Friday , December 15 2017
Home / Top Stories / معصوم مسلمانوں کو قیادت پھر دھوکہ دینے لگی

معصوم مسلمانوں کو قیادت پھر دھوکہ دینے لگی

شہری علاقہ میں 12 فیصد مکانات کو 10 فیصدکردیا گیا؟ طلبا کی فیس ادائی کا ذکر تک نہیں

حیدرآباد ۔ 24۔ اکتوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ اور بالخصوص حیدرآباد کے بھولے بھالے مسلمانوں کو آخر کب تک بے وقوف بنایا جائے گا ؟ مسلمانوں کی بھلائی کیلئے حکومت سے نمائندگی کا دعویٰ کرنے والی مقامی سیاسی جماعت کی حقیقت اس وقت آشکار ہوگئی جب چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے اقلیتی امور پر اعلیٰ سطحی اجلاس میں بعض اعلانات کرائے گئے۔ چیف منسٹر کی جانب سے جب کوئی اعلان کیا جارہا ہے تو اس بات کو پیش نظر رکھنا چاہئے کہ جس مسئلہ میں اعلان ہوگا ، اس بارے میں حکومت کا موقف پہلے سے کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے اقلیتوں کی بھلائی کے اعلانات کا مطلب موجودہ رعایات اور سہولتوں میں اضافہ ہوتا ہے لیکن یہاں تو معاملہ کچھ الٹا ہی ہے۔ ڈبل بیڈروم مکانات میں مسلمانوں کو 10 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا اور مقامی جماعت کے ’’برادران‘‘ نے اپنے ترجمان اخبار میں اس اعلان کا سہرا اپنے سر باندھنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی لیکن افسوس کہ حقیقت کچھ اور ہی ہے۔ حکومت نے ڈبل بیڈروم مکانات کے سلسلہ میں پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کیلئے جو فیصد پہلے سے طئے کیا ہے ، اس کے مطابق اقلیتوں کیلئے 12 فیصد کا کوٹہ مقرر کیا گیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ برادران کی نمائندگی سے مقررہ 12 فیصد کوٹہ میں اضافہ کے بجائے مزید کمی کس طرح ہوگئی۔ کیا یہی اقلیتوں کے حق میں مقامی جماعت کی کارکردگی ہے ؟ کسی بھی مسئلہ پر نمائندگی یا حکومت سے تیقن حاصل کرتے ہوئے اس بارے میں مکمل معلومات ہونی چاہئے بلکہ یہاں مقصد محض اعلانات کی آڑ میں اپنے مفادات کی تکمیل کرنا تھا۔ اسی لئے چیف منسٹر کے اجلاس میں پارٹی کے کسی بھی رکن اسمبلی کو شامل نہیں کیا گیا۔ برادران کی ’’ہدایت‘‘ پر عوام کے درمیان پہنچنے کیلئے مشہور رکن اسمبلی وہاں موجود تھے لیکن انہیں بھی اجلاس میں شامل کئے بغیر بھیج دیا گیا۔ علماء مشائخین کے وفد سے ملاقات کے وقت رکن اسمبلی موجود تھے اور انہیں امید تھی کہ شائد پہلی مرتبہ برادران انہیں بھی چیف منسٹر کے اجلاس پر بیٹھنے کا موقع فراہم کریں گے لیکن انہیں رکنے کے بجائے جانے کی ہدایت ملی ۔

چیف منسٹر کے جائزہ اجلاس میں ڈبل بیڈروم مکانات کیلئے مسلمانوں کو 10 فیصد کوٹہ الاٹ کرنے کا اعلان کیا گیا لیکن حکومت کے پہلے سے طئے شدہ رہنمایانہ خطوط کے تحت مسلمانوں کی حصہ داری 12 فیصد ہے۔ حکومت نے 26 نومبر 2015 ء کو جی او ایم ایس 12 جاری کرتے ہوئے ڈبل بیڈروم مکانات کیلئے رہنمایانہ خطوط جاری کئے ۔ جی او کے مطابق دیہی علاقوں میں ایس سی طبقات کیلئے 12 فیصد اور اقلیتوں کیلئے 7 فیصد کوٹہ مقرر کیا گیا جبکہ دیہی علاقوں میں ایس سی کیلئے 17 ، ایس ٹی کیلئے 6 اور اقلیتوں کیلئے 12 فیصد کوٹہ مقرر کیا گیا۔ جی او میں کہا گیا ہے کہ مقرر کردہ یہ کوٹہ کم سے کم ہے اور ضرورت کے اعتبار سے اس میں اضافہ کیا جاسکتا ہے ۔ افسوس کہ مقامی جماعت کی نمائندگی میں پہلے سے مقررہ کوٹہ میں مزید دو فیصد کی کمی کردی گئی ہے۔ جہاں کہیں بھی ڈبل بیڈروم مکانات کی تعمیر کا آغاز ہوا ہے ، وہاں مسلمانوں کیلئے علحدہ کوٹہ الاٹ کرنے کی کوئی مثال منظر عام پر نہیں آئی لیکن صرف کوٹہ مقرر کرتے ہوئے مسلمانوں کو خوش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلے سے طئے شدہ 12 فیصد کوٹہ درست ہے یا پھر چیف منسٹر کے اجلاس میں طئے شدہ 10 فیصد؟ اس سلسلہ میں نہ صرف حکومت بلکہ مقامی جماعت کو بھی جواب دینا ہوگا۔ چیف منسٹر کے اجلاس میں کئی اعلانات ایسے ہیں جو محض اعلان ہی برقرار رہیں گے جن پر عمل آوری آئندہ انتخابات تک ممکن نظر نہیں آتی۔ نئی اسکیمات اور خوش کن اعلانات کے بجائے ہونا یہ چاہئے تھا کہ مقامی برادران لاکھوں اقلیتی طلبہ کے تعلیمی مستقبل سے متعلق اسکالرشپ اور فیس باز ادائیگی اسکیمات کیلئے بجٹ کی اجرائی کا مطالبہ کرتے ۔

گزشتہ تین برسوں سے اسکالرشپ اور فیس باز ادائیگی پر عمل آوری برائے نام ہے۔ ہزاروں طلبہ فیس کی ادائیگی کے موقف میں نہیں اور انہیں کالجس کی ہراسانی کا سامنا ہے۔ ایک طرف طلبہ کے تعلیمی مستقبل سے کھلواڑ جاری ہے تو دوسری طرف انڈسٹریل اسٹیٹ اور آئی ٹی کاریڈار کے قیام کے اعلانات مضحکہ خیز ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اسلامک کلچرل کنونشن سنٹر کیلئے کوکا پیٹ میں 10 ایکر اراضی کی نشاندہی کا کام ابھی تک نہیں کیا گیا لیکن اجلاس میں اعلان کردیا گیا۔ تاریخی چارمینار کو گولڈن ٹمپل امرتسر اور موسیٰ ندی کو سابرمتی ندی گجرات کی طرح ترقی دینے کے اعلانات محض کان خوش کرنے کے علاوہ کچھ نہیں۔ اب جبکہ 27 ستمبر سے اسمبلی اور کونسل کا آغاز ہورہا ہے چیف منسٹر نے ایک سیاسی چال چلتے ہوئے برادران کو اجلاس پر مدعو کرتے ہوئے مختلف اعلانات کئے اور انہیں خوش کردیا۔ اب اسمبلی اجلاس میں مقامی جماعت کے پاس حکومت کی ستائش کے سوا کوئی اور راستہ نہیں رہ جائے گا۔ چیف منسٹر نے گزشتہ اسمبلی سیشن میں اقلیتوں سے متعلق جو وعدے کئے تھے، ان پر عمل آوری کس حد تک ہوئی اس بارے میں خود اقلیتی بہبود کے عہدیدار کچھ بھی کہنے سے قاصر ہیں۔ اسمبلی فلور سے چیف منسٹر یا کسی وزیر کا اعلان دراصل حکومت پالیسی ہوتا ہے اور اس پر عمل آوری ضروری ہے لیکن برسر اقتدار اور حلیف جماعت نے سیاسی مقصد براری کیلئے اسمبلی کے تیقنات کو بھی فراموش کردیا۔

TOPPOPULARRECENT