Monday , January 22 2018
Home / مذہبی صفحہ / معراجِ انسانیت

معراجِ انسانیت

مولانا غلام رسول سعیدی

مولانا غلام رسول سعیدی

انسان کے ایک طرف فرشتوں کا عالم ہے، جو ہمہ وقت تسبیح و تہلیل، رکوع و سجود اور انواع و اقسام کی عبادتوں میں مشغول رہتے ہیں اور دوسری طرف حیوانات اور بہائم کا عالم ہے، جو کسی قانون اور ضابطہ کے بغیر شکم پُر کرنے اور جنسی عمل میں مشغول رہتے ہیں، بغیر اس تمیز کے کہ فلاں چیز کا کھانا اور اس سے جنسی لذت حاصل کرنا اس کا حق ہے یا نہیں، وہ پاک ہے یا ناپاک، حلال ہے یا حرام، جس طرح بن پڑے چھین جھپٹ کر اور کمزور مخلوق کا گلا دباکر اپنا مقصد پورا کرلینا حیوانی زندگی ہے اور عام حیوانات میں سوائے اپنی شکم پروری اور اپنی نسل بڑھانے کے اور کوئی مقصد نہیں پایا جاتا۔
اب اگر انسان بھی کسی ضابطہ اور اصول کے بغیر اپنا پیٹ بھرتا رہے اور جنسی عمل کرتا رہے یا اس کا مقصد صرف لذتِ کام و دہن اور اپنی نسل کو بڑھانا ہو، تو پھر بھلا ایسے انسان میں اور ایک عام حیوان میں کیا فرق رہ جاتا ہے؟۔ یہ شخص اپنے خدوخال اور صورت کے اعتبار سے اگرچہ انسان کیوں نہ معلوم ہوتا ہو، لیکن وہ اپنے کردار و عمل اور مقصد و نصب العین کے اعتبار سے ایک جانور کے مقام سے آگے ہرگز نہیں ہے اور اگر کوئی انسان ہمہ وقت عبادت میں مشغول رہتا ہے اور ہر وقت تسبیح و تہلیل اور قیام لیل و نہار میں وقت گزارتا ہے تو وہ یقیناً فرشتوں کی صف میں اپنی جگہ بنالیتا ہے۔ اللہ رب العزت نے انسان کے سامنے دونوں پہلو رکھ دیئے ہیں، وہ چاہے تو فرشتوں کی پاکیزگی اور تقدس اختیار کرے اور چاہے تو حیوانات کے طرز زندگی کو اپنائے۔ لیکن سچ پوچھئے تو انسان کا مقام حیوانات اور ملائکہ دونوں سے بلند تر ہے، اس مفہوم کی بہترین ترجمانی علامہ اقبال نے اپنے شعر میں کی ہے:

در دشتِ جنونِ من جبریل زبوں صیدے
یزداں بکمند آور اے ہمتِ مردانہ
یعنی انسان اگر اعمال اور اخلاق کی اعلی روایات کو اپناکر اور تسبیح و تہلیل کا پیکر بن کر فرشتوں کی صفت میں ابھر آئے، بلکہ فرشتوں کے سردار جبرئیل امین علیہ السلام کا بھی مظہر بن جائے، تب بھی وہ مقام انسانیت تک نہیں پہنچا، کیونکہ جبرئیل علیہ السلام تو نوع انسانی کے اعلی افراد یعنی انبیاء کرام علیہم السلام کی خدمت کرتے ہیں، اس لئے انسان کا مقام جبرئیل علیہ السلام کا مظہر بننا نہیں، بلکہ رب جبرئیل کی صفات کا مظہر ہونا ہے۔
حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’اللہ تعالی کے اخلاق سے متخلق اور اس کے اوصاف سے متصف ہو جاؤ‘‘۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ اگر انسان محض بھوک کے تقاضا سے کھانا کھائے اور طبعی محبت کے تقاضا سے اپنے بچوں کو پیار کرے تو وہ ایک بکری کے مقام سے آگے نہیں بڑھتا۔ کیونکہ ایک بکری بھی بھوک لگنے پر چارہ کھا لیتی ہے اور طبعی اقتضاء سے وہ بھی اپنے بچوں سے پیار کرلیتی ہے۔ مقام انسانیت یہ ہے کہ وہ کھانا کھائے تو صرف اس لئے کہ اللہ تعالی نے ’’کلوا واشربوا‘‘ (کھاؤ اور پیو) فرماکر اسے کھانے پینے کا حکم دیا ہے۔ اگر اس کا حکم نہ ہوتا تو اسے ہزار بار بھوک لگتی، مگر وہ کبھی کھانا نہ کھتا۔ اسی طرح بچوں کو پیار کرے تو صرف اس لئے کہ اس کا مولیٰ رحیم ہے اور کسی پر غضبناک ہو تو محض اس لئے کہ اس کا خالق قہار ہے اور قہر و غضب کی بجلیاں اسی پر گرائے، جس پر غیظ و غضب کرنے کا حکم اللہ تعالی نے دیا ہے۔
غرض یہ کہ انسان جو کام بھی کرے، اس کا محرک اور مقتضی نہ اس کی اپنی طبیعت ہو نہ اپنی خواہش، نہ کسی اور کی چاہت اور نہ کوئی دنیاوی تعلق اور غرض، بلکہ ہر کام کا داعی اور باعث اللہ تعالی کے احکام پر عمل کرنا اور اس کی صفات سے متصف ہونا ہو، یہاں تک کہ بندہ اللہ تعالی کے رنگ میں اپنے آپ کو رنگ کر پیکر خلق الہٰی کا نمونہ ہو جائے اور اس میں صفات خالق کی جھلک نظر آئے، یعنی انسان کا کردار اور عمل صفات الہیہ کا آئینہ بن جائے، یہاں تک کہ وہ ’’صبغۃ اللّٰہ ومن احسن من اللّٰہ صبغۃ‘‘ (ترجمہ: اللہ کا رنگ اور کس کا خوبصورت ہے اللہ کے رنگ سے) کا مقصداقِ اتم ہو جائے۔

TOPPOPULARRECENT