا ہوں اس کے بعد اس کاترجمہ۔ تو کیا مجھ کو قرآ ن شریف میں جو سجدہ آتاہے وہ دو مرتبہ کرنا ہوگا؟
محمد ابراہیم، ریڈہلز
جواب : آیت سجدہ اگر ایک ہی مجلس میں کئی بار پڑھی جائے تو ایک ہی سجدہ واجب ہوتا ہے اور قرآن کریم کے الفاظ پڑھنے سے سجدہ واجب ہوتاہے۔ صرف ترجمہ پڑھنے سے سجدہ واجب نہیں ہوتا۔

TOPPOPULARRECENT