Tuesday , August 21 2018
Home / کھیل کی خبریں / معاہدہ میں نیا زمرہ،قانون کی خلاف ورزی کا الزام

معاہدہ میں نیا زمرہ،قانون کی خلاف ورزی کا الزام

نئی دہلی۔8 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) بی سی سی آئی کے سیکرٹری امیتابھ چودھری نے کھلاڑیوں کے نئے معاہدے پر منتظمین کی کمیٹی (سی او اے ) پر قانون توڑنے کا الزام لگایا ہے اور اب وہ سي اواے کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔چودھری کی ناراضگی سے کھلاڑیوں کے نئے معاہدے برف دان کی نذر ہو سکتے ہیں۔چودھری نے کہا ہے کہ ان کے بشمول بورڈ کے سرفہرست تین عہدیداروں سے کھلاڑیوں سے تبادلہ خیال کے عمل کے دوران بات چیت نہیں کی گئی تھی۔بی سی سی آئی نے کل26 کھلاڑیوں کو نئے کنٹریکٹ دینے کا اعلان کیا تھا جس میں اے پلس کا نیا گریڈ شروع کیا گیا ہے ۔اے پلس میں شامل پانچ کرکٹرز کو فی کس سات کروڑ روپے ملیں گے ۔اس فہرست کو سابق ہندستانی وکٹ کیپر ایم ایس کے پرساد کی صدارت والے تین رکنی سلیکشن پینل نے تیار کیا ہے ۔چودھری کا دعوی ہے کہ سلیکشن پینل کا کنوینر ہونے کے باوجود مجھ سے کوئی مشورہ نہیں کیا گیا۔چودھری نے کہاکہ میں فیصلہ لینے والے کسی بھی عمل کا حصہ نہیں ہوں۔جہاں تک میں جانتا ہوں بی سی سی آئی کے عہدیداروں میں کوئی بھی اس عمل کا حصہ نہیں تھا۔انہوں نے کہاکہ میں قومی سلیکشن کمیٹی کا کنوینر ہوں اور میں اس بات کی تصدیق کرتا ہوں کہ اس معاملے پر سلیکشن پینل کی کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔سي اواے نے قانون توڑا ہے اور میں اس بات کو سپریم کورٹ کے نوٹس میں لاؤں گا۔دوسری طرف سي اواے کے سربراہ ونود رائے نے چودھری کے الزامات کو سرے سے خارج کیا ہے ۔رائے نے کہا کہ عہدیداروں کو اس کی اطلاع دی گئی تھی کیونکہ نئے معاہدے کی سفارشات کو بی سی سی آئی کی فنانس کمیٹی کو گزشتہ ستمبر میں ہی بھیج دیا گیا تھا۔رائے نے کہا کہ جیوتیرآدتیہ سندھیا کی صدارت والی فنانس کمیٹی نے اس پر کوئی جواب نہیں دیا تھا۔اس کمیٹی میں بی سی سی آئی کے خزانچی انیرودھ چودھری بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ پانچ ماہ میں ایک مرتبہ بھی فنانس کمیٹی کا اجلاس طلب نہیں کیا گیا۔سي اواے صدر نے کہا کہ کھلاڑیوں کے معاہدے کو لٹکایے رکھنا غیر مناسب ہوتا کیونکہ انہیں کسی اور طریقے سے سیکورٹی نہیں دی جا سکتی۔انہوں نے کہاکہ کھلاڑی گزشتہ اکتوبر سے بغیر کسی معاہدے کے کھیل رہے ہیں۔بڑا مسئلہ یہ ہے کہ معاہدے کے بغیر بی سی سی آئی ان کا انشورنس نہیں کر سکتی۔بی سی سی آئی میں سي اواے کے ناقدین نے کہا ہے کہ رائے انشورنس کے مسئلے کو ایک ہتھیار کی طرح استعمال کر رہے ہیں۔بی سی سی آئی کے ایک عہدیدار نے چیلنج کیا کہ سي اواے فنانس کمیٹی کو بھیجے خط کو دکھائیں کیونکہ عہدیداروں کو ایسے کسی بھی خط کا علم نہیں ہے ۔

TOPPOPULARRECENT