Friday , July 20 2018
Home / مذہبی صفحہ / معراج کی شب انسانی قیادت اُمت مسلمہ کو منتقل

معراج کی شب انسانی قیادت اُمت مسلمہ کو منتقل

معراجِ نبی اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم کا عظیم معجزہ ہے جوکہ درحقیقت اسلام کے عروج ، کمال اور مرکزیت کا اعلان ہے کہ اس شب توحید و رسالت کے دو عظیم الشان مراکز کعبۃ اللہ شریف اور مسجد اقصیٰ کو ضم کرکے ایک کردیا گیا جو بلاشبہ سابقہ آسمانی ادیان یہودیت اور مسیحیت کے قوانین کی منسوخی اور اسلام کے کامل و جامع شکل میں ظاہر ہونے نیز تاقیامِ قیامت ساری انسانیت کی قیادت اُمت اسلامیہ کو منتقل ہونے اور دعوت ابراہیمی اپنی حقیقی و ابدی منزل کو پہنچنے کی بشارت ہے ۔
روئے زمین پر پہلا خانۂ خدا کعبہ شریف ہے ۔ حضرت ابوذر غفاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و سلم ! روئے زمین پر سب سے پہلی کونسی مسجد ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : مسجد حرام ، میں نے عرض کیا : اس کے بعد کونسی مسجد ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا مسجد اقصیٰ ۔ میں نے عرض کیا : ان کے درمیان کتنی مدت رہی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : چالیس سال ۔ ( بخاری و مسلم )
پس مکہ مکرمہ نبی اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم کی جائے ولادت اور بعثت کا مقام ہے ۔ مسجد اقصیٰ نبی اکرم ﷺ کا مقام اسراء و معراج ہے اور مدینہ منورہ آپ ﷺ کی ہجرت گاہ اور آخری آرامگاہ ہے ۔ روئے زمین پر تین توحید و رسالت کے عظیم الشان اور متبرک مقامات ہیں ، تینوں نبی اکرم ﷺ سے منسوب ہوگئے ۔
دین اسلام میں حضرت سیدنا آدم اور حضرت سیدنا نوح علیھما السلام کے بعد تیسری اہم اور مرکزی ذات مقدسہ حضرت سیدنا ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ہے آپ کے بعد نبوت و رسالت آپ ہی کی نسل میں رہی ہے ۔ اور اسلام کے دو عظیم الشان مراکز فلسطین اور مکہ مکرمہ دونوں بھی آپؑ سے وابستہ ہیں۔
حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ولادت عراق کے مقام ’’اور‘‘ میں ہوئی ، جہاں بتوں کو توڑنے اور نمرود کی آگ میں ڈالے جانے اور آگ کا گل و گلزار بننے کے واقعات پیش آئے ۔ بعد ازاں آپؐ نے جنوبی ترکیا سے ہوتے ہوئے سرزمین کنعان ’’فلسطین ‘‘ پہنچے ۔ ارشاد الٰہی ہے : ہم نے ان کو (ابراھیم کو) اور لوط کو نجات دیکر ایسی سرزمین میں پہنچائے جس میں سارے جہانوں کے لئے برکت ہے ۔ ( سورۃ انبیاء ؍ ۷۱)
ایک زمانہ آپ ؑنے فلسطین میں قیام فرمایا ، بعد ازاں آپؑ مصر تشریف لے گئے ، بی بی ھاجرہ آپؑ کو دی گئیں ، کہا جاتا ہے کہ آپؑ بادشاہ وقت کی دختر یا کسی امیر کی صاحبزادی تھیں، پھر آپؑ فلسطین واپس ہوئے ’’القدس‘‘ اور ’’الخلیل‘‘ کے پہاڑوں پر قیام فرمایا ، اسی مقام پر حضرت ھاجرہ سے حضرت اسمعیل علیہ الصلوٰۃ والسلام اور کچھ عرصہ کے بعد حضرت سارہ سے حضرت اسحاق علیہ الصلوٰۃ والسلام تولد ہوئے۔ آپؑ نے بحکم الٰہی حضرت ھاجرہ اور حضرت اسمعیل علیھما الصلوٰۃ والسلام کو مکہ مکرمہ کی سنگلاخ وادی میں چھوڑدیا اور گاہے گاہے اُن کی ملاقات کے لئے جاتے آتے رہے اور حضرت اسمعیل علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ ملکر خانۂ کعبہ کی تعمیر کی لیکن آپؑ کی مستقل رہائش فلسطین ہی میں رہی ، حضرت ابراھیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات فلسطین میں ہوئی ۔ حضرت اسحق علیہ الصلوٰۃ والسلام فلسطین میں قیام پذیر رہے اور وہیں وفات پائے ۔ آپؑ کو اﷲ تعالیٰ نے حضرت یعقوبؑ سے سرفرا فرمایا ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کو حضرت یوسف علیہ السلام کے علاوہ گیارہ بچے تھے جو کچھ باہر رہنے کے بعد فلسطین ہی میں مقیم رہے ۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا مشہور قصہ پیش آیا ، بھائیوں نے آپؑ کو کنویں میں ڈالدیا ، جان لینا چاہا ، گزرنے والے قافلے نے آپؑ کو نکال کر مصر میں فروخت کیا ، مختلف آزمائشوں سے دوچار ہوکر مصر کے خزانوں پر مقرر ہوئے ، حضرت یعقوب علیہ السلام حضرت یوسف ؑ سے ملنے مصر گئے اور اولاد کے ساتھ ایک عرصہ مصر میں رہے لیکن وفات فلسطین میں ہوئی ، حضرت یوسفؑ اور ان کے بھائی مصر میں رہے ، ان کی نسل بڑھتی رہی پھر فرعون کی جانب سے بنی اسرائیل پر زمین تنگ ہوئی تو اﷲ سبحانہ و تعالیٰ نے نجات کے لئے حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مبعوث فرمایا وہ فرعون سے نجات دلاکر بنواسرائیل کو ارضِ مقدس فلسطین پہنچنے سے قبل حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا وصال ہوا، پھر بنواسرائیل فلسطین میں داخل ہوئے اور مختلف انبیاء آتے رہے لیکن حضرت داؤد علیہ السلام جن کی ولادت بیت اللحم میں ہوئی تھی ان کے ہاتھوں فلسطین فتح ہوا اور ایک مملکت قائم ہوئی ۔ حضرت داؤد علیہ السلام کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام جن کی ولادت ’’القدس‘‘ میں ہوئی تھی وارث مملکت ہوئے اور جن و انس آپ کے تابع ہوئے ۔ بعد ازاں حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ولادت بیت اللحم فلسطین میں ہوئی ۔ اس طرح فلسطین انبیاء علیھم الصلوٰۃ والسلام کا مرکز رہا اور اﷲ سبحانہ و تعالیٰ نے افضل الانبیاء خاتم النبین محمد عربی صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے لئے دنیا کے پہلے مرکز خانۂ کعبہ کو منتخب فرمایا ، مکہ مکرمہ میں آپ ﷺ نے بعثت کا اعلان فرمایا اور ہجرت سے قبل آپؐ کو انبیاء علیہم السلام کی سرزمین فلسطین کی سیر کرائی گئی اور مسجد اقصیٰ میں سارے انبیاء نے آپﷺ کی اقتداء میں نماز ادا کی گویا عالم ارواح میں انبیاء علیھم الصلوٰۃ والسلام سے جو عہد و میثاق لیا گیا تھا دنیا میں اس کا اظہار تھا اور اس بات کااعلان تھا کہ نبی اکرم ﷺ پر دعوتِ ابراھیمی مکمل ہوگئی اور ساری انسانیت کی مذہبی و روحانی قیادت صرف اور صرف نبی اکرم ﷺ کو حاصل ہے ۔ یہودیت اور مسییحت کے سارے قوانین منسوخ و کالعدم ہوگئے اور قانونِ محمدی اور شریعت مصطفوی قائم ہوگئی ۔
مکہ مکرمہ سے زمین کا آغاز ہوا اور کل حشر و نشر حساب و کتاب ارض فلسطین پر قائم ہوگا نیز سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیت شریفہ اور آخری آیت شریفہ درباطن یہودیت اور عیسائیت کے خاتمہ کا اعلان ہے لیکن دشمن اس پر اپنا حق ظاہر کرکے ظلم و ستم کی راہ میں جملہ حدود و قوانین کو بالائے طاق ڈال رہے ہیں اور یہی ارضِ مقدس ان کے لئے عذاب ، رسوائی ، ذلت اور بھیانک تباہی کی سرزمین بنے گی ۔

TOPPOPULARRECENT