Monday , November 20 2017
Home / جرائم و حادثات / معاون رکن بلدیہ کے لیے کے سی آر پر 8 کروڑ رشوت کا الزام

معاون رکن بلدیہ کے لیے کے سی آر پر 8 کروڑ رشوت کا الزام

نوٹ برائے ووٹ سے برأت کے بعد جیروشلم متیاء کا ایک اور انکشاف
حیدرآباد ۔ 8 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : دونوں ریاستوں کی سیاست میں سنسنی کا سبب بنے نوٹ برائے ووٹ مقدمہ سے برأت کے بعد جیروشیلم متیا نے ایک اور سنسنی خیز انکشاف کیا ہے ۔ اور اب راست چیف منسٹر پر بلدیہ کی معاون رکن کے انتخاب کے لیے 8 کروڑ روپئے لینے کا سنگین الزام لگایا ہے ۔ مسٹر جیروشیلم متیا نے جونوٹ برائے ووٹ مقدمہ کا 5 واں قصورار تھا اس کے نام کو نکال دیا گیا ہے ۔ یہ بات آل انڈیا دلت کرسچین اسوسی ایشن کے اجلاس میں خود متیا نے بتائی ۔ اس موقع پر دلت عیسائیوں نے آپس میں مٹھائی تقسیم کی اور متیا نے بتایا کہ وہ تلنگانہ حکومت سے اس مقدمہ میں زبردستی ماخوذ کرنے کا معاوضہ طلب کریں گے ۔ انہوں نے عیسائیوں سے انصاف ان کی حقیقی نمائندگی اور انہیں حقیقی معاوضہ کے طور پر انہیں ایم ایل سی نامزد کرنے کا مطالبہ کیا ۔ دیگر صورت کرسچین فینانس کارپوریشن کو قائم کرتے ہوئے اس کا چیرمین نامزد کرنے کی مانگ کی اور ریاست آندھرا پردیش و تلنگانہ کے چیف منسٹرس کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی پارٹیوں میں کرسچین سیل کو قائم کریں تاکہ وہ عیسائیوں بالخصوص دلت عیسائیوں کا اعتماد حاصل کرسکیں اور عیسائیوں کو زیادہ سے زیادہ نامزد عہدوں پر تقرر کرتے ہوئے ان سے انصاف کریں ۔ انہوں نے کہا کہ بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے معاون اراکین میں تلنگانہ کے حقیقی جہدکاروں کو نظر انداز کیا گیا ۔ جب کہ ایک خاتون کا اقلیتی زمرے میں 8 کروڑ روپئے لے کر تقرر کیا گیا ۔ اس موقع پر دیگر موجود تھے ۔۔

TOPPOPULARRECENT